اراضی معاملتیں کانگریس دور میں ہوئیں ‘ ٹی آر ایس کے ہاتھ صاف

اسمبلی میں مباحث کل تک ملتوی ۔ چیف منسٹر کا جواب ۔ ریونت ریڈی کو اظہار خیال سے روک دیا گیا

اسمبلی میں مباحث کل تک ملتوی ۔ چیف منسٹر کا جواب ۔ ریونت ریڈی کو اظہار خیال سے روک دیا گیا
حیدرآباد 20 نومبر ( سیاست نیوز ) ریاستی اسمبلی میں آج اراضی الاٹمنٹ مسئلہ پر زبردست ہنگامہ آرائی ہوئی اور مباحث کو کل تک کیلئے ملتوی کردیا گیا ۔ چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے ایوان میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ متنازعہ اراضی الاٹمنٹس میں ٹی آر ایس کا کوئی رول نہیں ہے اور جو کچھ بھی الاٹمنٹس ہوئے ہیں وہ سابقہ کانگریس اور تلگودیشم حکومتوں کے دور میں ہوئے ہیں۔ اراضی الاٹمنٹس مسئلہ پر جب تلگودیشم کے رکن ریونت ریڈی اظہار خیال کرنا چاہتے تھے اس وقت برسر اقتدار جماعت کے ارکان نے انہیں ایوان میں اظہار خیال سے روک دیا ۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے اپنے جواب میں بھی ریونت ریڈی کو تنقید کا نشانہ بنایا ۔ چندر شیکھر راؤ نے سابقہ حکومتوں کے دور میں ہوئی اراضی معاملتوں پر ایوان میں بیان دیا ۔ جب ریونت ریڈی اظہار خیال کیلئے اٹھ کھڑے ہوئے تلنگانہ راشٹرا سمیتی کے ارکان نے انہیں اظہار خیال سے روک دیا اور مطالبہ کیا کہ وہ برقی کے مسئلہ پر ایوان کو گمراہ کرنے پر پہلے معذرت خواہی کریں۔ پہلے ایوان کی کارروائی کو نصف گھنٹے کیلئے ملتوی کیا گیا تھا کیونکہ ٹی آر ایس ارکان مسلسل یہ اصرار کر رہے تھے کہ ریونت ریڈی پہلے ایوان سے معذرت خواہی کریں۔ تاہم ایوان کی کارروائی کا دو گھنٹے بعد دوبارہ آغاز ہوا ۔ اس وقت اسپیکر ایس مدھو سدن چاری نے اعلان کیا کہ سماجی پنشن مسئلہ پر ایوان میں مباحث ہونگے جس پر چیف منسٹر کل ہی ایوان میں بیان دے چکے ہیں۔ ٹی آر ایس کے رکن جی بالا راجو نے تحریک توجہ دہانی کے ذریعہ اراضی معاملتوں کا مسئلہ اٹھایا تھا اور انہوں نے مطالبہ کیا تھا کہ حکومت اس پر وضاحتیں کرے۔ چیف منسٹر نے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ( ایوان کے باہر ) تلگودیشم رکن اسمبلی ریونت ریڈی کی جانب سے عائد کردہ الزامات کی تردید کی اور ان کا نام لئے بغیر ان کو تنقید کا نشانہ بنایا ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ ان کی حکومت کے ہاتھ صاف ہیں کیونکہ تمام معاملتیں سابقہ کانگریس حکومت کے دور میں کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام فائیلس بشمول بیس و نوٹ فائیلس جو حیدرآباد کے اطراف اراضی معاملتوں سے متعلق ہیں اسپیکر کو پیش کی جائیں گی تاکہ ہر رکن اس کا جائزہ لے سکے ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ ہم اس مسئلہ پر تفصیلی مباحثہ کیلئے تیار ہیں۔ چیف منسٹر نے کہا کہ کوئی بھی الزامات عائد کرسکتا ہے لیکن یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ ان کو ثبات کریں۔ اگر وہ الزامات ثابت نہیں کرسکتے تو اس طرح کے ارکان کو ایوان سے نکال باہر کیا جانا چاہئے ۔ ہر پارٹی کو اس کی تائید کرنی چاہئے تاکہ ایوان کا وقار بحال رہے ۔ اقتدار مستقل نہیں ہوتا ۔ انہوں نے اس طرح کے بے بنیاد الزامات عائد کرنے والوں سے غیر مشروط معذرت خواہی کا مطالبہ کیا ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ ایسے ارکان کو پہلے ایوان کو گمراہ کرنے پر معذرت خواہی کرنی چاہئے اس کے بعد ہی ایوان کی کارروائی میں حصہ لینا چاہئے ۔ انہوں نے برہمی کے عالم میں سوال کیا کہ کیا عوامی زندگی میں ہتک کرنے کا یہی طریقہ ہے ؟ ۔ انہوں نے کہا کہ یہ کتنی تکلیف کی بات ہے کہ لوگ چیف منسٹر اور ان کے افراد خاندان کو بدنام کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ وہ اس موقع میں عوام کی تائید سے آئے ہیں۔ انہوں نے تلنگانہ کیلئے علیحدہ ریاست کا موقف حاصل کرنے اپنی زندگی داؤ پر لگادی تھی ۔ عوام نے ہمیں ان کی تائید فراہم کی ہے تاکہ ترقی کی راہ پر نئی ریاست کی قیادت کریں۔ ہم یہاں کسی کے نامزد کرنے پر نہیں آئے ہیں۔ چیف منسٹر کا بیان مکمل ہونے کے بعد ریونت ریڈی اپنی پارٹی کا موقف پیش کرنے کیلئے اٹھے لیکن ٹی آر ایس ارکان اسمبلی بھی اٹھ کھڑے ہوئے اور ان کو روکتے رہے ۔ وزیر تعلیم جگدیش ریڈی نے کہا کہ ریونت ریڈی کو پہلے ایوان سے معذرت خواہی کرنی چاہئے کیونکہ انہوں نے گمراہ کن بیانات دئے ہیں۔ امور مقننہ کے وزیر ٹی ہریش راؤ نے بھی جگدیش اور دوسرے ارکان کی تائید کی ۔ اسپیکر نے تاہم ریونت ریڈی کو اظہار خیال کی ہدایت دی لیکن ٹی آر ایس ارکان نے انہیں اظہار خیال کا موقع نہیں دیا ۔ اسپیکر نے ایوان کی کارروائی نصف گھنٹے کیلئے ملتوی کردی ۔ جب ایوان کی کارروائی کا دوبارہ آعاز ہوا توجہ دہانی تحریک پر مباحث نہیں ہوئے اور پنشن امور کو ایجنڈہ بنایا گیا ۔ اس پر اپوزیشن ارکان نے اعتراض کیا ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ پنشن اسکیم کا مسئلہ عوامی اہمیت کا ہے اور اراضی معاملتوں کے مسئلہ پر کل بحث کئے جاسکتے ہیں۔ اسپیکر نے اعلان کیا کہ توجہ دہانی تحریک پر مباحث کل وقفہ سوالات کے فوری بعد ہونگے ۔

TOPPOPULARRECENT