Tuesday , November 21 2017
Home / شہر کی خبریں / اراضی سروے میں تحفظ وقف اراضی کیلئے وقف بورڈ کے اہم رول پر زور

اراضی سروے میں تحفظ وقف اراضی کیلئے وقف بورڈ کے اہم رول پر زور

حیدرآباد۔/16 ستمبر، ( سیاست نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے کہا کہ حکومت کی جانب سے شروع کردہ جامع اراضی سروے میں اوقافی اراضیات کے تحفظ کیلئے وقف بورڈ اہم رول ادا کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کی تاریخ میں تقریباً 80 سال بعد وسیع تر اراضی سروے کا کل سے آغاز ہوا اور یہ 15 ڈسمبر تک جاری رہے گا۔ مواضعات کی سطح پر ایک ایک انچ اراضی کی نشاندہی کرتے ہوئے اسے ریونیو ریکارڈ میں شامل کیا جائے گا۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ جامع اراضی سروے اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کیلئے بہترین موقع ہے۔ وقف بورڈ کو اس سے بھرپور استفادہ کرنا چاہیئے۔ انہوں نے بتایا کہ محکمہ مال کو تمام اوقافی جائیدادوں کے ریکارڈ کی تفصیلات روانہ کی جائیں تو وہ ان کی جانچ کرتے ہوئے ریونیو ریکارڈ میں اسے بحیثیت وقف جائیداد درج کریں گے۔ اس طرح اوقافی جائیدادوں پر ناجائز قبضوں اور غیر قانونی فروخت کا سلسلہ ہمیشہ کیلئے بند ہوسکتا ہے۔ محمود علی نے کہا کہ اکثر جائیدادوں کے بارے میں وقف بورڈ کو یہ شکایت ہے کہ اسے ریونیو ریکارڈ میں سرکاری یا خانگی جائیداد کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔ اس طرح وقف بورڈ کو جائیدادوں اور اراضیات کے تحفظ میں دشواری ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اراضیات کے اس سروے سے استفادہ کرتے ہوئے وقف بورڈ کے عہدیداروں کو چاہیئے کہ وہ ہر ضلع میں موجود اوقافی جائیدادوں اور اراضیات کی تفصیلات متعلقہ ضلع کلکٹر کے حوالے کریں جو سروے ٹیموں کے ذریعہ اس کی جانچ کرتے ہوئے ریکارڈ کو درست کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ کئی اہم اراضیات کو اس سروے کے ذریعہ بچایا جاسکتا ہے۔ محمود علی نے کہا کہ وقف بورڈ اور ریونیو عہدیداروں میں بہتر تال میل کے ذریعہ ہزاروں کروڑ کی اراضیات ریونیو ریکارڈ میں شامل کی جاسکتی ہیں اور ان جائیدادوں کا استعمال مسلمانوں کی ترقی اور بہبود کیلئے کیا جاسکتا ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر بہت جلد وقف بورڈ کے عہدیداروں کے ساتھ جائزہ اجلاس منعقد کریں گے تاکہ اراضی سروے سے استفادہ کی حکمت عملی طئے کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اراضی سروے کے پہلے مرحلہ میں غیر متنازعہ اراضیات کو ریونیو ریکارڈ میں شامل کیا جائے گا۔ ایسی اراضیات جن کے معاملات عدالتوں میں زیر دوران ہیں ان پر دوسرے مرحلہ میں غور کیا جائے گا۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ اس سروے کے ذریعہ ریاست میں مختلف نوعیت کی تمام اراضیات کی حقیقی صورتحال منظر عام پر آجائے گی۔ حکومت اس سروے کے ذریعہ کسانوں کو فائدہ پہنچانا چاہتی ہے۔ آئندہ سال سے حکومت نے کسانوں کو دو فصلوں کیلئے فی ایکر 8 ہزار روپئے کی امداد کا اعلان کیا ہے لہذا اس سروے میں کسانوں کے تحت موجود اراضیات کی نشاندہی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے سروے کے اس منفرد منصوبہ کے ذریعہ ریاست کے عوام کی بھلائی کی سمت پیش رفت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے مواضعات کی سطح پر کسانوں کی کمیٹیاں تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے جو سروے میں عہدیداروں سے تعاون کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں غیر ضروری طور پر جامع سروے کی مخالفت کررہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتی بہبود کے اداروں کی کارکردگی کا جائزہ لینے کیلئے بہت جلد وہ اعلیٰ سطحی اجلاس طلب کریں گے۔

 

Top Stories

TOPPOPULARRECENT