Wednesday , November 21 2018
Home / Top Stories / اردغان کی پارٹی سے قوم پرست جماعت کا اتحاد ختم

اردغان کی پارٹی سے قوم پرست جماعت کا اتحاد ختم

انقرہ 23 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) ترکی کے اصل قوم پرست گروپ کے لیڈر نے عام معافی کے مجوزہ قانون پر پیدا شدہ تنازعہ کے پیش نظر رجب طیب اردغان کی حکمراں جماعت کے ساتھ جاری انتخابی مفاہمت سے دستبرداری کا فیصلہ کیا ہے۔ دولت بہچلی قوم پرست تحریک پارٹی (ایم ایچ پی) نے جون میں بیک وقت منعقدہ پارلیمانی و صدارتی انتخابات کے موقع پر اردغان کی انصاف و ترقی پارٹی (اے کے پی) سے مفاہمت کی تھی جس کو عام طور پر صدر اردغان کی فتح میں معاون و مدد اقدام کے طور پر دیکھا گیا تھا۔ تاہم بہچلتی اپنی پارٹی کے ارکان اور قانون سازوں سے خطاب کے دوران اعلان کیاکہ 31 مارچ میں ہونے والے مجالس مقامی کے انتخابات میں ایسی کوئی مفاہمت نہیں رہے گی۔ ان انتخابات میں انقرہ اور استنبول کے بشمول ملک بھر کے تمام اہم شہروں کے میئرس منتخب کئے جائیں گے۔ ایم ایچ پی نے اے کے پی پر زور دیا تھا کہ مجرمین کے لئے عام معافی کے قانون میں گینگسٹرس کو بھی شامل کیا جائے لیکن اس تجویز کو زیادہ اہمیت نہیں دی گئی۔ بہچلی نے کہاکہ ’’اگر ایک جماعت مسترد کردی جاتی ہے اور اس کو قدم پیچھے ہٹانے کے لئے مجبور کیا جاتا ہے تو کوئی بھی اتحاد باقی و برقرار نہیں رہ سکتا۔ چنانچہ اس عمل کو مزید وسعت دینے کا اب کوئی مقصد و مطلب باقی نہیں رہا ہے کیوں کہ یہ اب کافی کہنہ و پیچیدہ ہوگیا ہے‘‘۔

اردغان کی تقریر پر سویڈن اور ڈنمارک کا ردعمل
انقرہ ۔ 23 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) صدر ترکی رجب طیب اردغان نے کہا کہ سعودی عرب نے سعودی صحافی و مصنف جمال خشوگی کا سازش کرنے کے بعد قتل کیا ہے۔ اس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کارگذار وزیراعظم سویڈن اسٹیفن لاف وین نے کہا کہ ایسا معلوم ہوتا ہیکہ باوثوق ذرائع سے بعض ہولناک واقعہ پیش آیا ہے لیکن یہ نہیں کہا جاسکتا کہ حقائق کو مزید زیرالتواء رکھا جارہا ہے۔ ان کے پڑوسی ملک ڈنمارک کے وزیرخارجہ اینڈرس سیمول سین نے سعودی سفیر کو طلب کرکے کہا کہ جلد از جلد ایک اجلاس اس سلسلہ میں منعقد کیا جائے گا۔ اب بھی کئی سوالات کے جواب واضح نہیں ہیں اور ان کے خیال میں ہر ایک کو وضاحت کا کافی موقع دیا جانا چاہئے۔

TOPPOPULARRECENT