Monday , December 18 2017
Home / ہندوستان / اراضی لیز قانون کی تیاری پر مرکز کا غور

اراضی لیز قانون کی تیاری پر مرکز کا غور

کیرالا اور مغربی بنگال کی مخالفت ۔ دیگر ریاستوں کا مثبت رد عمل
نئی دہلی 12 مئی ( سیاست ڈاٹ کام ) نیتی آیوگ کے تجویز کردہ ماڈل اراضی لیز قانون پر بیشتر ریاستوں کی جانب سے مثبت رد عمل کے بعد مرکزی حکومت اس سلسلہ میں قانون سازی کا منصوبہ بنا رہی ہے ۔ نیتی آیوگ نے جاریہ سال کے اوائل میں اس قانون کی تجویز پیش کی تھی جس کے تحت ملک کی تمام ریاستوں میں زرعی اراضی کو لیز پر دینا قانونی ہوجائیگا ۔ امید کی جا رہی ہے کہ ا س سے ان افراد کی مدد ہوسکتی ہے جو اپنی زرعی اراضی رسمی طور پر دوسروں کو کاشت کیلئے دینا پسند نہیں کرتے ۔ نیتی آیوگ نے مسودہ قانون ریاستوں کو روانہ کرتے ہوئے ان سے رائے طلب کی تھی اور کہا گیا ہے کہ بیشتر ریاستوں نے خاص طور پر بی جے پی اقتدار والی ریاستوں نے اس کی تائید کی ہے ۔ صرف دو ریاستیں ایسی ہیں جنہوں نے مثبت رد عمل ظاہر نہیں کیا ہے ۔ یہ ریاستیں مغربی بنگال اور کیرالا ہیں۔ نیتی آیوگ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ہم کو بیشتر ریاستوں سے خاص طور پر بی جے پی ریاستوں سے مثبت رد عمل مل رہا ہے ۔ جیسے ہی تمام ریاستوں کا رد عمل مل جائیگا ہم اسے مزید کارروائی کیلئے دفتر وزیر اعظم کو روانہ کردینگے ۔ ذرائع کے بموجب مرکزی حکومت ریاستوں سے ملنے والی تجاویز کی بنیاد پر قانون سازی کریگی ۔ تاہم انہوں نے کہا کہ چونکہ اراضی ریاست کا مسئلہ ہے اس لئے یہ ریاست پر لازما قابل عمل نہیں ہوگا ۔ ریاستیں اپنے طور پر فیصلے کا اختیار رکھتی ہیں۔ فی الحال اراضیات کی لیز ( قولداری ) پر کیرالا ‘ جموںو کشمیر اور گجرات میں امتناع ہے اور ان ریاستوں کا کہنا ہے کہ یہ در اصل سابقہ زمینداری نظام کی یادگار ہے ۔ ٹاملناڈو جیسی ریاستوں میں اس کی کچھ شرائط کے ساتھ اجازت ہے ۔

TOPPOPULARRECENT