Tuesday , April 24 2018
Home / شہر کی خبریں / اردو اکیڈیمی پر مقامی جماعت کی دعویداری سے تشکیل میں تاخیر

اردو اکیڈیمی پر مقامی جماعت کی دعویداری سے تشکیل میں تاخیر

ٹی آر ایس قائدین میں ناراضگی اور بے چینی
حیدرآباد۔22 ۔ جنوری (سیاست نیوز) تلنگانہ اردو اکیڈیمی کی تشکیل کیلئے سرگرمیاں جاری ہیں اور حکومت کی حلیف مقامی جماعت کی دعویداری کے سبب ٹی آر ایس قائدین میں ناراضگی اور بے چینی دیکھی جارہی ہے ۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ حکومت نے جیسے ہی حج کمیٹی اور اردو اکیڈیمی کے لئے ناموں کو قطعیت دیدی، مقامی جماعت نے کسی ایک ادارہ پر ان کی سفارش کردہ شخص کو صدرنشین نامزد کرنے کیلئے چیف منسٹر سے نمائندگی کی ۔ حکومت نے حج کمیٹی کی تشکیل کا اعلان کردیا ، لہذا اب اردو اکیڈیمی کی تشکیل باقی ہے اور امکان ہے کہ یہ ادارہ مقامی جماعت کو الاٹ کیا جاسکتا ہے۔ اس مسئلہ پر ٹی آر ایس پارٹی میں ناراضگی پائی جاتی ہے کیونکہ اردو اکیڈیمی کی صدارت کیلئے پارٹی میں کئی مضبوط دعویدار ہیں۔ چیف منسٹر نے صدارت کیلئے اپنے دیرینہ رفیق اور تلنگانہ تحریک میں سرگرم حصہ لینے والے بزرگ اردو شاعر صوفی سلطان قادری کے نام کو قطعیت دی ہے ۔ تاہم مقامی جماعت صدارت کے عہدہ کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہے جس کے نتیجہ میں اردو اکیڈیمی کی تشکیل میں تاخیر ہوئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ قانون ساز کونسل میں گزشتہ سال مقامی جماعت کو نمائندگی نہیں دی گئی تھی جس کے عوض میں اردو اکیڈیمی کی صدارت کا مطالبہ کیا جارہا ہے ۔ چیف منسٹر اگرچہ مقامی جماعت کو صدارت سونپے جانے کے سلسلہ میں تیار دکھائی نہیں دیتے اور انہوں نے اس سلسلہ میں ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی سے بھی مشاورت کی ہے ۔ تاہم اس مسئلہ کی یکسوئی تک اکیڈیمی کی تشکیل کا اعلان نہیں ہوگا۔ اطلاعات کے مطابق مقامی جماعت نے صدارت کے لئے دو نام پیش کئے ہیں۔ ان میں سے ایک کانگریس دور حکومت میں اردو اکیڈیمی کی صدارت پر فائز رہ چکے ہیں اور اب دوبارہ اس عہدہ کے خواہشمند ہیں۔ 2019 ء انتخابات میں ٹی آر ایس کی تائید کا تیقن دیتے ہوئے ابھی سے سرکاری عہدہ حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت کی تائید کرنے والی تنظیم یونائٹیڈ مسلم فورم میں شامل جماعتوں کے بعض دیگر نمائندوں کی نظریں اکیڈیمی کی صدارت پر ہیں۔دیکھنا یہ ہے کہ چیف منسٹر پارٹی قائدین کو ترجیح دیں گے یا مقامی جماعت کے دباؤ کے آگے جھک جائیں گے۔ اقلیتی اداروں میں اردو اکیڈیمی آخری ادارہ ہے جس کی تشکیل باقی ہے۔ پارٹی میں شامل قائدین اور کیڈر کا مطالبہ ہے کہ اس ادارہ کی صدارت پارٹی کے کسی قائد کو دی جائے کیونکہ مقامی جماعت نے 2014 ء تک بھی تلنگانہ ریاست کی مخالفت کی تھی۔ حکومت کے قیام کے بعد مقامی جماعت نے ٹی آر ایس حلیف جماعت کا لبادہ اوڑھ لیا۔ لہذا پارٹی قائدین سے ناانصافی نہیں کی جانی چاہئے ۔

TOPPOPULARRECENT