Wednesday , January 24 2018
Home / شہر کی خبریں / اردو اکیڈیمی اور حج کمیٹی کی تشکیل کی سرگرمیاں شروع

اردو اکیڈیمی اور حج کمیٹی کی تشکیل کی سرگرمیاں شروع

اندرون ایک ہفتہ تقررات کا امکان، خواہشمند قائدین کی طویل فہرست
حیدرآباد۔ 3 جنوری(سیاست نیوز) تلنگانہ اقلیتی کمیشن کی تشکیل کے بعد کے سی آر حکومت نے اردو اکیڈیمی اور حج کمیٹی کی تشکیل کی تیاری شروع کردی ہے۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر رائو نے دونوں اداروں کی تشکیل سے متعلق فائیل طلب کی ہے اور توقع ہے کہ اندرون ایک ہفتہ دونوں اداروں پر نامزدگی کا عمل مکمل ہوجائے گا۔ حکومت نے تین سال کی مدت کے لیے محمد قمرالدین کو تلنگانہ اقلیتی کمیشن کا صدرنشین مقرر کیا ہے۔ ان کے ہمراہ ایک نائب صدرنشین اور 5 ارکان کا تقرر بھی عمل میں آیا۔ حکومت کی تشکیل کے بعد سے ٹی آر ایس کے اقلیتی قائدین کو نامزد عہدوں پر تقررات کا انتظار تھا۔ حکومت نے 5 مسلم قائدین کو کارپوریشنوں کا صدرنشین نامزد کیا لیکن بورڈ آف ڈائرکٹرس کا تقرر ابھی تک عمل میں نہیں آیا۔ ان میں اقلیتیوں سے متعلق ادارے سیٹ ون اور اقلیتی فینانس کارپوریشن کے لیے پارٹی کے کئی قائدین مسلسل پیروی کررہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق چیف منسٹر اردو اکیڈیمی اور حج کمیٹی کے صدرنشین اور ارکان کے ساتھ دیگر کارپوریشنوں کے بورڈ آف ڈائرکٹرس پر تقررات کے حق میں ہیں تاکہ پارٹی سے دیرینہ طور پر وابستہ اقلیتی قائدین کو نمائندگی دی جاسکے۔ اردو اکیڈیمی اور حج کمیٹی میں صدرنشین کا عہدہ سیاسی شخصیت کو دیا جاسکتا ہے جبکہ ارکان کی تعداد محدود ہے۔ حج کمیٹی میں سنٹرل پارلیمنٹری ایکٹ کے تحت صدرنشین سمیت ارکان کی تعداد 16 ہوگی۔ رکن پارلیمنٹ، ایم ایل سی یا ایم ایل اے، وقف بورڈ صدرنشین کے علاوہ مجالس مقامی سے 5 ارکان اور 5 مذہبی شخصیتوں کو شامل کیا جاسکتا ہے۔ مابقی 2 ارکان سماجی کارکن ہوسکتے ہیں۔ ایگزیکٹیو آفیسر حج کمیٹی کنوینر ممبر ہوں گے۔ اسی طرح اردو اکیڈیمی میں صدرنشین کے بشمول ارکان کی تعداد 11 تک محدود رہے گی۔ تلنگانہ سوسائٹیز ایکٹ کے تحت یہ حد مقرر کی گئی ہے۔ صدرنشین کے علاوہ نائب صدرنشین، سکریٹری اقلیتی بہبود، کمشنر یا ڈائرکٹر اقلیتی بہبود، فینانس سکریٹری، شاعر، ادیب، دانشور، صحافی، اردو تنظیم کے نمائندے، معزز شخصیت اور سماجی کارکن کے زمرے جات میں ایک ایک رکن کو نامزد کیا جائے گا۔ ڈائرکٹر سکریٹری اردو اکیڈیمی ممبر سکریٹری ہوں گے۔ اقلیتوں سے متعلق اداروں میں یہ دو ادارے ہی تقررات کے لیے خالی ہیں اور بیشتر اقلیتی قائدین کی نظریں ان اداروں پر ٹکی ہوئی ہیں۔ ارکان کی تعداد کو دیکھیں تو کم نشستوں کے لیے امیدواروں کی تعداد کافی زیادہ ہے۔ اقلیتی کمیشن کی تشکیل کے بعد سے دونوں اداروں میں جگہ پانے کے لیے اقلیتی قائدین کی جدوجہد تیز ہوچکی ہے۔ حج کمیٹی اور اردو اکیڈیمی کی صدارت کے لیے بھی کئی دعویدار میدان میں ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر نے دونوں اداروں کے لیے صدرنشین کے ناموں کا انتخاب تقریباً مکمل کرلیا ہے جبکہ ارکان کے ناموں کے سلسلہ میں سینئر قائدین سے مشاورت کے بعد تقررات عمل میں آئیں گے۔ بتایا جاتا ہے کہ ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی کو پارٹی کے سینئر اور مستحق قائدین اور کارکنوں کی فہرست پیش کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے اور اسی فہرست سے قائدین کا انتخاب عمل میں آئے گا۔ ذرائع کے مطابق سرکاری اداروں میں نمائندگی سے محروم قائدین کو پارٹی کے عہدے دیئے جاسکتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT