Thursday , December 14 2017
Home / شہر کی خبریں / اراضیات سروے میں اوقافی اراضیات کے تحفظ پر خصوصی توجہ ضروری

اراضیات سروے میں اوقافی اراضیات کے تحفظ پر خصوصی توجہ ضروری

ریاست کے مسلمانوں کو مطمئن کرنے حکومت کو زرین موقع : مولانا حسین شہید کا اظہار خیال
حیدرآباد۔26ستمبر(سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ اراضیات کے تحفظ کے سلسلہ میں کئے جانے والے اقدامات کے دوران اوقافی اراضیات کے تحفظ پر خصوصی توجہ دے تاکہ ریاست میں موجود لاکھوں کروڑ کی اوقافی اراضیات کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔ مولانا حسین شہید نے ریاست میںجاری محکمہ مال کے اراضیات کے سروے کے دوران اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے سلسلہ میں اقدامات کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ریاست تلنگانہ میں اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے لئے حکومت کو اپنی سنجیدگی کے عملی اظہار کا زریں موقع ہے اور اس موقع سے حکومت تلنگانہ استفادہ کرتے ہوئے ریاست کے مسلمانو ںکو مطمئن کر سکتی ہے کیونکہ سابق میں اوقافی جائیدادوں کی تباہی کیلئے آندھرائی قیادتوں اور حکومتوں کو ذمہ دار قرار دیا جاتا رہا ہے لیکن اب جبکہ ریاست تلنگانہ میں تلنگانہ راشٹر سمیتی کی حکو مت ہے تو ایسی صورت میں حکومت پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ منظم سازش کے تحت اوقافی جائیدادوں کی تباہی کو روکنے کیلئے عملی اقدامات کے ذریعہ عوام کو اس بات سے واقف کروائے کہ 2014 میں تشکیل تلنگانہ نے تلنگانہ عوام کی صرف عزت نفس کا تحفظ نہیں کیا بلکہ تلنگانہ میں آندھرائی قیادت کی جانب سے جاری لوٹ کھسوٹ کوختم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے ۔ مولانا حسین شہید نے کہا کہ 2014 سے قبل ہوئی اوقافی جائیدادوں کی تباہی کیلئے ٹی آر ایس نے آندھرائی قائدین کو ذمہ دار قرار دینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی لیکن اب تلنگانہ راشٹر سمیتی کی حکومت میں تلنگانہ کے سیاستداں بھی اوقافی جائیدادوں کو تباہ کر رہے ہیں اور کئی اوقافی جائیدادوں پر غیر مجاز قابضین موجود ہیں جنہیں برخواست کروانے کے علاوہ اوقافی جائیدادوں کو بورڈ کے حوالے کرنے کا بہترین موقع میسر آیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سیاسی جماعتوں کے قائدین اور دردمندان ملت اسلامیہ کو چاہئے کہ وہ اس مسئلہ پر حکومت کو توجہ دلوائیں اور حکومت کو اس بات کیلئے مجبور کیا جائے کہ وہ فوری طور پر محکمہ مال کے تمام عہدیداروں کو ہدایت جاری کریں کہ جن اراضیات کے ریکارڈ میں اوقافی جائیداد درج ہے اس میں کوئی ترمیم نہ کریں اور نہ ہی قابضین کے ناجائز قبضہ کو جائز قرار دینے کی کوشش کریں۔ موالانا حسین شہید نے کہا کہ ریاستی حکومت کے عہدیداروں کی جانب سے اب پہلے اور دوسرے مرحلہ کے سروے کی بات کی جا رہی ہے اور دوسرے مرحلہ میں متنازعہ جائیدادوں کے سروے کا ادعا کیا جا رہا ہے اور یہ اشارے دیئے جا رہے ہیں کہ ریاست میں جاری اراضیات کے سروے کا دوسرا مرحلہ بھی ہوگا اور اس مرحلہ کے دوران اوقافی اراضیات کا سروے کیا جائے گا لیکن واضح طور پر یہ کہا جا رہا ہے کہ دوسرے مرحلہ میں متنازعہ اراضیات کا سروے کیا جائے گا ۔ انہوں نے بتایا کہ اگر اوقافی جائیدادوں کو متنازعہ اراضیات یا معاملات کی فہرست میں شامل کیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں ان جائیدادوں کی وقف بورڈ کو واپسی بھی انتہائی مشکل ترین عمل ہوجائے گی اور قانونی رسہ کشی میں اضافہ ہوگا اسی لئے حکومت کو سروے کے دوران ہی تمام اوقافی اداروں کی اراضیات کو محفوظ اوقافی اراضیات کے زمرہ میں رکھتے ہوئے ریکارڈ تیار کرنا چاہئے ۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT