Sunday , February 25 2018
Home / شہر کی خبریں / اراضیات کی فروخت میں حکومت کو کروڑہا روپئے کی دھوکہ دہی

اراضیات کی فروخت میں حکومت کو کروڑہا روپئے کی دھوکہ دہی

آئندہ ماہ سے مؤثرحکمت عملی اختیار کرنے عہدیداروں کا سخت اقدام
حیدرآباد۔14نومبر(سیاست نیوز) مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے حدود میں فروخت کی جانے والی اراضیات کے ذریعہ حکومت کو کروڑہا روپئے کا دھوکہ دیا جا رہاہے اور حکومت کی جانب سے اس دھوکہ دہی کا جائزہ لینے کے لئے اقدامات پر توجہ مرکوز کی جانے لگی ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ شہر حیدرآباد ‘رنگاریڈی اور میڑچل کے علاقو ںمیں جاری اراضیات کی فروخت کے سلسلہ میں حکومت اور محکمہ ریوینیو کے علاوہ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے علاوہ حیدرآباد اربن ڈیولپمنٹ اتھاریٹی سے کی جانے والی دھوکہ دہی کو روکنے کیلئے آئندہ چند ماہ کے دوران مؤثرحکمت عملی کی تیاری پر غور کیا جانے لگا ہے۔ باوثوق ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق وسیع اراضیات کی فروخت کے سلسلہ میں شہری حدود میں پنچایت کے لے آؤٹس کے استعمال کے ذریعہ کی جانے والی اراضیات کی فروخت کا جائزہ لیا جا رہاہے اور اب تک کی گئی فروخت کو کالعدم قرار دینے کے لئے محکمہ مال کے عہدیداروں کی جانب سے تجاویز تیار کی جا رہی ہیں تاکہ اس طرح عوام کو گمراہ کرنے والوں کے خلاف کاروائی کو ممکن بنایا جا سکے۔ حیدرآباد کے علاوہ اطراف کے ضلع کلکٹریٹ دفاتر کے عہدیداروں کے مطابق شہر حیدرآباد اور اطراف کے علاقہ جو کہ حیدرآباد میٹروپولیٹین اتھاریٹی کے حدود میں ہیں ان علاقو ںمیں پنچایت راج لے آؤٹ کے ذریعہ اراضیات کی فروخت کافی بڑا اسکام ہے اور بڑے پیمانے پر ہوئے اس اسکام کے سلسلہ میں اعلی عہدیداروں نے جائزہ لینا شروع کردیا ہے تاکہ حکومت اور محکمہ جات کو دیئے گئے اس دھوکہ کا پتہ چلایا جاسکے۔ بتایا جاتا ہے کہ شہر کے اطراف کی جائیدادوں پرکی جانے والی وسیع تعمیرات میں بھی پنچایت راج لے آؤٹ کے استعمال کے ذریعہ تعمیرات انجام دی جارہی ہیں جبکہ یہ علاقہ حیدرآباد میٹروپولیٹین ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کے حدود میں آتا ہے۔ اراضیات کے لے آؤٹ قوانین کے متعلق یہ کہا جا رہاہے کہ حیدرآباد میٹرو پولیٹین ڈیولپمنٹ کے حدود میں کی جانے والی اراضیات کی فروخت کیلئے ایچ ایم ڈی اے لے آؤٹ کا ہونا ضروری ہے لیکن بغیر لے آؤٹ کے اراضیات کی فروخت کے جرم سے بچنے کیلئے مواضعات سے حاصل کردہ پنچایت راج لے آؤٹ کے ذریعہ اراضیات کی فروخت عمل میں لائی جا رہی ہے جس کے سبب حیدرآباد میٹروپولیٹین ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کو کروڑہا روپئے کے نقصان برداشت کرنے پڑ رہے ہیں اس کے علاوہ شہری ترقیات کی جانب سے ترقیاتی عمل نہ ہونے کی شکایات کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے ۔ ایچ ایم ڈی اے کے عہدیدار نے بتایا کہ انتہائی شاطر طریقہ سے حکومت کو دیئے جانے والے اس دھوکہ کا شکارعوا م کو بھی بنایاجا رہاہے کیونکہ ایچ ایم ڈی اے کی ترقیاقی منصوبہ کی تیاری اس کے منظورہ لے آؤٹ کو نظر میں رکھ کر کی جاتی ہے اور جو پنچایت راج لے آؤٹ ہوتے ہیں ان کی ترقی ادارہ جات مقامی کی ذمہ داری ہوتی ہے اور وہ اپنے طور پر ان کی ترقی کا منصوبہ تیار کرتے ہیںلیکن شہری حدود میں اضافہ کے باوجود شہر میں فروخت کی جانے والی اراضیات کیلئے پنچایت لے آؤٹس کا استعمال کیا جانا شہر کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ثابت ہونے کے علاوہ ریاست کے خزانہ کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔

TOPPOPULARRECENT