Sunday , November 19 2017
Home / ہندوستان / ’’اردو، ہند۔ پاک کی خلیج پاٹ سکتی ہے‘‘

’’اردو، ہند۔ پاک کی خلیج پاٹ سکتی ہے‘‘

نئی دہلی /5 فروری (سیاست ڈاٹ کام) اردو ہندوستان اور پاکستان کے عوام کے درمیان بہتر فہم و ادراک پیدا کرسکتی ہے، دونوں ملکوں کے ممتاز شعراء نے آج اس تاثر کا اظہار کیا۔ پرفیسر وسیم بریلوی نے کہا کہ پاکستان میں ایسے کئی لوگ ہیں، جو ہندوستانی شعراء کا اردو کلام پڑھتے ہیں۔ حتی کہ دیوناگری یا رومن طرز تحریر میں لکھی گئی شاعری بھی مقبولیت حاصل کر رہی ہے۔ سرحد کی دونوں جانب کے عوام ہندوستان اور پاکستان کے شاعروں کے اردو کلام کو سمجھنا چاہتے ہیں اور یہ زبان دونوں ملکوں کے درمیان خلیج پاٹنے کا کام کر رہی ہے۔ 75 سالہ شاعر وسیم بریلوی نے کہا کہ دونوں ملکوں کو یکساں مسائل کا سامنا ہے اور اردو زبان دونوں طرف کے عوام کے درمیان ایک دوسرے کے تئیں بہتر فہم و ادراک پیدا کرنے میں مدد کر رہی ہے۔ پاکستان کے شاعر پیرزادہ قاسم نے بھی اسی قسم کے افکار کا اظہار کیا۔ انھوں نے کہا کہ اردو پہلے سے ہی دونوں ملکوں کے درمیان پل کی مانند ہے اور ہمیں اس پل کو برقرار رکھنا ہے، کیونکہ یہ (زبان) دونوں ملکوں کو جوڑ رہی ہے۔ پاکستان کے ایک اور شاعر، ڈرامہ نگار اور نغمہ نگار امجد اسلام امجد نے کہا کہ اردو زبان سے دونوں ملکوں کا بھلا ہو رہا ہے، اس لئے اسے فروغ دیتے رہنا ضروری ہے۔ یہ شعراء اردو سمپوزیم کے موقع پر اظہار خیال کر رہے تھے۔ اس موقع پر وزیر اقلیتی امور نجمہ ہبۃ اللہ، صدر نیشنل کانفرنس فاروق عبد اللہ، سابق اسپیکر لوک سبھا میرا کمار اور وائس چانسلر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ضمیر الدین شاہ بھی موجود تھے۔

TOPPOPULARRECENT