Monday , September 24 2018
Home / Top Stories / اردو زبان کی مقبولیت کے غیر اردو داں بھی معترف

اردو زبان کی مقبولیت کے غیر اردو داں بھی معترف

اقطاع عالم کی مقبول ترین زبان ، ٹی آر ایس حکومت مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات کا وعدہ پورا کرے : جناب زاہد علی خاں
زندہ دلان حیدرآباد کا کل ہند مزاحیہ مشاعرہ

حیدرآباد ۔ 25 ۔ نومبر : ( سیاست نیوز ) : جناب زاہد علی خاں ایڈیٹر روزنامہ سیاست نے کہا کہ اردو زبان اقطاع عالم میں اپنا وجود منوا چکی ہے بالخصوص ہندوستان میں اس زبان نے وہ پھول بکھیرے ہیں جس کے غیر اردو داں بھی معترف ہیں ۔ علحدہ تلنگانہ کے بعد اردو زبان کو مزید فروغ حاصل ہورہا ہے اور ریاستی حکومت نے اردو کو دوسری سرکاری زبان قرار دے کر ریاست کے اردو داں طبقہ کے لیے ایک انمول تحفہ پیش کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح ریاستی وزیر اعلی کے چندر شیکھر راؤ نے اردو زبان کے ساتھ انصاف کا معاملہ کیا ہے ۔ اسی طرح اگر وہ مسلمانوں کی خوشحالی اور ترقی کے خواہاں ہوں تو اپنے وعدہ کے مطابق انہیں 12 فیصد تحفظات کو پورا کرنا ہوگا ۔ اس بات کا یقین ہے کہ اگر حکومت اس 12 فیصد تحفظات پر فوری عمل آوری کرے گی تو ایسی صورت میں جو نقصان 60 تا 65 سالوں میں ہوا ہے اس کی تلافی ہوتے ہوئے انہیں ریاست ہی نہیں بلکہ ملک میں سرخروئی حاصل ہوگی ۔ جناب زاہد علی خاں نے زندہ دلان حیدرآباد کی سالانہ تقاریب جو نواب شاہ عالم خاں کے نام معنون کی گئی اس کی آخری کڑی کل ہند مزاحیہ مشاعرہ میں صدارتی خطاب کرتے ہوئے یہ بات کہی ۔ زندہ دلان حیدرآباد کی جانب سے یہ کل ہند مزاحیہ مشاعرہ تلگو للت کلا تھورانم ، اوپن ایر تھیٹر باغ عامہ ( نامپلی ) میں منعقد ہوا ۔ مہمان خصوصی کی حیثیت سے جناب شفیع الزماں ( آئی اے ایس ) ، پروفیسر ایس اے شکور ڈائرکٹر سکریٹری اردو اکیڈیمی تلنگانہ شریک تھے ۔ جناب زاہد علی خاں نے سلسلہ تقریر جاری رکھتے ہوئے شعراء کو اس بات کا مشورہ دیا کہ وہ اپنے مزاحیہ کلام ، غزلیات اور نظموں میں مزاح سے زیادہ طنز کی طرف دھیان دیں ۔ اس لیے طنز کے ذریعہ جس طرح مختلف مسائل کو اجاگر کیا جاسکتا کسی اور پہلو سے نہیں کیا جاتا ۔ اس لیے کہ اردو شعراء سے زیادہ طنزیہ شاعری پر ہندی کے شعراء نے اہمیت دی اور ایسے ایسے موضوعات اور پہلو نکالے جس سے عوام میں شعور بھی بیدار ہوا اور لطف اندوز بھی ہوئے اور طنز ہی وہ ہتھیار ہے جس سے حکومت نہ صرف خوف کھاتی ہے بلکہ مسائل کو حل کرنے کی طرف مائل ہوتی ہے ۔ اس لیے نوجوان نسل جو ہندی زبان سے واقف ہے وہ انٹرنیٹ کے ذریعہ ہندی شعراء کے غزلیات و نظمیں سن کر لطف اندوز ہو کر اپنے موقف میں تبدیلی پیدا کرنے پر آمادہ و تیار ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سیاست کا عزم ہے کہ اردو زبان ہر کس وناکس کی زبان ہوجائے جس کے لیے اخبار کے ذریعہ اردو داں اور غیر اردو داں کو ملک اور بیرونی ممالک کے حالات سے واقف کروانے کا بیڑہ اٹھایا ہے ۔ انہوں نے اس بات کا اعلان بھی کیا کہ ماہ دسمبر میں للت کلاتھورانم ، اوپن ایرتھیٹر باغ عامہ میں کل ہند مشاعرہ منعقد کیا جائے گا جس میں ملک کے نامور شعراء کے ساتھ طنز کے مقبول شاعر جناب عمران پرتاب گڑھی کو مدعو کیا جائے گا ۔ اس موقع پر جناب زاہد علی خاں کے ہاتھوں مختار یوسفی کی تحریر کردہ کتاب کی رسم اجرائی انجام پائی ۔ مہمان شعراء پاپولر میرٹھی ، نشتر امروہی ، مختار یوسفی ، چونچ گیاوی ، سلیم حسرت ( دمام ) کو داد سے نوازا گیا ۔ اس کے علاوہ میزبان شعراء شاہد عدیلی ، معین امربمبو ، اقبال شانہ ، چچا پالموری ، وحید پاشاہ قادری ، ڈاکٹر علیم خاں فلکی ، سردار اثر ، ٹیپکل جگتیالی ، وینوگوپال بھنڈ اور دوسروں کو بھی داد سے نوازا گیا ۔ جناب حامد سلیم ( بیدر ) کے مزاحیہ کلام اور جناب فیروز رشید کے حمدیہ کلام سے باضابطہ مشاعرہ کا آغاز ہوا ۔ جناب غلام احمد نورانی معتمد عمومی نے زندہ دلان حیدرآباد کی جانب سے کل ہند مزاحیہ مشاعروں کے کامیاب انعقاد پر روشنی ڈالی اور کہا کہ جناب زاہد علی خاں ایڈیٹر سیاست کا تعاون زندہ دلان کو حاصل ہے ۔ اس موقع پر نواب شاہ عالم خاں ، جناب حمایت اللہ ، جناب غوث خواہ مخواہ کے حق میں دعائے مغفرت کی گئی ۔ چچا پالموری ، پاپولر میرٹھی ، نشتر امروہی ، کے کلام کو پسند کیا گیا ۔ غلام احمد نورانی معتمد عمومی کے شکریہ پر مشاعرہ کا اختتام عمل میں آیا ۔ موسم سرد ہونے کے باوجود مرد و خواتین اور نوجوانوں کی کثیر تعداد دیکھی گئی ۔۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT