Thursday , October 18 2018
Home / شہر کی خبریں / اردو داں حضرات کو اردو کے تحفظ کے لیے سنجیدہ ہونے کا مشورہ

اردو داں حضرات کو اردو کے تحفظ کے لیے سنجیدہ ہونے کا مشورہ

انوارالعلوم کالج میں کل ہند مشاعرہ ، نواب شاہ عالم خاں کو خراج ، نواب محبوب عالم خاں کا خطاب
حیدرآباد ۔ 19 ۔ فروری : ( سیاست نیوز ) : انوارالعلوم ایجوکیشنل اسوسی ایشن کے زیر اہتمام دوسرا کل ہند نواب شاہ عالم خاں یادگار مشاعرہ کل شب انوارالعلوم کالج گراونڈ میں نواب محبوب عالم خاں معتمد اعزازی کی سرپرستی میں منعقد ہوا ۔ اس موقع پر نواب محبوب عالم خاں نے اپنے خطاب میں نواب شاہ عالم خاں کی تعلیمی ، سماجی ، مذہبی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے دعائے مغفرت کی اور کہا کہ وہ ایک سچے محب اردو تھے ۔ جنہوں نے تعلیمی میدان میں جو خدمات کی ہیں عرصہ دراز تک یاد رکھی جائیں گی ۔ اب اردو دانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس زبان کی حفاظت کے لیے سنجیدہ ہوجائیں ورنہ مستقبل میں نئی نسل طعنے دیں گی ۔ جسٹس بلال نازکی نے نواب شاہ عالم خاں سے اپنے قریبی تعلقات کا ذکر کیا اور کہا کہ وہ ہر ایک کو تعلیم یافتہ دیکھنا پسند کرتے اس لیے ان کا دور سنہرا دور کہلائے جانے کے قابل ہے ۔ جناب جی اے نورانی کنوینر مشاعرہ نے ابتداء میں خیر مقدم کیا اور نواب شاہ عالم خاں کی شخصیت پر روشنی ڈالی اور کہا کہ ان میں فکر و فن کی بڑی گہرائی موجود تھی ۔ نواب شاہ عالم خاں نے بے شمار دینی مدارس ، یتیم خانوں ، مدرسوں اور کالجس و مساجد کی تعمیر و تزئین میں اپنا حصہ ادا کیا ۔ اس مشاعرہ کی خاص بات یہ دیکھی گئی کہ جڑواں شہر اور مضافاتی علاقوں سے مرد و خواتین اور نوجوانوں و طلباء کی کثیر تعداد موجود تھی ۔ انوارالعلوم کالج کا اندرونی میدان جو وسیع ہونے کے باوجود تنگ دامنی کا شکوہ کررہا تھا ۔ اس دوسرے کل ہند مشاعرہ کا آغاز ملک کے ممتاز شاعر منظر بھوپالی کے نعتیہ کلام سے ہوا ۔ انہوں نے اپنے مخصوص انداز سے حب رسولؐ میں ڈوب کر نعت پیش کی تو اللہ اکبر کی صدائیں سنائی دے رہی تھیں ۔ نعت شریف کے بعد اقبال اشہر کو آواز دی گئی جنہوں نے اردو گیت ’ اردو ہے میرا نام ‘ سناکر ایک سماں باندھ دیا ۔ سامعین مشاعرہ کے آغاز سے اپنے محبوب شعراء کو سننے کے لیے بے تاب تھے جب کہ جسٹس بلال نازکی نے اپنی تقریر میں اس بات کا اشارہ دیا تھا کہ مشاعرہ میں اس روایات کو توڑ دینا چاہئے کہ سینئیر شعراء کو دیر سے سنایا جائے جب کہ لوگ بڑے بے تاب رہتے ہیں اس کے باوجود ناظم مشاعرہ ابرار کاشف نے اس پر دھیان نہیں دیا ۔ دیر گئے وسیم بریلوی ، راحت اندوری ، منظر بھوپالی ، انا دہلوی کو آواز دی گئی ۔ اس مشاعرہ کی خاص بات یہ بھی رہی کہ شعراء نے موضوعات اور حالات حاضرہ پر شعر سناکر داد حاصل کی ۔ جناب اشوک ساحل کے اس شعر پر کہ :
سیاست سازشوں کا ایک ایسا کھیل ہے جس میں
کئی چالوں کو خود سے چھپا کر چلنا پڑتا ہے
ان کا یہ شعر
بلندیوں پر پہنچنا کوئی کمال نہیں
بلندیوں پر ٹھہرنا کمال ہوتا ہے
درمیان میں طنز و مزاح کے شعراء جناب وحید پاشاہ قادری اور شاہد عدیلی کو سنا گیا انہوں نے حالات حاضرہ پر ضرب لگائی ۔ جناب چرن سنگھ بشر ، شکیل اعظمی نے بھی طنز کیے ۔ شکیل اعظمی نے کہا کہ :
بچوں کی ذہنوں میں جھوٹی باتیں مت ڈالو
کانٹوں کی صحبت میں رہ کر پھول نکیلا ہوجاتا ہے
جناب منظر بھوپالی نے اپنے مخصوص ترنم سے مشاعرہ میں ایک فضا پیدا کردی ۔ انہوں نے حالات حاضرہ پر شدید طنز کیے اور کہا کہ :
بہت مشکل ہے شاخوں پر ہرے پتہ کا رہنا
شجر اندر کا اندر زعفرانی ہوگیا ہے
عمر بھر تو کوئی بھی جنگ لڑ نہیں سکتا
تم بھی ٹوٹ جاؤ گے تجربہ ہمارا ہے
جناب راحت اندوری کو سننے لوگ دیر تک بیٹھے رہے جب آواز دی تو سامعین میں ایک مسرت دوڑ گئی ۔ انہوں نے کافی دیر تک اپنا کلام سنایا ۔ اس طرح لتا حیا اور دوسروں نے اپنا کلام سنایا ۔ ڈاکٹر فاروق شکیل ، سردار سلیم ، محسن جلگانوی ، شاہد عدیلی ، وحید پاشاہ قادری ، مضطر مجاز اور دوسروں نے کلام سناکر داد حاصل کی ۔ جناب وسیم بریلوی اور لتا حیا کے کلام کو بھی سامعین نے پسند کیا ۔ اس طرح رات دیر گئے مشاعرہ کا اختتام عمل میں آیا ۔ جناب سید مصطفی کمال ، جناب احمد بیگ ، جناب حاجی سجاد اور دوسرے موجود تھے ۔ جناب مجاہد عالم خاں نائب معتمد انوارالعلوم ایجوکیشنل اسوسی ایشن جو اس پروگرام کے روح رواں تھے ۔ جناب ابرار کاشف نے نہایت عمدگی سے کارروائی چلائی ۔۔

TOPPOPULARRECENT