Friday , November 24 2017
Home / شہر کی خبریں / اراضیات کے سادہ بیع ناموں کے اندرون 10دن رجسٹریشن کی ہدایت

اراضیات کے سادہ بیع ناموں کے اندرون 10دن رجسٹریشن کی ہدایت

پٹہ پر دی گئی اراضیات پر دوسروں کا قبضہ ‘ مستحق عوام محروم ۔ بدعنوانیوں کے خلاف عہدیداروں کو کے سی آر کی وارننگ

حیدرآباد۔23مئی ( سیاست نیوز) چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے ریاست تلنگانہ میں اراضیات سے متعلق پائے جانے والے تنازعات کی یکسوئی کرنے اور اراضیات کے ریکارڈز کو بہتر و صحیح بنانے کی تمام ضلعکلکٹروں کو سخت ہدایات دی ہیں اور کہا کہ پٹہ پر دی گئی اراضیات بڑی حد تک قبضہ ہوچکی ہیں ۔ لہذا ان اراضیات کو اصل حقدار اراضیات ( اسائنڈ لینڈ پٹہ دار ) کے حوالہ کرنے یا حکومت ان اراضیات کو واپس لینے کے اقدامات کئے جانے چاہیئے ۔ ڈاکٹر مری چنا ریڈی انسٹی ٹیوٹ برائے فروغ انسانی وسائل میں کلکٹروں کے ساتھ آج منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نجے کہا کہ ریاست تلنگانہ میں آج بھی اراضیات کی خرید و فروخت سادہ کاغذ پر  ( یعنی سادہ بیعنامہ پر) ہی کی جارہی ہیں ‘ اسطرح کی معاملتیں شاید رقومات کی کمی یا معلومات نہ رہنے کی وجہ سے ہورہی ہوں گی لیکن جب یہی اراضیات ( یعنی سادہ کاغذ پر خرید و فروخت کردہ ) جب 20تا 30سال بعد رجسٹریشن کروانے کیلئے لائی جارہی ہیں تو ان افراد کو کافی مشکلات و مسائل سے دوچار ہونا پڑرہا ہے ۔ لہذا ان حالات کی بہرصورت یکسوئی کرنا ضروری ہے ۔ چیف منسٹر نے 2جون تا 10جون سادہ بیعنامہ پر خرید و فروخت کی گئیں تمام اراضیات کا رجسٹریشن کرنے کی ضروری ہدایات دیں اور کہا کہ 2جون 2014 تک سادہ بیعناموں پر خرید و فروخت کی گئیں اراضیات ( جو کہ پانچ ایکڑ سے کم ہوں ) کو مفت رجسٹریشن کر کے ریکارڈز میں نام کی تبدیلی بھی عمل میں لائی جانی چاہیئے اور ان 8یوم کے دوران رجسٹریشن کی گئیں اراضیات کی مکمل تفصیلات کمپیوٹرائزڈ کر کے اپ ڈیٹ کرنے کی چیف منسٹر نے عہدیداران متعلقہ کو ہدایات دیں ۔ چیف منسٹر نے اس موقع پر کہا کہ بعض عہدیداروں پر الزام عائد کیا کہ خاندانی سلسلہ سے آنے والی اراضیات سے متعلق موٹیشن ( نام کی تبدیلی عمل میں لانے ) کرنے کیلئے بھاری رقومات حاصل کررہے ہیں اور رقومات کے بغیر کام انجام نہیں دیا جارہا ہے ۔

 

خاندانی سلسلہ سے متعلق حقوق کے مطابق نام کی تبدیلی کرنے کے سلسلہ میں بھی وقت کا تعین کیا جانا چاہیئے ۔ انہوں نے کہا کہ درخواست وصول ہونے کے دس یوم میں نام کی تبدیلی عمل میں لاکر گیارہویں دن مکمل تفصیلات ضلع کلکٹر روانہ کرنا چاہیئے اور درخواست داخل کر کے وقت پر ہی درخواست کی جانچ کر کے کوئی اعتراضات یا خامیاں ہوں تو اسی وقت درخواست گزار کو تفصیلات سے واقف کروا دیا جانا چاہیئے ۔ جن افراد کو معلومات نہیں ‘انہیں معلومات فراہم کر کے کسی قسم کی رقم لئے بغیر موٹیشن ( نام کی تبدیلی) کردینے کی سخت ہدایات دی گئی ۔ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے واضح طور پر کہا کہ خواہ کسی بھی علاقہ میں ہو اراضی کی خرید و فروخت کے ذریعہ رجسٹریشن ہونے کے اندرون 15 یوم نام کی تبدیلی ہوجانی چاہیئے اور 16ویں دن کلکٹروں کو تمام تفصیلات اپ لوڈ کئے جانے چاہیئے اور اس مقصد کیلئے خصوصی طور پر توجہ دینے کیلئے کلکٹریٹ میں ایک اسپیشل آفیسر کو تعینات کرنے کی ہدایت دیں ۔ مسٹر چندر شیکھر راؤ نے کہا کہ اب تک حکومت نے ریاست بھر میں 25لاکھ ایکڑ اراضیات غریب عوام کیلئے اسائینڈ کی ہے لیکن زیادہ تر اراضیات دیگر افراد کے ہاتھوں میں پائی جاتی ہیں جبکہ اسائینڈ کی ہوئی زیادہ تر اراضیات خالی پڑی ہوئی  رہتی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کم از کم اب تو یعنی علحدہ ریاست تلنگانہ کی تشکیل کے بعد اس صورتحال میں ضروری تبدیلی ہونی چاہیئے اور اسئینڈ اراضیات کی مکمل تفصیلات اکھٹا کریں اور یہ مکمل تفصیلات 30جون تک اکھٹاکی جانی چاہیئے تاکہ دیگر افراد کے پاس اراضیات پائی جانے کی صورت میں ان اراضیات کو حاصل کرلے کر دوبارہ دیگر غریب افراد کو مختص کی جاسکیں ۔ چیف منسٹر کے ساتھ اجلاس میں ڈپٹی چیف منسٹرس مسرس محمد محمود علی ‘ کے سری ہری ‘ وزیر داخلہ مسٹر این نرسمہا ریڈی ‘ وزیر فینانس ای راجندر ‘ وزارت انڈومنٹ و ہاؤزنگ اندرا کرن ریڈی ‘ ریاستی چیف سکریٹری ڈاکٹر راجیو شرما ‘ کمشنر سی سی ایل اے ریمنڈ پیٹر کے علاوہ مختلف محکمہ جات کے پرنسپال سکریٹریز کے علاوہ ضلع کلکٹرس و جوائنٹ کلکٹرس بھی شریک تھے ۔

TOPPOPULARRECENT