Wednesday , November 22 2017
Home / مذہبی صفحہ / اذان کی تعریف اور فضلیت

اذان کی تعریف اور فضلیت

مرسل : ابوزہیر نظامی

اذان کی تعریف : اذان کے معنیٰ آگاہ اور خبردار کرنے کے ہیں ۔لیکن اصطلاح شرع میں مخصوص طریقے اور مقررہ الفاظ کے ذریعہ لوگوں کوخبردار کرنے یعنی فرض نماز کی دعوت دینے کانام اذان ہے ۔
اذان کی فضیلت : اذان اذکار الٰہی میں ایک بہت بڑے رتبہ کی حامل ہے ۔ اس میں توحید و رسالت کی شہادت علی الاعلان ہوتی ہے۔ اس سے اسلام کی شان اور برکت کااظہار ہوتا ہے ۔ اس کی احادیث میں بڑی فضیلت آئی ہے ۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انبیاء ‘ شہداء کے بعد اذان دینے والے جنت میں داخل ہوں گے۔ بعض احادیث میں یہ بھی ہے کہ موذن کا مرتبہ شہید کے برابر ہے ۔ اور فرمایا کہ جہاں تک اذان کی آواز جاتی ہے وہاں تک کی سب چیزیں قیامت کے دن اذان دینے والے کے ایمان کی گواہی دیں گی اور ارشاد ہوا کہ اگر لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ اذان کہنے میں کس قدر ثواب ہے اور پھر ان کو یہ منصب بغیر قرعہ ڈالے نہ ملے تو وہ ضرور قرعہ ڈالیں گے ( یعنی سخت کوشش کریں گے ) نیز فرمایا کہ اگر کوئی شخص سات برس تک محض ثواب کے واسطے اذان کہے تو اس کیلئے دوزخ سے نجات اور جنت کی خوشخبری ہے ۔ (یہ اس لئے کہ اس نے حدیث اور قرآن کے موافق سات برس نہیں بلکہ سات دہائی ستر برس ‘ گویا تمام عمر اذان کہی ) اذان دیتے وقت شیطان پر نہایت خوف اور ہیبت طاری ہوتی ہے ۔ جس سے وہ بدحواس ہو کر بھاگتا ہے اور جہاں تک اذان کی آواز جاتی ہے نہیں ٹہرتا ۔ جس مقام پر اذان کہی جاتی ہے وہاں اللہ تعالیٰ کی رحمت نازل ہوتی ہے اور وہ مقام آفات و بلیات سے محفوظ رہتا ہے۔
(تنبیہ) اذان کی ضرورت چونکہ نماز کیلئے ہے اور نماز بغیر طہارت کے درست نہیں اس لئے پہلے طہارت یعنی وضو و غسل اور ان کے متعلقات کا ذکر کیا جاتا ہے ۔ اس کے بعد اذان کے مسائل لکھے جائیں گے ۔
(نصاب اہل خدمات شرعیہ، حصہ سوم، صفحہ ۸۸)

TOPPOPULARRECENT