Thursday , November 23 2017
Home / شہر کی خبریں / اراضی سروے میں شفافیت لانے ’’ کوربینکنگ ‘‘ نظام کی تیاری

اراضی سروے میں شفافیت لانے ’’ کوربینکنگ ‘‘ نظام کی تیاری

تنازعات اور قانونی پیچیدگیوں کو دور کرنے ریکارڈ کو آن لائن سے مربوط کرنے کے سی آر کی ہدایت

حیدرآباد۔/30اگسٹ، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ نے کہا کہ اراضی سروے کا کام انتہائی شفافیت، سادگی اور بالکل آسان طریقہ سے ہونا چاہیئے تاکہ کسانوںکے مفادات کو نقصان نہ پہنچے۔ اراضی کی تصحیح شدہ تفصیلات دیہاتوں میں آویزاں کی جائیں اور ان پر کسانوں کی دستخط بھی ہو۔ انہوں نے کہا کہ اراضی کے سروے کا یہ کام بالکل شفاف اور آسان طریقہ سے کیا جانا ضروری ہے۔چیف منسٹر نے آج پرگتی بھون میں محکمہ مال کے عہدیداروں کا اجلاس طلب کیا۔ اراضی سروے میں تمام ریکارڈ کو باقاعدہ بنانے تمام غلطیوں کو درست کرنے کا مشورہ دیا۔ تنازعات سے پاک 95 فیصد اراضی کو پہلے مرحلے میں سروے کرنے اراضیات کی تفصیلات سے متعلق قطعی فہرست گاؤں کے کسانوں کے دستخط حاصل کرتے ہوئے منظر عام پر لانے کا مشورہ دیا۔ اس اجلاس میں ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی، وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی آر، میئر جی ایچ ایم سی بی رام موہن ، چیف سکریٹری ایس پی سنگھ، گورنمنٹ وہپ پی راجیشور ریڈی کے علاوہ دوسرے قائدین اور عہدیدار بھی موجود تھے۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے کہا کہ زمانہ قدیم میں قدرتی وسائل ہی کسانوں کی پونجی ہوا کرتے تھے حکومت نے 8ہزار روپئے کسانوں کو سرمایہ کاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ عالمی سطح پر تمام ممالک کسانوں کا احترام کرتے ہیں۔ ریاست تلنگانہ میں زرعی سرگرمیوں کیلئے خوشگوار ماحول ہے اور اچھی کاشت بھی ہوتی ہے۔ آئندہ سال سے کالیشورم سے بھی معقول پانی دستیاب ہوگا۔ تالابو ں کو بھرتے ہوئے 7 اضلاع کو کالیشورم کے پانی سے مستفید کیا جائے گا۔ پہانی اور شیوار جیسے الفاظ کا تلگو زبان میں آسان ترجمہ کرنے کا عہدیداروں کو مشورہ دیا۔ اراضی سروے کو یقینی بنانے کیلئے 1193 ٹیمیں تشکیل دی جارہی ہیں۔ ایک ٹیم کو 9گاؤں کے سروے کرنے کی ذمہ داری سونپی جارہی ہے۔ تمام اراضی کے سروے کیلئے تین ماہ درکار ہوں گے ۔31 اضلاع کے کلکٹرس کو مکمل اختیارات دیئے جارہے ہیں کہ وہ کونسی ٹیم سے کونسے مواضعات کا سروے کراتے ہیں۔ چیف منسٹر نے اراضی سروے کے دوران غلطیوں کو درست کرنے اور تنازعات کو حل کرنے ہائی نمبر کے گول مال سسٹم کو ختم کرنے کسانوں کیلئے جو بھی قانونی پیچیدگیاں ہیں ان کو دور کرنے کی ہدایت دی۔ کروڑہا بینک کھاتوں کو موثر انداز میں نمٹا جارہا ہے ، اراضی کا بھی ’’ کوربینکنگ ‘‘ سسٹم تیار کرنے کا مشورہ دیا۔ اراضی ریکارڈ کو باقاعدہ بنانے کے بعد بینکنگ نظام کے طرز پر ہونے والی تبدیلیوں کو کمپیوٹرمیں محفوظ رکھنے پر زور دیا۔ 1000 انفارمیشن ٹکنالوجی عہدیداروں کی محکمہ مال میں خدمات سے استفادہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ پٹہ داروں کو تمام تفصیلات آن لائن دستیاب رکھنے کے اقدامات کرنے کی بھی ہدایت دی۔ اراضی سروے کی تکمیل سے قبل آئی ٹی آفیسرس کے تقررات کرنے ، کمپیوٹر اور سروور خریدتے ہوئے تمام تفصیلات کمپیوٹر سے مربوط کرنے پر زور دیا۔ رجسٹریشن کے بعد میوٹیشن کے عمل کو فوری اثر کے ساتھ پورا کرنے کا مشورہ دیا۔ اراضی رجسٹریشن کیلئے صرف ایک مرتبہ کسانوں کو رجسٹریشن آفس طلب کرنے بعد ازاں کوریئر کے ذریعہ گھروں تک پاس بکس روانہ کرنے کی عہدیداروں کو ہدایت دی۔ چیف منسٹر نے سوائے کلکٹر عدالت کے مابقی تمام ریونیو کورٹس کو منسوخ کرنے کے احکامات جاری کئے۔ قرض کیلئے کسانوں کے پاس بکس بینک میں جمع رکھنے کے نظام کو ختم کرنے اور کمپیوٹر ریکارڈ کی بنیاد پر کسانوں کو قرض منظور کرنے کے اقدامات کرنے پر زور دیا۔ 31 اگسٹ کو تمام اضلاع کلکٹرس، آر ڈی اوز کے علاوہ محکمہ مال کے دوسرے عہدیداروں کے ساتھ اجلاس طلب کرنے کا فیصلہ کیا۔

TOPPOPULARRECENT