Tuesday , January 23 2018
Home / شہر کی خبریں / اراضیات فروخت پر جاری کردہ جی اوز سے دستبرداری کا مطالبہ

اراضیات فروخت پر جاری کردہ جی اوز سے دستبرداری کا مطالبہ

حکومت کے عدم ردعمل پر احتجاج کا انتباہ : محمد علی شبیر کی پریس کانفرنس

حکومت کے عدم ردعمل پر احتجاج کا انتباہ : محمد علی شبیر کی پریس کانفرنس
حیدرآباد ۔ 10 جنوری (سیاست نیوز) ڈپٹی فلورلیڈر کونسل مسٹر محمد علی شبیر نے کہا کہ حکومت سرکاری اراضیات کی محافظ ہوتی ہے۔ تاہم 25 جی اوز جاری کرتے ہوئے تلنگانہ برائے فروخت کا بورڈ لگا دیا گیا ہے۔ حکومت فوری جی اوز سے دستبرداری اختیار کرے بصورت دیگر بڑے پیمانے پر احتجاجی مہم شروع کرنے کا انتباہ دیا۔ آج اسمبلی کے میڈیا پوائنٹ پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر محمد علی شبیر نے کہاکہ تلنگانہ کی 60 سالہ تحریک اور نوجوانوں کی خودکشیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے صدر کانگریس مسز سونیا گاندھی نے علحدہ تلنگانہ ریاست تشکیل دیا ہے۔ انتخابی مہم کے دوران سرکاری اراضیات کے ناجائز قبضوں کو برخاست کرتے ہوئے اراضیات حکومت کی تحویل میں لینے کا ٹی آر ایس نے وعدہ کیا تھا۔ تاہم اقتدار حاصل ہونے کے بعد چیف منسٹر مسٹر کے چندرشیکھر راؤ سرکاری اراضیات کے ناجائز قبضوں کو برخاست کرنے میں ناکام ہوگئے جو بھی سرکاری اراضیات ہیں انہیں فروخت کرنے کیلئے راتوں رات 25 جی اوز جاری کرتے ہوئے (سیل فار تلنگانہ) تلنگانہ برائے فروخت کے بورڈ لگا دیئے گئے ہیں۔ ایچ ایم ڈی اے کے کنزرویٹیو زون کو کمرشیل زون میں تبدیل کردیا گیا۔ ورنگل میں پارک کیلئے مختص اراضی کو ریزیڈنشیل زون میں تبدیل کردیاگیا۔ گرین زون کو ریزیڈنشیل زون میں تبدیل کردیا۔ جنگلاتی اراضیات کو فروخت کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ حکومت کے ان فیصلوں کی کانگریس پارٹی سخت مذمت کرتی ہے۔ اگر تمام سرکاری اراضیات کو فروخت کردیا گیا تو نئے اسکولس، کالجس، صنعتوں کے قیام کیلئے اراضیات کہاں سے لاؤگے حکومت سے استفسار کیا اور حکومت کو فوری اپنے فیصلے پر نظرثانی کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے اراضیات کی فروخت سے متعلق جاری کردہ تمام جی اوز سے دستبرداری اختیار کرنے کا مشورہ دیا۔ اگر حکومت اپنے فیصلے پر نظرثانی نہیں کرے گی تو تلنگانہ صحرا میں تبدیل ہوجانے کا دعویٰ کیا۔ مسٹر محمد علی شبیر نے مرکز سے تلنگانہ کو فنڈز حاصل کرنے میں ناکام ہونے کا چیف منسٹر مسٹر کے چندرشیکھر راؤ پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ کیوں ٹی آر ایس مرکزی حکومت پر دباؤ نہیں ڈال رہی ہے۔ کیا ٹی آر ایس اور وزیراعظم نریندر مودی اور بی جے پی میں کوئی میچ فکسنگ ہوگئی۔
اس کی وضاحت کرنے کا چیف منسٹر تلنگانہ سے مطالبہ کیا۔ اراضیات کی فروخت کیلئے جاری کردہ جی اوز سے عدم دستبرداری کی صورت میں رضاکارانہ تنظیموں سے ملاقات کرتے ہوئے حکومت کے خلاف احتجاجی مہم شروع کرنے کا انتباہ دیا۔

TOPPOPULARRECENT