Thursday , January 18 2018
Home / مضامین / اردو زبان اور یادداشت ۔ نئی جد وجہد

اردو زبان اور یادداشت ۔ نئی جد وجہد

ڈاکٹر مجید خان

ڈاکٹر مجید خان
31 اکتوبر 2013 کے اخبار سیاست میں نمایاں انداز میں نیچے لکھی ہوئی ایک خبر چھپی تھی ۔ ’’سروگیسی سے استفادہ کرنے والے بیرونی سیاحوں کو مشروط ویزا‘‘نہ جانے کتنے قارئین اس خبر کو پڑھے ہوں گے ۔ اگر پڑھے ہوں گے تو اس سے مطلب کیا نکالے ہونگے ۔ مجھے علم ہیکہ میرے مضامین پڑھنے والے پڑھنے کے بعد اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہیں ۔ میرا یہ مشورہ ہیکہ اس خبر کو پھر سے پڑھئے اور اس پر غور کیجئے ۔ بہت ممکن ہے اکثر لوگوں نے یہ سوچا ہو کہ بیرونی سیاحوں کے ویزا حصول میں اور مشکلات پیدا کردی گئی ہے اور چونکہ ہمارا شمار بیرونی سیاحوں میں نہیں ہوتا اس لئے خس کم جہاں پاک کے مصداق اس خبر کی سرخی پڑھنے کے بعد نظرانداز کردیئے ہوں ۔

چونکہ میں واقف ہوں کہ میرے مضامین پڑھنے والوں میں زیادہ تر عمر رسیدہ قارئین ہیں اس لئے میں انکی یادداشت کو برقرار رکھنے کیلئے کچھ مشورے دیا کرتا ہوں ۔ یہ مضمون اسی کڑی سے جڑا ہوا ہوتا ہے ۔ اس ضمن میں مضامین پڑھنے والوں کیلئے ہی ایک خود ساختہ نفسیاتی معلم ہوں ۔ بذریعہ مضامین عصری نفسیاتی مسائل کی تعلیم دیتا ہوں ۔ ممکن ہے یہ میرا مغالطہ ہو مگر اسی جوش کی بنا پر میرا قلم چلتا رہتا ہے ۔ اب ایکبار اس سفر پر گامزن ہونے کے بعد رکنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ بڑھتی ہوئی ضعیفی میں نسیان کا جو مرض شروع ہوجاتا ہے اس سے بچاؤ کی میں عملی تدابیر سمجھانا چاہتا ہوں ۔ اب ایکبار پھر آپ یاد کرنے کی کوشش کیجئے کہ وہ خبر کیا تھی ۔ سروگیسی آخرکیا بلا ہے ؟۔ یہ سمجھے ہوں گے کہ عیش و عشرت کرنے یا ممنوعہ منشیات کے استعمال کے تعلق سے جڑی ہوئی کوئی بات ہوگی ۔

مجھے یہ خبر خاص اس لئے معلوم ہوئی کیونکہ اس خبر کا اس نمایاں طور پر شائع ہونا اخبار سیاست کے روایتی انداز سے جداگانہ مگر خوش آیند تھا ۔ اس میں مجھے کچھ جدت نظر آئی ۔ میں نے سوچا کہ ممکن ہے کوئی نئے سب ایڈیٹر صاحب آئے ہیں جو اس خبر کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے اس کی تفصیلات جو میں نے میرے مطالعے کے انگریزی اخبارات میں بھی نہ پڑھی ، دلجوئی سے ترجمہ کرتے ہوئے شائع کئے ہیں ۔ بہرحال ادارے کا یہ عمل قابل تعریف ہے اور اردو زبان کو مجھے ایسا محسوس ہورہا ہیکہ متحرک کردیا ہو۔ جہاں تک ہوسکتا ہے میں اپنے مضامین میں انگریزی الفاظ کا استعمال نہیں کرتا جہاں پر سمجھانے کے لئے ناگزیر ہوجاتا ہے تو یہ مجبوری ہے ورنہ اگر لغت میں ترجمہ نہ ملے تو خیال کی ترجمانی کرنا پسند کرتا ہوں ۔ یہاں پر سروگیسی کا ترجمہ انہوں نے ’’مادر مستعار‘‘ کیا ہے ۔ میں اسی طرح سے پھڑک اٹھا جس طرح سے کسی بہترین شعر کی داد میں اندر ہی سے تحسین نکل جاتی ہے ۔حکومت کے اس اعلامیہ کا اتنا واضح ترجمہ یہ ثابت کرتا ہیکہ اردو زبان عروج پر ہے ۔ اکثر حکومت کے اعلامیہ جب اردو میں شائع ہوتے ہیں تو تھوڑے مبہم ہی ہوا کرتے ہیں ۔ اس خبر کے ترجمے میں عصری غور وفکر توجہ اور جدت شامل ہیں ۔

