Saturday , September 22 2018
Home / Top Stories / اذان انٹرنیشنل اسکول کے خلاف دوسرے دن بھی احتجاج

اذان انٹرنیشنل اسکول کے خلاف دوسرے دن بھی احتجاج

پولیس پر حملے اور املاک کو نقصان پہونچانے پر کئی احتجاجیوں کے خلاف کیس
حیدرآباد ۔ 15 ۔ ستمبر : ( سیاست نیوز): شہر کے خانگی اذان انٹرنیشنل اسکول میں پیش آئے دلسوز واقعہ کے خلاف احتجاج آج بھی جاری رہا ۔ کل رات سے پولیس نے علاقہ میں سخت چوکسی اختیار کرلی تھی اور اسکول کے قریب دو کیلو میٹر تک دفعہ 144 نافذ کردیا گیا تھا ۔ اس دوران مقامی رکن اسمبلی کی کوشش بھی رائیگاں گئیں ۔ برہم نوجوانوں کے ہجوم نے واقعہ کے خلاف شدید غم و غصہ ظاہر کرتے ہوئے اذان اسکول کا رخ کیا ۔ تاہم انہیں پولیس نے روک لیا اور حراست میں لے لیا ۔ اس دوران ہلکا لاٹھی چارج اور پتھراؤ کے واقعہ پیش آیا ۔ دوسری طرف متاثرہ کمسن بچی کی حالت مستحکم بتائی گئی ہے ۔ جو ہاسپٹل میں زیر علاج ہے ۔ پولیس نے شہریوں میں پائے جانے والے غم و غصہ کو دیکھتے ہوئے امکانی احتجاج کے پیش نظر پولیس کی بھاری جمعیت کو طلب کرلیا تھا اور اسکول کے اطراف علاقوں میں پولیس کے دستے تعینات کردئیے گئے ۔ ضلع انتظامیہ اور ڈسٹرکٹ ایجوکیشنل ڈپارٹمنٹ کی ایک ٹیم نے بھی اذان اسکول کا دورہ کیا ۔ اور حالات کے پیش نظر اسکول کو تعطیل کا اعلان کردیا گیا تھا ۔ پر تشدد احتجاج اور املاک کو نقصان پہونچانے اور پولیس پر پتھراؤ کی مختلف شکایتیں ہجوم کے خلاف درج کرلی گئی ہیں ۔ شکایت گذاروں میں پولیس ملازمین اور عام شہری بھی شامل ہیں جب کہ اذان اسکول انتظامیہ کی جانب سے بھی املاک اور عملہ کو تشدد کا نشانہ بنانے کے خلاف شکایت گولکنڈہ پولیس میں کی گئی ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ ہاسپٹل میں زیر علاج کمسن بچی کی صحت پر ڈاکٹرس اور بھروسہ سنٹر کے افراد مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں ۔ تاہم بچی کے وفات پانے کی گمراہ کن افواہوں کے گشت کرنے سے پولیس اور شہری پریشانی کا شکار رہے ۔ آج شام ٹولی چوکی کے علاقہ میں مین روڈ پر بیانرس اور پلے کارڈز کے ذریعہ احتجاج کیا گیا ۔ اس دلسوز واقعہ کے خلاف چوکس سٹی پولیس نے علاقہ میں زائد دستوں کو تعینات کردیا ہے اور حالات مکمل قابو میں بنائے گئے ہیں ۔ اسکول عمارت میں عملہ کے علاوہ کسی کو جانے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے اور سٹی پولیس کے اعلی عہدیدار وقفہ وقفہ سے حالات کا جائزہ لے رہے ہیں ۔ کمسن بچی کی عصمت ریزی کے خلاف برہم عوامی ہجوم پر مقدمات اور ان کی گرفتاریوں سے علاقہ میں خوف پایا جاتا ہے اور عوام اس بات کا اظہار کررہے ہیں کہ انہیں احتجاج کے حق سے بھی روکا جارہا ہے ۔ ندیم کالونی ، حکیم پیٹ ، گلشن کالونی ، سمتا کالونی ، ولی کالونی ، برنداون کالونی ، محمدی لائن ، نراجا کالونی ، سوریہ نگر کالونی ، معراج کالونی کے علاوہ قلعہ گولکنڈہ و دیگر مقامات پر رات دیر گئے گرفتاریوں کی اطلاعات اور ہجوم میں نوجوانوں کی نشاندہی مقامی عوام میں مزید برہمی کا سبب بنی ہوئی ہے ۔ دریں اثناء اذان اسکول انتظامیہ نے اپنے غیر دستخطی بیان میں کمسن طالبہ کے ساتھ پیش آئے واقعہ کو افسوسناک و شرمناک قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ۔ ملزم کے خلاف سخت کارروائی کرنے میں پولیس کے ساتھ مکمل تعاون کا تیقن دیا ۔۔

TOPPOPULARRECENT