Wednesday , December 12 2018

اراضی معاملت میں دھوکہ دہی ‘ رکن اسمبلی کے بھائی کو جیل جانا پڑا

کمشنر سائبر آباد کے سخت گیر موقف سے سیاسی اثر و رسوخ کے باوجود ملزم کو بچانے میں ناکامی
حیدرآباد 3 مارچ ( سیاست نیوز ) : جعلسازی ، دھوکہ دیہی ہو یا پھر فرضی دستاویزات کی تیاری اور اراضیات پر قبضہ کے معاملات ہوں کہا جاتا ہے کہ بغیر سیاسی اثر و رسوخ ایسے معاملات کو انجام دینا مشکل ہے چونکہ اس اثر و رسوخ سے بچنے میں آسانی ہوتی ہے لیکن ایک شخص کو گھریلو سیاسی طاقت رکھنے کے باوجود بھی جیل کی سزا کاٹی پڑی ۔ کافی تگ و دو کے باوجود شہر کے ایک رکن اسمبلی اپنے بھائی کو بچا نہیں سکے ۔ دھوکہ دیہی کا معاملہ منظر عام پر آنے کے بعد پولیس کارروائی سے بچنے اس شخص کوششوں پر پانی پھر گیا چونکہ کمشنر سائبر آباد کا انداز ہی کچھ ایسا ہے ۔ مشہور ہے کہ ان کے سامنے سیاسی اثر و رسوخ کی ایک نہیں چلتی ۔ اس کڑے تیور کے پیش نظر رکن اسمبلی کے بھائی بے بس ہوگئے اور انہیں جیل کی سلاخوں میں وقت گذارنا پڑا ۔ بتایا جاتا ہے کہ ایک اراضی معاملہ میں دھوکہ دیہی کے متعلق شکایت پر پولیس نے کارروائی انجام دی اور تحقیقات میں رکن اسمبلی کے بھائی کو بھی گرفتار کرلیا گیا ۔ باوثوق ذرائع کے مطابق پولیس تحقیقات کے دوران گرفتار شخص کو یہ اطمینان تھا کہ وہ علاقہ میں مشہور کاروباری ہیں اور ان کے بھائی رکن اسمبلی ہیں لہذا پولیس ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی لیکن اقدامات توقعات کے عین خلاف ہوئے اور امیدوں پر پانی پھیر گیا ۔ پولیس کے مطابق تقریبا ایک ہفتہ سے زائد وقت جیل میں گذارنے کے بعد رکن اسمبلی کا بھائی باہر آگیا ہے لیکن جیل جانے سے زیادہ تکلیف پولیس کارروائی کی ہوئی ہے اور ان سے زیادہ تکلیف رکن اسمبلی کو ہوئی جن کا بھائی جیل کی روٹیاں توڑچکا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ پولیس نے جو ہر چھوٹے معاملہ میں بڑھ چڑھ کر تشہیر کرتی ہے ایک بڑے معاملہ میں کوئی تشہیر نہیں کی بلکہ پریس کانفرنس اور وقت کا اعلان کرنے کے باوجود پریس کانفرنس کو بہانہ بناکر منسوخ کردیا گیا اور گرفتار افراد بشمول رکن اسمبلی کے بھائی کو خاموش عدالت سے رجوع کردیا گیا اور پولیس اس معاملہ کو اہمیت نہ دیتے ہوئے غیر اہم واقعہ تصور کیا تھا لیکن بے ایمانی کی بات باہر آہی گئی ۔ سائبر آباد پولیس کے نچلی سطح کے عہدیدار رکن اسمبلی کی مدد کیلئے تیار ہیں لیکن اعلی عہدیدار بالخصوص کمشنر کے سخت اقدامات سے وہ خوفزدہ ہیں ۔ دوسری طرف رکن اسمبلی بھی اپنے سیاسی آقاؤں کی مدد اس معاملہ میں حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہوگئے ہیں ۔ جس کا افسوس ان کے سیاسی حواریوں کے حلقوں میں محسوس کیا گیا اور وہ اس بات سے شدید تکلیف کا شکار ہیں کے اپنے بھائی کو بچا نہیں سکے ۔

TOPPOPULARRECENT