قارئین کو صرف اتنا سمجھادوں کہ مادر مستعار کا جو دھندہ ہندوستان میں چل رہا ہے وہ لگ بھگ 20 ارب کی لاگت کا ہے ۔ لاولد جوڑے اولاد کیلئے یہ مادر مستعار کا طریقہ استعمال کررہے ہیں۔ تقریباً 10,000 بیرونی سیاح اس عمل کیلئے ہندوستان سیاحت کے ویزے پر آیا کرتے تھے ۔ اب ان کو چاہئے کہ میڈیکل ویزا لیکر آئیں اور دوسری شرائط بھی پوری کریں ۔ آخر میں اعلامیہ میں یہ لکھا گیا ہیکہ علاج بھی انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ کے رجسٹرڈ شدہ ART ہی میں کروایا جائے ۔ ART کا مطلب ہے Assisted Reproductive Technology ۔جہاں تک میری معلومات ہیں بے شمار غیر رجسٹرڈ دواخانے اس کام میں مصروف ہیں ۔ اس موضوع پر میں ایک مضمون لکھ چکا ہوں جبکہ عنوان غالباً ’’کرائے کے رحم‘‘ تھا ۔ یعنی بانجھ عورتیں اپنے شوہر کے تخلیقی تخم کو دواخانے میں ایک ایسی خاتون کے رحم میں پیوست کروادیتی ہیں جو اس کے مرد کے نطفے سے باحمل ہوجاتی ہے یعنی مادر مستعار بن جاتی اور اسکے لئے کافی رقم بھی وصول کرتی ہے۔ مگر قارئین فکرمند ہوں گے کہ یہ موصوف یعنی میں نفسیاتی امراض سے ہٹ کر کرائے کے رحموں کے راستوں پر کیوں بھٹک رہا ہوں ۔ اسکی بھی وجہ ہے جس کو مجھے سمجھانا پڑے گا ۔

ART کے تعلق سے حیدرآباد کے نامور سیاستداں ڈاکٹر بھارگوا نے تقریباً دس سال پہلے ایک بہت ہی جامع دستاویز تیار کی تھی اور حیدرآباد میں انہوں نے ایک عوامی مباحثہ بھی کروایا تھا اور حال ہی میں یہی تجویز ایک بل کی شکل میں پارلیمنٹ میں پیش ہوئی ہے ۔ دس سالوں سے ہم لوگ اسکے منتظر ہیں اور ہر ماہ ہماری نشست میں اسکی دھیمی قانونی رفتار پر تشویشناک بحث کی جاتی ہے ۔ قانون تو بن نہیں سکا کیونکہ پارلیمنٹ تقریباً کئی سالوں سے مفلوج ہے اور یہی حشر کئی اہم تجاویز کا ہوا ہے ۔ خیر میں اب مدعا مضمون پر آنا چاہوں گا ۔ بعض پڑھنے والے یہ سمجھے ہوں گے کہ سرگوشی سے استفادہ کرنے والے ، کیونکہ سروگیسی مشکل اصطلاح ہے یعنی بیرونی سیاح اگر سرگوشی یا گپ شپ میں یا کانا پھوسی کے ارادے سے ہندوستان آنا چاہتے ہیں تو وہ سیاح کے ویزا پر نہیں آسکتے ۔ یہ تو ایک لطیفہ ہی ہوگیا ۔ بعض لوگ سوچیں ہوں گے کہ دہشت پسندی سے جڑی ہوئی کوئی پابندی ہوگی ۔ حقیقت میں اسکا تعلق بھی رحموں کی دہشت گردی ہی سے ہے ۔

