Thursday , November 23 2017
Home / شہر کی خبریں / اردو زبان کے اداروں کے ملازمین کی ناگفتہ بہ حالت پر وزیر فینانس کا اظہار ہمدردی

اردو زبان کے اداروں کے ملازمین کی ناگفتہ بہ حالت پر وزیر فینانس کا اظہار ہمدردی

محکمہ اقلیتی بہبود کو کوئی افسوس نہیں ، کئی ماہ سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر ایٹالہ کی ناراضگی
حیدرآباد ۔ 6۔ ستمبر (سیاست نیوز) اردو زبان کے اداروں کے ملازمین کی ناگفتہ بہ حالت پر محکمہ اقلیتی بہبود کو کوئی افسوس نہیں لیکن وزیر فینانس ای راجندر نے ملازمین کی زبوں حالی پر مکمل ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے مکمل تعاون کا یقین دلایا ہے۔ وزیر فینانس ای راجندر نے اردو کمپیوٹر سنٹرس اور لائبریریز کے ملازمین کو کئی ماہ سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں کے رویہ پر ناراضگی جتائی۔ انہوں نے ملازمین کو کئی ماہ تک تنخواہوں سے محروم رکھنے کو غیر انسانی عمل قرار دیا اور کہا کہ وہ تنخواہوں کا بجٹ جاری کرنے کیلئے تیار ہیں لیکن محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیدار انہیں غلط رپورٹ کے ذریعہ روکے ہوئے ہے۔ انہوں نے قائد اپوزیشن قانون ساز کونسل محمد علی شبیر سے فون پر بات چیت کرتے ہوئے اس مسئلہ کی یکسوئی کے سلسلہ میں کل 7 ستمبر کو عہدیداروں کے ساتھ اجلاس طلب کرنے کا تیقن دیا۔ کمپیوٹر سنٹرس اور لائبریریز کے ملازمین کے دھرنے میں حصہ لیتے ہوئے محمد علی شبیر نے اظہار یگانگت کیا اور اس موقع پر وزیر فینانس ای راجندر اور مینجنگ ڈائرکٹر اقلیتی فینانس کارپوریشن بی شفیع اللہ سے فون پر بات چیت کی ۔ انہوں نے دونوں سے ہوئی بات چیت احتجاجی ملازمین کو سنائی۔ ای راجندر نے یہاں تک کہا کہ عہدیداروں کے رویہ کے سبب وہ بے عزتی محسوس کر رہے ہیں کیونکہ غریب ملازمین کئی ماہ سے تنخواہوں سے محروم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس مسئلہ پر وہ قانون ساز کونسل میں تیقن دے چکے ہیں ۔ اس کے علاوہ کانگریس دور حکومت میں وہ ملازمین کی بھوک ہڑتال میں شامل ہوچکے ہیں۔ راجندر نے کہا کہ انہیں احتجاجی ملازمین سے مکمل ہمدردی ہے اور وہ جمعرات کو اجلاس میں مستقل حل تلاش کریں گے تاکہ بقایا جات کے ساتھ مکمل تنخواہیں ادا کردی جائیں۔ انہوں نے اس اجلاس میں محمد علی شبیر کو بھی بطور خاص مدعو کیا ہے۔ مینجنگ ڈائرکٹر اقلیتی فینانس کارپوریشن بی شفیع اللہ نے کہا کہ عید سے قبل انہوں نے کارپوریشن کے بجٹ سے ایک ماہ کی تنخواہ جاری کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک حکومت کمپیوٹر سنٹرس اور لائبریریز کے بارے میں اپنی نئی پالیسی وضع نہیں کرے گی ، اس وقت تک کارپوریشن کیلئے تنخواہوں کی اجرائی اور سنٹرس کی برقراری مشکل ہوگی۔

TOPPOPULARRECENT