Tuesday , December 12 2017
Home / شہر کی خبریں / اراضی سروے میں اوقافی اراضیات کو خطرہ برقرار

اراضی سروے میں اوقافی اراضیات کو خطرہ برقرار

محکمہ اقلیتی بہبود اور وقف بورڈ خواب غفلت میں ، جی پی ایس ٹکنالوجی استعمال کرنے ماہرین کا مشورہ
حیدرآباد۔/22ستمبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے ریاست بھر میں اراضیات کی نشاندہی کیلئے 3 ماہ طویل جامع اراضی سروے کا آغاز کیا ہے لیکن اس سروے میں اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ اوقافی اراضیات کا تحفظ ہو۔ حکومت نے اگرچہ انڈومنٹ، اوقاف اور بودھان، زرعی اور دیگر نوعیت کی اراضیات کی نشاندہی کیلئے 15 ڈسمبر تک ہر گاؤں میں ریونیو عہدیداروں کی ٹیموں کو روانہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے لیکن محکمہ اقلیتی بہبود اور تلنگانہ وقف بورڈ کو اوقافی اراضیات کے تحفظ کی کوئی فکر نہیں ہے۔ اگر یہ سروے کسی طرح مکمل ہوجائے تو ہزاروں ایکر اوقافی اراضی جس پر قبضہ جات ہیں وہ قابضین کے نام کے ساتھ ریونیو ریکارڈ میں درج ہوجائے گی۔ سروے کے آغاز کو ایک ہفتہ گذر چکا ہے لیکن وقف بورڈ نے ابھی تک کوئی حکمت عملی تیار نہیں کی۔ ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے اس مسئلہ پر پیر کے دن اعلیٰ سطحی اجلاس طلب کیا ہے اور ایک روزہ طویل اجلاس میں اوقافی اراضیات کے تحفظ کے طریقہ کار کا جائزہ لیا جائے گا۔ 80 سال کے وقفہ کے بعد جامع سروے کیا جارہا ہے اور اوقافی اراضیات کے تحفظ کا اس سے بہتر اور کوئی موقع نہیں ہوسکتا۔ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ وقف بورڈ ابھی تک سروے سے استفادہ کے سلسلہ میں خواب غفلت کا شکار ہے۔ بورڈ کے اضلاع میں موجود انسپکٹرس آڈیٹرس کا اجلاس طلب کیا گیا تھا لیکن وقف انسپکٹر اس موقف میں نہیں کہ اپنے اضلاع میں موجود اوقافی اراضیات کی وقف ریکارڈ کے ساتھ نشاندہی کرسکیں۔ وقف بورڈ کی جانب سے ابھی تک متعلقہ انسپکٹرس کو ہر ضلع کا ریکارڈ حوالہ نہیں کیا گیا۔ لہذا وہ سروے میں مشغول عہدیداروں کے ساتھ تال میل سے قاصر ہیں۔ وقف انسپکٹرس کا رینک جونیر اسسٹنٹ کا ہوتا ہے اور اس رتبہ کا عہدیدار کس طرح ضلع کلکٹر سے نمائندگی کرتے ہوئے اوقافی اراضیات کا تحفظ کرپائے گا۔ اوقافی اراضیات کے تحفظ کے سلسلہ میں ماہرین کی رائے ہے کہ وقف بورڈ کو موجودہ انسپکٹرس پر انحصار کئے بغیر اراضی سروے کے ماہرین کی خدمات حاصل کرنی چاہیئے۔ تمام محکمہ جات میں جنگلات وہ واحد محکمہ ہے جس نے وقتاً فوقتاً سروے کا اہتمام کرتے ہوئے اپنی اراضیات کو محفوظ بنایاہے۔ حالیہ عرصہ میں حیدرآباد کے قرب و جوار اور ورنگل میں محکمہ جنگلات کی جانب سے ڈی جی پی ایس اور جی پی ایس جیسی عصری ٹکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے اراضیات کی نشاندہی کی گئی۔ اگر اسی طرح کا سسٹم وقف بورڈ کی جانب سے اختیار کیا جائے تو اوقافی اراضیات کا تحفظ ممکن ہے۔ محکمہ جنگلات میں اراضی کے سروے سے وابستہ رہے ایک سینئر آئی ایف ایس عہدیدار نے بتایا کہ جی پی ایس سسٹم کے ذریعہ پہلے مرحلہ میں وقف ریکارڈ کے مطابق اراضی کی سٹیلائیٹ کے ذریعہ میاپنگ اور نشاندہی کی جاسکتی ہے۔ وقف بورڈ میں جو بھی ریکارڈ موجود ہے اس کے مطابق اس سسٹم کے تحت اراضیات کی حد بندی کرتے ہوئے یہ تفصیلات ضلع کلکٹرس کو فراہم کی جانی چاہیئے تاکہ اسے ریونیو سروے میں شامل کیا جاسکے۔ موجودہ ازکار رفتہ طریقہ کار پر انحصار کرتے ہوئے وقف بورڈ اپنی اراضیات کا تحفظ نہیں کرپائے گا۔ وقف بورڈ میں ایک طرف سروے کے ماہرین کی کمی ہے اور جن سرویئرس کی خدمات حاصل کی گئیں وہ جی پی ایس اور ڈی جی پی ایس سسٹم سے ناواقف ہیں۔ وقف بورڈ اس سلسلہ میں کسی ماہر خانگی ادارہ کی خدمات حاصل کرسکتا ہے۔ وقف بورڈ کے پاس بجٹ کی کوئی کمی نہیں ہے لیکن اس کے صحیح استعمال کی ضرورت ہے۔ ریٹائرڈ آئی ایف ایس عہدیدار نے کہا کہ اگر وقف بورڈ ابھی بھی خواب غفلت سے بیدار ہوتا ہے تو 15 ڈسمبر تک ماہرین کی خدمات حاصل کرتے ہوئے جی پی ایس اور ڈی جی پی ایس سسٹم کے ذریعہ اپنی اراضیات کا تحفظ کرپائے گا۔ یہ اب حکومت اور وقف بورڈ پر منحصر ہے کہ وہ اراضیات کے تحفظ میں کس حد تک سنجیدہ ہے۔

TOPPOPULARRECENT