Thursday , June 21 2018
Home / ہندوستان / اراضی بل :ایک اور ہڑتال شروع کرنے انا ہزارے کا انتباہ

اراضی بل :ایک اور ہڑتال شروع کرنے انا ہزارے کا انتباہ

لاتور (مہاراشٹرا )12 مئی (سیاست ڈاٹ کام ) ممتاز سماجی جہد کار انا ہزارے نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کو کسانوں سے زیادہ کارپوریٹ شعبہ کی فکر لاحق ہے ۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مجوزہ اراضی حصولیابی بل میں مخالف کسان حصوں کو حذف نہ کیا جائے تو وہ ایک اور بھوک ہڑتال شروع کریں گے ۔ انا ہزارے نے پی ٹی آئی کو دیئے گئے ایک انٹرویو میںکہا کہ مو

لاتور (مہاراشٹرا )12 مئی (سیاست ڈاٹ کام ) ممتاز سماجی جہد کار انا ہزارے نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کو کسانوں سے زیادہ کارپوریٹ شعبہ کی فکر لاحق ہے ۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مجوزہ اراضی حصولیابی بل میں مخالف کسان حصوں کو حذف نہ کیا جائے تو وہ ایک اور بھوک ہڑتال شروع کریں گے ۔ انا ہزارے نے پی ٹی آئی کو دیئے گئے ایک انٹرویو میںکہا کہ مودی کو کسانوں سے زیادہ کارپوریٹ شعبہ کی فکر ہے ۔ انہوں نے اراضی قانون پر بی جے پی زیر قیادت این ڈی اے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح 2011 میں لوک پال مسئلہ پر بھوک ہڑتال کی گئی تھی وہ پھر ایک بار ملک گیر جیل بھرو احتجاج شروع کرسکتے ہیں ۔ حکومت مجوزہ قانون میں مخالف کسان حصوں کو نکال نہ دے تو پھر ایک اور احتجاج شروع کیا جائے گا ان کے دوسرا متبادل بھوک ہڑتال ہوگا جیسا کہ 2011 میں کی گئی تھی ۔ 77 سالہ جہد کار نے کہا کہ انہوں نے وزیر اعظم کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے موافق کسان تبدیلیوں کی خواہش کی ہے ۔ ہمیں جواب کا انتظار ہے اور توقع ہیکہ حکومت ضرور مثبت اقدامات کرے گی ۔

حکومت کو کچھ وقت دیا جانا ضروری ہے ۔ حکومت نے پہلے آر ڈیننس جاری کیا اور اس کے ساتھ ہی ملک بھر میں احتجاج شروع ہوگیا اس کے بعد وزیراعظم اور حکومت نے ہم سے کہا کہ اگر یہ بل مخالف کسان ہے تو پھر اس میں تبدیلی لائی جائے گی ۔ انہوں نے ہم سے تجاویز بھی طلب کی تھیں تا کہ اسے قانون سازی میں شامل کیا جاسکے ۔ چنانچہ جب ہم نے دیکھا کہ 13 اپریل کے دوسرے آر ڈیننس میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی تب ہم نے وزیر اعظم کو مکتوب لکھ کر ان کی توجہ مبذول کروائی ۔ کانگریس حکومت نے 2013 میں حصول اراضی بل متعارف کیا تھا جس میں کمپنیوں کیلئے اراضی حاصل کرنے میں پابندیاں لائیں ۔ اب مودی حکومت نے اپنی مرضی سے لفظ ’’خانگی کمپنی‘‘ کو ’’خانگی اداروں ‘‘ سے بدل دیا ہے ۔ ہم نے حکومت کو مکتوب لکھ کر اس پر اعتراض کیا کیونکہ اس تبدیلی کے نتیجہ میں کوئی بھی تنظیم جو چیریٹی کمشنر کے پاس رجسٹرڈ ہو ‘اراضی حاصل کرسکتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بل میں مخالف کسان شرائط رکھی گئی ہیںجس کی وجہ سے ایک مرتبہ اراضی لینے کے بعد کسی سے شکایت کرنا مشکل ہوجائے گا ۔ اس کے پس پردہ مقاصد بالکل واضح ہیں ۔

حکومت چاہتی ہیکہ اپنے لوگوں کیلئے اراضی کے حصول کا عمل آسان بنادے ۔ آپ اپنے لوگوں اور اپنی پارٹی کو فائدہ پہنچانا چاہتے ہیں اسی لئے آپ نے یہ تبدیلی کی ہے ۔ موجودہ این ڈی اے اور پیشرو یو پی اے حکومت میں موازنہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کانگریس حکومت نے کسانوں کیلئے یقیناً بعض اچھے کام کئے لیکن اس کے تمام فیصلے کسانوں کے مفادات میں نہیں تھے ۔ انہو ںنے کہا کہ اراضی حصولیابی بل کو موجودہ شکل میں ہی منظور کرلیا جائے تو کسانوں کی خودکشی کے واقعات بڑھ جائیں گے ۔ حکومت کو اندازہ ہیکہ وہ بل کو پارلیمنٹ میں منظور نہیں کراسکتی چنانچہ اب اپوزیشن کو تقسیم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ حکومت نے مغربی بنگال کو 7 ہزار کروڑ کا پیاکیج دیتے ہوئے ممتابنرجی کو رضا مند کرنے کی کوشش کی ہے ‘ لیکن دیگر جماعتیں اپنا موقف تبدیل کرنے کیلئے تیار نہیں۔

TOPPOPULARRECENT