اب رہی اصل بات کہ اسکا نسیان سے کیا تعلق ہے ۔ ہر شخص کو جسکی عمر 50 سال سے زیادہ ہو تو وہ اپنے دماغ کو نئی نئی مشقیں دیتا رہے تاکہ اس کی مشنری یا کل پرزے غیر مستعمل نہ ہوجائیں ۔ اب اس خبر کا حوالہ اس لئے دیتا ہوں کیونکہ عام ترجمہ کرنے والا ہوتا تو کاہلی سے سروگیسی کا ترجمہ نہیں کرتا مگر مادر مستعار کا استعمال کرنے سے جس طرح سے مجھ میں ایک نئی امید ، تحریک اردو زبان کے تعلق سے ہوئی ہے وہ آپ میں بھی ہونی چاہئے ۔جناب محمد مصطفی علی سروری صاحب نے اپنی بڑی فکر انگیز کتاب اردو صحافت کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ (اکیسویں صدی) میں لکھا ہیکہ اردو صحافت میں برسرکار افراد کی اکثریت صحافتی زمرے سے زیادہ مترجمین کی قابلیت پر پوری اترتی ہے اور اردو صحافی کو بھی پروفیشنل بننا چاہئے ۔ اسکی جھلک میں نے اس خبر میں دیکھی ہے ۔ یادداشت کے تحفظ کیلئے ، اگر آپ اردوداں ہیں اور آپ کا مطالعہ صرف اخبار تک محدود ہو تو اسی کو اپنی یادداشت کی مشق کیلئے استعمال کیجئے ۔ یعنی پڑھئے ، غور کیجئے اور اگر ہوسکے تو کچھ خیالات اس موضوع کے تعلق سے قلمبند کیجئے ۔ عصری تحقیق یہ بتاتی ہے کہ چھوٹے بچے جس طرح سے تعلیم حاصل کرتے ہیں یہی عمل ساری عمر جاری رہنا چاہئے ۔

حال ہی میں امریکہ سے ضعیفی اور یادداشت کی کمزوری پر ایک رپورٹ شائع ہوئی جس میں یہ بتایا گیا کہ تقریباً 294 ضعیف افراد کو یادداشت اور غور و فکر کی مشقیں 6 سال تک وقفے وقفے سے کرائی گئیں ۔ ان سے پوچھا گیا کہ جس طرح سے آپ اپنے بچپن میں لکھنے اور پڑھنے میں مشغول رہا کرتے تھے لیکن وہ عادت جوانی اور بڑھاپے میں برقرار تھی ۔ مختلف لوگوں کے مختلف جواب تھے ۔ ان کے مرنے کے بعد ان کے دماغوں کا امتحان کیا گیا ۔یہ پتہ چلا کہ جو لوگ پڑھنے اور لکھنے کے کام کو خیرباد نہیں کئے ان کی یادداشت دوسروں کے مقابلہ 50 فیصد زیادہ اچھی تھی ۔ اس رپورٹ میں آخر میں یہ کہا گیا کہ لکھنے اور پڑھنے کی اہمیت کو نہ صرف اپنی اولاد کو سمجھائیں بلکہ اپنے والدین اور دادا دادی ، نانا نانی کو بھی اس کی ترغیب دیں ۔ زبان کا استعمال لکھنے اور پڑھنے میں ایک بہت ہی پیچیدہ دماغی عمل ہے ۔

