Wednesday , December 12 2018

اردو ذریعہ تعلیم کی بقاء کے لیے تعلیم کو روزگار سے مربوط کرنے پر زور

اردو یونیورسٹی میں دانشورانہ فورم کا اجلاس ، چانسلر سریش والا اور دیگر معزز شخصیتوں کا خطاب

اردو یونیورسٹی میں دانشورانہ فورم کا اجلاس ، چانسلر سریش والا اور دیگر معزز شخصیتوں کا خطاب
حیدرآباد ۔ 15 ۔ جنوری : ( سیاست نیوز ) : اردو زبان کو روزگار سے مربوط کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ جس کے ذریعہ سے ہی اردو اور اس کے ذریعہ تعلیم کو باقی رکھا جاسکتا ہے ا گر اردو زبان کو تفریح طبع کا ذریعہ سمجھیں تو آنے والی نسلیں اس سے خاطر خواہ استفادہ نہیں کرپائیں گی ۔ ان خیالات کااظہار جناب ظفر سریش والا مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے نئے چانسلر نے آج یہاں یونیورسٹی ہذا حیدرآباد میں دانشورانہ فورم کے اجلاس میں کیا ۔ جس کا عنوان ’’ ہندوستان میں اردو ذریعہ تعلیم کے فروغ میں اردو یونیورسٹی کا رول ‘‘ تھا ۔ اس موقع پر چانسلر نے اردو یونیورسٹی کو صنعت اور عالمی سطح کی جامعات کے اشتراک و تعاون اور فروغ اردو نیز طلبہ کے حصول روزگار کی طمانیت کے درمیان توازن کی برقراری پر بھی زور دیا ۔ جناب سریش والا نے انگریزی تعلیم کے معقول انتظام پر کہا کہ اس طرح کے اقدامات سے اردو کے طلبہ انگریزی میڈیم کے طلبہ سے بہتر مسابقت پیدا کرسکیں گے ۔ انہوں نے آئی آئی ٹی اور آئی آئی ایم کو ہم پلہ نظام تعلیم بنانے پر بھی زور دیا ۔ ایک لڑکی کی تعلیم ایک خاندان کی تعلیم کے پیش نظر انہوں نے کہا کہ لڑکوں کے بہ نسبت لڑکیوں کی تعلیم پر زیادہ توجہ کی ضرورت ہے ۔ اس کے لیے وہ اپنے عہدہ ذمہ داری کے تحت بہتر خدمات انجام دینے کی بھر پور مساعی کریں گے ۔ یونیورسٹی ہذا میں دارالترجمہ کی بھی ضرورت کا اظہار کیا ۔ وائس چانسلر یونیورسٹی ہذا پروفیسر محمد میاں نے اس امید کا اظہار کیا کہ یونیورسٹی کے نئے چانسلر کی شخصیت ایک فعال حیثیت رکھتی ہے ۔ ان کے ذریعہ یونیورسٹی کے مسائل کو ارباب مجاز تک پہونچاتے ہوئے بحسن و خوبی انجام دیا جاسکتا ہے ۔ انہوں نے اس بات کا اظہار کیا کہ تعلیم کو روزگار سے جوڑا جائے اور دینیات کے ساتھ ساتھ دیگر مذاہب سے متعلق معلومات بھی فراہم کیا جائے ۔ جس سے ماحول کو سمجھنے میں آسانی پیدا ہوگی ۔ پروفیسر ایس ایم رحمت اللہ نے مسلمانوں کے اعلیٰ تعلیم پر اعداد و شمار پیش کیے ۔ اور کہا کہ مسلمانوں کی ترقی کے لیے ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے ۔ اجلاس میں شریک جناب نریندر لوتھر موظف آئی اے ایس ، پروفیسر فاطمہ علی خاں ، جناب شاہد حسین ، جناب مظہر حسین ، محترمہ انجم بابو خاں ، ڈاکٹر فاضل حسین پرویز ، پروفیسر وی ایس پرساد نے بھی اظہار خیال کیا اور اس بات پر زور دیا کہ غیر تعلیم یافتہ افراد کو بھی تعلیم سے جوڑنے کے اقدامات کرنے کی اہم ضرورت ہے ۔ اس موقع پر مختلف یونیورسٹیز کی مثالیں پیش کیں ۔ دانشورانہ فورم میں جناب جنت حسین ، جناب سید انوار الھدیٰ ، جناب احسن رضا ، جناب ظہیر الدین علی خاں ، جناب جے ایم لنگڈوہ ، جناب سجاد شاہد ، جناب ارشاد علی ، محترمہ لکشمی دیوی راج ، ڈاکٹر افتخار الدین ، جناب اسد اللہ پاشاہ ، پروفیسر عصمت مہدی ، جناب سلیل قادر ، جناب گردیت سنگھ ، پروفیسر وی ایس پرساد ، محترمہ کلثوم ریڈی ، ڈاکٹر رفیق احمد اور ضیا الدین نیر بھی موجود تھے ۔ پروفیسر ایس ایم رحمت اللہ نے شکریہ ادا کیا جب کہ پی آر او جناب عابد عبدالواسع نے اجلاس کی کارروائی خوش اسلوبی کے ساتھ چلائی ۔۔

TOPPOPULARRECENT