Wednesday , December 12 2018

اردو اکیڈیمی اور حج کمیٹی کو تلنگانہ اور آندھرا میں تقسیم کرنے کی ہدایت

دونوں ریاستوں کی وقف جائیدادوںکے سروے کا کام بھی متعلقہ عہدیداروں کی ذمہ داری

دونوں ریاستوں کی وقف جائیدادوںکے سروے کا کام بھی متعلقہ عہدیداروں کی ذمہ داری
حیدرآباد۔یکم جولائی، ( سیاست نیوز) چیف سکریٹری تلنگانہ حکومت راجیو شرما نے آج مختلف محکمہ جات کے اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ مختلف کارپوریشنوں اور سرکاری اداروں کی تقسیم کا جائزہ لیا۔ انہوں نے شیڈول 10میں شامل سرکاری اداروں اور ان کے ملازمین کی تقسیم کے سلسلہ میں مختلف محکمہ جات سے رپورٹ حاصل کی اور کمل ناتھن کمیٹی کی سفارشات کے مطابق اداروں کی تقسیم کا عمل جلد مکمل کرنے کی ہدایت دی۔ اجلاس میں سماجی بھلائی سے متعلق اداروں کے علاوہ اقلیتی بہبود کے اداروں کی تقسیم کا بھی جائزہ لیا گیا۔ ایس سی، ایس ٹی، بی سی اور اقلیتوں سے متعلق مختلف اداروں کی تقسیم کا عمل جلد مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی۔ محکمہ اقلیتی بہبود کے سکریٹری جناب احمد ندیم، منیجنگ ڈائرکٹر اقلیتی فینانس کارپوریشن پروفیسر ایس اے شکور، چیف ایکزیکیٹو آفیسر وقف بورڈ جناب ایم اے حمید کے علاوہ دیگر اداروں کے عہدیداروں نے شرکت کی۔ جناب احمد ندیم نے شیڈول 10میں شامل اقلیتی اداروں کی تقسیم کی تازہ ترین صورتحال سے واقف کرایا۔ ان اداروں میں اردو اکیڈیمی، حج کمیٹی، اقلیتی کمیشن اور سنٹر فار ایجوکیشنل ڈیولپمنٹ آف میناریٹیز شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اقلیتی اداروں کی تقسیم کا عبوری خاکہ تیار کرلیا گیا ہے اور حکومت کے رہنمایانہ خطوط حاصل ہوتے ہی باقاعدہ طور پر ان اداروں کو تقسیم کردیا جائے گا۔ چیف سکریٹری نے ان اداروں کی تقسیم میں تیزی پیدا کرنے کی ہدایت دی اور کہا کہ اردو اکیڈیمی اور حج کمیٹی کو تلنگانہ اور آندھرا میں تقسیم کرتے ہوئے علحدہ نام رکھ دیئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ اور آندھرا کے نام سے علحدہ اردو اکیڈیمی اور حج کمیٹی کے قیام کے بعد ملازمین کی تقسیم کا عمل شروع کیا جائے۔ چیف سکریٹری نے بتایا کہ سروے کمشنر وقف کی تقسیم کے بعد کمشنریٹ میں موجود آندھرا کے ملازمین اپنی ریاست اور تلنگانہ کے ملازمین تلنگانہ ریاست میں موجود اوقافی جائیدادوں کے سروے کا کام مکمل کریں گے۔ سروے کمشنریٹ کے ملازمین کی خدمات میں توسیع آج مکمل ہوچکی ہے لیکن حکومت کی جانب سے خدمات میں توسیع کے سلسلہ میں باقاعدہ احکامات جاری نہیں کئے گئے۔ اسی طرح سروے کمشنر وقف کی خدمات میں توسیع سے متعلق فائیل محکمہ فینانس کے پاس زیر التواء ہے جس کے باعث وہ گذشتہ تین ماہ سے تنخواہ اور الاؤنس کے بغیر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ چیف سکریٹری نے عہدیداروں کو بتایا کہ ملازمین کی تقسیم کے سلسلہ میں بہت جلد رہنمایانہ خطوط جاری کئے جائیں گے لہذا تمام محکمہ جات کو اپنے طور پر تیار رہنا چاہیئے انہیں ادارہ کے آندھرا اور تلنگانہ ملازمین کی علحدہ فہرست تیار رکھنی چاہیئے تاکہ تقسیم کے عمل میں سہولت ہو۔ واضح رہے کہ اقلیتی فینانس کارپوریشن کو پہلے مرحلہ میں ہی تقسیم کردیا گیا لیکن ملازمین کے الاٹمنٹ میں تاخیر کے سبب ابھی تک دونوں ریاستوں کے کارپوریشن علحدہ خدمات کی انجام دہی سے قاصر ہے۔ حج ہاوز کی چھٹویں منزل پر آندھرا پردیش اقلیتی فینانس کارپوریشن کیلئے باقاعدہ دفتر بھی الاٹ کردیا گیا ہے لیکن کارپوریشن کی کارکردگی کا ابھی آغاز نہیں ہوا۔ بتایا جاتا ہے کہ دیگر محکمہ جات کے مقابلہ میں اقلیتی اداروں نے ملازمین کی تقسیم کا عمل عملاً تیار کرلیا ہے اور انہیں صرف سرکاری ہدایات کا انتظار ہے۔

TOPPOPULARRECENT