گفتگو کرنا کوئی عقل کا کام ہونا ضروری نہیں ہے ۔ سننے کا عمل بھی ایک دماغی ورزش نہیں ہے ۔ مگر جب آپ مطالعہ کرتے ہوئے سوچتے ہیں اور انہی خیالات کو مناسب الفاظ میں ڈھالنے کی کوشش کرتے ہیں تو پھر آپ کے دماغ کے مراسلاتی نظام کو محنت کرنی پڑتی ہے جو آپ کے نسیان کو محدود کرتی ہے ۔ اردو پڑھنے اور لکھنے کی اہمیت کو سمجھنے کی کوشش کیجئے ۔ ہر خاندان کو اس موضوع پر غور کرنا چاہئے ۔ مادری زبان کی اہمیت کیا ہے اور اس سے کیسے آپ اپنی دماغی صلاحیتوں کو پروان چڑھاسکتے ہیں ۔ ہندوستان میں غالباً حیدرآباد ہی ایک واحد مقام ہے جہاں پر اردو سیکھنے کے بے شمار وسائل موجود ہیں ۔ صرف آپ کی توجہ اور تھوڑی سی محنت کی ضرورت ہے۔ آپ کے دماغ کا وہ حصہ جو زبان کو سمجھتا ہے اور پھر اس کو ایک جواب کی شکل میں تبدیل کرتا ہے اور اسکے اعضائے گفتار کو متحرک کرتا ہے تو وہ عمدہ طریقے سے کام کررہا ہے ۔ اپنی اہم دماغی مراکز کی قربت میں زبان سیکھنے کے پرزے ہیں مگر ناکارہ پڑے ہوئے ہیں ۔ نوجوانوں کا یہ تصور کہ اردو معاش سے جڑی ہوئی زبان نہیں ہے اس لئے اس کا سیکھنا فضول ہے ، غلط ہے ۔

یہی ہماری سب سے بھیانک بھول رہی ہے ۔ پہلے غور کیجئے کہ آپ کس زبان میں سوچتے ہیں ۔ ظاہر ہے لوگ اپنی مادری زبان ہی میں سوچتے ہیں ۔ اسلئے اپنی سوچ کو اور طاقتور بنانا ہو تو اس کے اہم پہلو یعنی لکھنے اور پڑھنے کی صلاحیت پیدا کیجئے ۔ اگر آپ میں یہ صلاحیت ہے تو اس کو مت کھویئے ۔ اردو کتابیں پڑھئے ، دوسروں کیلئے نہیں توخود کے لئے لکھئے اور اپنی یادداشت کی بنیادوں کو کھوکھلا مت کیجئے ۔ اپنے ماحول پر غور کیجئے۔ آپ کی زندگی کے کاروبار کو آپ کا دماغ اردو سوچ سے چلاتا ہے ۔ آپ انگریزی لکھتے پڑھتے ہیں ، عربی پنج وقتہ نماز میںپڑھتے ہیں مگر سمجھتے نہیں ۔ تو آپ کے دماغ میں بے شمار متوازی تار دوڑ رہے ہیں ۔ ان کو یادداشت برقرار رکھنے کیلئے مصروف رکھنا چاہئے اور اس کے لئے مطالعے کی ضرورت ہے ۔ مطالعہ سے جڑی ہوئی غور و فکر اور مددگار ثابت ہوسکتی ہے مثلاً ایک نئی اصطلاح کا اردو میں استعمال ۔ اس ایک لفظ پر غور کیجئے ۔ مادر مستعار۔

اگر surrogacy ہی لکھ دیا ہوتا تو ذہن میں وہ روشنی نہیں آتی جتنی کہ اس تخیل سے آسکتی ہے ۔ کچھ مہینوں کے انتظار کے بعد میں یہ مضمون لکھ رہا ہوں تاکہ میری اپنی یادداشت کا امتحان ہو اور آپ کی یادداشت کو ایک چیلنج بھی ہو ۔مگر افسوس اس بات کا ہیکہ ڈاکٹر بھارگوا اور ہماری کمیٹی نے جو مسودہ اس موضوع پر پارلیمنٹری بل کی تیاری کیلئے دیا تھا ۔ اسکے اہم نکات کو واضح نہیں کیا گیا ۔ ہم یہ چاہتے ہیں کہ اس عمل کو منظم کیا جائے اور نومولود کی مستقبل کی شناخت کے تعلق سے کچھ تیقنات قانونی طور پر دئے جائیں اور محض یہ ایک تجارت نہ بن جائے جیسا کہ Adoption agency کرتی رہی ہیں ۔بل تو پارلیمنٹ میں زیر التواء ہے مگر بیرونی سیاحوں پر کچھ پابندیاں ضرور لائی گئی ہیں ۔ کسی بھی زبان میں نئی اصطلاحات اس میں نئی جان پھونک دیتی ہیں ۔ اردوداں حضرت اردو کو نئی زندگی دینے کی مہم میں جڑجائیں ۔

TOPPOPULARRECENT