Saturday , September 22 2018
Home / اضلاع کی خبریں / اراضی پر غیر قانونی قبضہ کے مسئلہ پر خصوصی توجہ

اراضی پر غیر قانونی قبضہ کے مسئلہ پر خصوصی توجہ

بیدر /27 نومبر ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) ریاستی وزیر برائے ووڈ اینڈ سیول سپلائیز پر زمینات ہتھیانے کا سنگین الزام عائد کیا گیا ہے ۔ اس پس منظر میں سیاسی حلقوں میں یہ بحث جاری ہے کہ کیا وزیر اعلی سدرامیا ڈسمبر کے دوسرے ہفتہ میں بلگام میں منعقدشدنی توسیع اجلاس سے قبل اپنی کابینہ میں توسیع اور ردوبدل کے موقع پر دنیش گنڈوراؤ کو کابینہ سے ہٹاد

بیدر /27 نومبر ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) ریاستی وزیر برائے ووڈ اینڈ سیول سپلائیز پر زمینات ہتھیانے کا سنگین الزام عائد کیا گیا ہے ۔ اس پس منظر میں سیاسی حلقوں میں یہ بحث جاری ہے کہ کیا وزیر اعلی سدرامیا ڈسمبر کے دوسرے ہفتہ میں بلگام میں منعقدشدنی توسیع اجلاس سے قبل اپنی کابینہ میں توسیع اور ردوبدل کے موقع پر دنیش گنڈوراؤ کو کابینہ سے ہٹادیں گے ۔ بی جے پی لیڈروں کی جانب سے یہ مسئلہ ا ٹھائے جانے اور اس سلسلہ میں ریاست گیر احتجاج کی دھمکی کے پیش نظر وزیر اعلی سدرامیا اس مسئلہ پر توجہ دے رہے ہیں ۔ زمین پر ناجائز قبضہ سے متعلق معلومات اکھٹا کی جارہی ہے اور اب تک کی معلومات کے مطابق انہوں نے وزیر برائے قانونی امور ٹی بی جئے چندر اور قانونی ماہرین سے مشورہ بھی کئے ہیں ۔ قانونی مہرین نے وزیر اعلی کو یہ مشورہ دیا ہے کہ موجودہ حالات میں دنیش گنڈوراؤ کو کابینہ سے ہٹادینا حکومت کیلئے بہتر ہوگا ۔ لیکن وزیر اعلی نے قانونی ماہرین کے اس مشورہ کو بھی قبول کرنے سے آمادگی ظاہر نہیں کی ہے اور انہیں فوری طور پر کابینہ سے ہٹانا مناسب نہیں سمجھتے اور انہوں نے ایسا کوئی فیصلہ ابھی نہیں کیا ہے ۔ وزیر اعلی انتظار کر رہے ہیں کہ کیا دنیش گنڈو راؤ خود ہی ان الزامات کی روشنی میں وزارت سے اپنا استعفی پیش کریں گے ۔ اگر وہ خود استعفی پیش نہیں کریں گے تو اپوزیشن کے دباؤ کو وجہ بتاکر ان سے استعفی طلب کیا جائے گا ۔ ڈسمبر کے دوسرے ہفتہ میں بلگام کے سورنا سودھا میں اسمبلی اجلاس سے قبل ومے راعلی اس معاملہ میں کوئی ٹھوس قدم ضرور اٹھائیں گے ۔ لوک آیوکت نے اس م عاملہ میں جو رپورٹ طلب کی تھی اس کی روشنی میں بنگلور نارتھ تعلقہ کے باہنکا کے تحصیلدار بالپا ہنری گنڈنے اپنی رپورٹ میں واضح کیا ہے کہ دنیش گندو راؤ کے خاندان والوں نے تقریباً 30 تا 40 کروڑ روپئے مالیت کی زمین اکوائر کی ہے ۔ اس طرح سدرامیا کی کایبنہ میں اب غیر قانونی طریقہ سے زمین پر قبضہ کے الزام میں ایک اور وزیر کو استعفی دینے کی نوبت آسکتی ہے ۔ ایس آر ہیرے مٹھ کی پرزور تحریک کے نتیجہ میں 2013 کے اسمبلی اجلاس سے قبل غیر قانونی کانکنی معاملہ میں ملوث ریاستی وزیر سنتوش لاڈ وزارت سے استعفی دیا تھا ۔ اب انہیں کی عمر کے ایک کم عمر وزیر دنیش گنڈو راؤ پر بھی زمینات پر قبضہ کا الزام عائد ہے اور 2014 ڈسمبر کے اسمبلی اجلاس تک شاید اس معاملہ کے منظر عام پر آنے کے بعد جنگ آزادی کے محرک ایچ ایس دورے سوامی نے زمینات پر قبضہ جمانے والے افراد کے خلاف اپنی تحریک کو اور زیادہ متحرک کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ دوسری جانب سابق رکن اسمبلی اے ٹی رام سوامی کا گروپ ہیرے مٹھ کی تائید کا اعلان کرچکا ہے ۔ سدرامیا نے بارہا بیان دیا ہے کہ وہ زمینات پر قبضہ جمانے والوں کو جیل بھیج دیں گے ۔ ان کے خلاف غنڈہ ایکٹ کے تحت کارروائی کریں گے ۔ اس سلسلہ میں جو بل تیار کیا گیا تھا اسے صدر ہند کی منظوری حاصل کی جانے والی ہے ۔ زمینات پر ناجائز قبضہ جمانے والوں کو اس قانون میں 3 سال کی سزا دینے کا قانون بھی شامل ہے ۔ پارٹی ہائی کمان سے مشورے اور ہدایت پر اب 20 نومبر سے قبل بوثرڈس کارپوریشنوں کی تشکیل کردی جائے گی اور اس کے بعد وہ کابینہ توسیع کی جانب قدم اٹھائیں گے ۔ وزیر اعلی نے بورڈس کارپوریشنوں کیلئے چند اراکین اسمبلی کو چیرمین بنانے ہائی کمان سے منظوری حاصل کرلی ہے اور کابینہ کے چند موجودہ وزراء کو ہٹانے کی بھی انہوں نے ٹھان لی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT