Friday , September 21 2018
Home / مذہبی صفحہ / ارتداد اور توبہ

ارتداد اور توبہ

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے کہا کہ ’’خالق مجبور ہے عبادت کا‘‘ اس کے دوستوں نے کہا کہ ایسا نہیں کہنا چاہئے مگر زید اپنی بات پر اڑا رہا۔ایسی صورت میں زید اب بھی مسلمان ہے یا کیا ؟ شرعاً کیا حکم ہے ؟
جواب : اللہ سبحانہ وتعالیٰ قادر مطلق اور بے نیاز ہیں۔ زید کا قول موجب کفر ہے۔ عالمگیری کتاب السیر موجبات الکفر میں ہے : یکفر اِذا وصف اللہ تعالیٰ بما لا یلیق بہ أو تمسخر باسم من أسمائہ أو بأمر من أوامرہ أو أنکر وعدہ و وعیدہ أو جعل لہ شریکا أو ولداً أو زوجتہ أو نسبہ اِلیٰ الجھل أو العجز أو النقص۔ لہذا زید کو چاہئے کہ توبہ کرے اور اپنے کہے ہوے جملہ سے براء ت کا اظہار کرے۔ عالمگیری باب احکام المرتدین میں ہے: وان تبرأ عما انتقل الیہ کفی کذا فی المحیط۔
زمین کے بیچنے کے بعد ورثہ کا حق باقی نہیں رہتا
سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ نے اپنی زر خرید زمین بکر اور ان کے بھائی کو فروخت کردی اور مکمل رقم بھی حاصل کرلی اس کے بعد ہندہ کا انتقال ہوگیا ۔ بعد ازاںبکر اور ان کے بھائی نے وہ جائیداد دوسروں کے ہاتھ فروخت کردی، اس کے بعدبکر بھی فوت ہوگئے۔ البتہ ان کے بھائی زندہ ہیں، مذکورہ جائیداد سے متعلق ہندہ مرحومہ کی دختر نے دعویٰ پیش کیا ہے اور اپنے حصہ کا مطالبہ کر رہی ہے۔
جواب : بشرط ثبوت ہندہ نے اپنی زر خرید زمین فروخت کر کے بکر اور ان کے بھائی سے قیمت بھی لے لی تھی تو اب وہ اراضی ہندہ کی ملک نہیں رہی کیونکہ ایجاب و قبول سے بیع منعقد ہوجاتی ہے ۔ البیع ینعقد بالایجاب والقبول … فاذا حصل الایجاب و القبول لزم البیع ۔ (قدوری کتاب البیوع) اس لئے مذکورہ اراضی پر مرحومہ ہندہ کی دختر کا ادعا غیر درست ہے ۔ فروخت شدہ اراضی سے سابقہ مالک یا ان کے ورثاء کا کوئی تعلق نہیں۔
حوض کی لمبائی اور چوڑائی
سوال : کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک مسجد کا حوض انیس(۱۹) ذراع لانبا ہے تو اس کی چوڑائی کتنی ہونی چاہئے تاکہ حوض کا پانی دہ در دہ ہوجائے ؟
بینوا تؤجروا
جواب : صورت مسئول عنہا میں لانبائی انیس (۱۹) ذراع ہے تو اس حوض کی چوڑائی ساڑھے پانچ ذراع رکھی جائے تو یہ حوض دہ در دہ ہوجائے گا۔ فتاوی تاتارخانیہ جلد اول ص :۱۶۹ میں ہے ۔ وعامۃ المشایخ أخذ وا بقول أبی سلیمان و قالوا اذا کان عشرا فی عشر فھو کثیر ، وفی شرح الطحاوی و علیہ الفتوی اور ص :۱۷۲ میں ہے ۔ ان کان عرضہ ذرا عایجب أن یکون طولہ مائۃ ذراع حتی یصیر فی معنی عشر فی عشر ، وان کان عرضہ ذرا عین یجب ان یکون طولہ خمسین ذراعا۔ اور در مختار بر حاشیہ رد المحتار جلد اول ص : ۱۴۲ میں ہے ۔ ولولہ طول لا عرض لکنہ یبلغ عشرا فی عشر جاز تیسیرا اور ردالمحتار میں ہے (قولہ لکنہ یبلغ الخ) کأن یکون طولہ خمسین و عرضہ ذرا عین مثلا فانہ لو ربع صار عشرا فی عشر۔ فقط واﷲتعالیٰ اعلم

TOPPOPULARRECENT