اراضی بل کے خلاف اپوزیشن کا متحدہ مارچ

نئی دہلی ۔ 17 ۔ مارچ (سیاست ڈاٹ کام) مودی حکومت کے خلاف پہلی مرتبہ اپوزیشن جماعتوں نے اتحاد کا مظاہرہ کیا اور اراضی حصولیابی ایکٹ میں ترمیمات کے خلاف سونیا گاندھی کی زیر قیادت 14 سیاسی جماعتوں کے قائدین نے پارلیمنٹ تا راشٹرپتی بھون احتجاجی مارچ منظم کیا۔ 26 قائدین بشمول سابق وزرائے اعظم منموہن سنگھ اور دیوے گوڑا پر مشتمل وفد نے صدر جم

نئی دہلی ۔ 17 ۔ مارچ (سیاست ڈاٹ کام) مودی حکومت کے خلاف پہلی مرتبہ اپوزیشن جماعتوں نے اتحاد کا مظاہرہ کیا اور اراضی حصولیابی ایکٹ میں ترمیمات کے خلاف سونیا گاندھی کی زیر قیادت 14 سیاسی جماعتوں کے قائدین نے پارلیمنٹ تا راشٹرپتی بھون احتجاجی مارچ منظم کیا۔ 26 قائدین بشمول سابق وزرائے اعظم منموہن سنگھ اور دیوے گوڑا پر مشتمل وفد نے صدر جمہوریہ پرنب مکرجی سے ملاقات کی اور کسانوں کے مفادات کا تحفظ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے صدر جمہوریہ سے خواہش کی کہ وہ مودی حکومت پر اپنا اثر استعمال کریں کہ راجیہ سبھا میں ترمیمات کے ساتھ یہ بل پیش نہ کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ اس بل کا مقصد تقسیم اور سماجی ہم آہنگی کو متاثر کرنا ہے ۔ گزشتہ سال لوک سبھا انتخابات میں شکست کے بعد پہلی مرتبہ اپوزیشن جماعتوں نے ایسے اتحاد کا مظاہرہ کیا ہے اور اتنی بڑی تعداد میں بی جے پی زیر قیادت حکومت کے خلاف احتجاج منظم کیا ہے۔ سونیا گاندھی نے وفد کی صدر جمہوریہ سے ملاقات کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ہم مودی حکومت کی ترمیمات کی مخالفت کیلئے متحدہ طور پر یہاں آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اراضی حصولیابی اور بازآبادکاری و نوآبادکاری ایکٹ 2013 ء میں شفافیت لائی جانی چاہئے اور کسانوں کو معقول معاوضہ کا حق ملنا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ تمام پروگریسیو، سیکولر ، جمہوریت پسند طاقتیں مودی حکومت کے ان عزائم کو شکست دینے کا تہیہ کئے ہوئے ہیں جن کے ذریعہ سماجی تقسیم کی جارہی ہے اور ہم آہنگی کی فضاء مکدر کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم یہاں صدر جمہوریہ سے مداخلت کی درخواست لیکر آئے ہیں کہ ہمارے کسانوں کے مفادات کا تحفظ کریں

اور مودی حکومت کو راجیہ سبھا میں ترمیمات کے ساتھ بل پیش کرنے نہ دیں۔ اس مارچ کے کوآرڈینیٹر جنتا دل (یو) لیڈر شرد یادو نے کہا کہ اس بل کو ختم کرنے تک یہ لڑائی جاری رہے گی۔ انہوں نے اسے نہ صرف مخالف کسان بلکہ مخالف ہندوستان بھی قرار دیا۔قبل ازیں تمام بڑی سیاسی جماعتوں بشمول جنتا دل (یو) ، سماج وادی پارٹی ، ترنمول کانگریس ، سی پی آئی اور سی پی آئی ایم، این سی پی، عام آدمی پارٹی اور آئی این ایل ڈی کے 100 سے زائد ارکان پارلیمنٹ نے رائیزینا ہلز سے صدارتی محل تک ایک کیلو میٹر طویل مارچ منظم کیا۔

اراضی حصولیابی قانون دراصل یو پی اے دور میں سونیا گاندھی کی زیر قیادت نیشنل اڈوائزری کونسل کی ذہنی اختراع ہے۔ اس قانون میں کسانوں کی اراضیات حاصل کرنے کے خلاف سخت سزا کی گنجائش رکھی گئی تھی لیکن مودی حکومت نے ان میں آرڈیننس کے ذریعہ بعض ترمیمات کی ہیں تاکہ صنعتی اغراض کے لئے اراضی کا حصول آسان ہوسکے۔ حکومت کو ان ترمیمات کی راجیہ سبھا میں منظوری یقینی بنانے میں مشکلات پیش آرہی ہیں جہاں اسے درکار اکثریت حاصل نہیں۔ ان ترمیمات کے ذریعہ خانگی کمپنیوں کیلئے بڑے پراجکٹس کے مقصد سے اراضی کے حصول کی صورت میں 80 فیصد کسانوں کی رضامندی اور پی پی پی پراجکٹ کی صورت میں 70 فیصد کسانوں کی رضامندی کو ضروری نہیں قرار دیا گیا ہے۔ یادداشت میں کہا گیا کہ حکومت کا یہ اقدام زبردستی حصول اراضی کا راستہ کھول دے گا۔ یادداشت میں دیگر ترمیمات کی بھی صراحت کی گئی ہے جو مخالف کسان ہے۔پولیس نے ابتداء میں مارچ کی اجازت نہیں دی تھی لیکن اسے اپنا فیصلہ بدلنے کیلئے مجبور ہونا پڑا۔

TOPPOPULARRECENT