Sunday , October 21 2018
Home / اداریہ / اردو سرکاری زبان

اردو سرکاری زبان

ساتھ جن کے چلتی ہے منزل تری
ان کو منزل کا پتہ ملتا نہیں
اردو سرکاری زبان
تلنگانہ میں مسلمانوں کی دلجوئی کرنے والے اعلانات اور وعدوں کی گرد میں حقائق کا چہرہ چھپایا جارہا ہے۔ مسلمانوںکو 12 فیصد تحفظات دینے میں ناکام ٹی آر ایس حکومت نے گذشتہ روز ریاست میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دینے والے بل کو منظوری دیدی۔ اس سے ایک پیام یہ ملا کہ حکومت سطحی طور پر مطمئن کرانے میں کامیاب ہونا چاہتی ہے۔ دوسری طرف اپنے موافق مسلم ووٹ بنک کو مضبوط بنانے کی خاطر کچھ ایسے کام انجام دے رہی ہے جس سے مسلمانوں کا معاشی موقف ہرگز تبدیل نہیں ہوسکے گا۔ اردو کو دوسری سرکاری زبان بنانے کا فیصلہ مستحسن ضرور ہے مگر اس پر کس حد تک عمل آوری ہوگی یہ غیرواضح ہے۔ سرکاری دفاتر میں اردو عملہ کے تقررات کا بھی اعلان ہوا ہے۔ اس سے چند اردو داں افراد کو ملازمتیں ملیں گی۔ چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ نے اپنی اردو نوازی اور مسلم دوستی کا ثبوت دینے کی کوشش میں 12 فیصد تحفظات کے مسئلہ کو سیاسی زانوں کے نیچے دبادیا۔ مسلمانوں کواب تحفظات کا خواب اپنے سینے سے ہی لگائے رکھنا پڑے گا۔ تمام مسلمانوں کیلئے یقینا یہ خوشی کی بات ہیکہ چیف منسٹر نے اردو کو سرکاری درجہ دیتے ہوئے تمام اضلاع میں اس کو سرکاری سطح پر عام کرنے کا عہد کیا ہے۔ زبان باہمی روابط کا ذریعہ ہے۔ تلنگانہ میں اردو عام ہے بلکہ تلگو زبان میں بھی اردو کے کئی الفاظ ملتے ہیں۔ اسی لئے یہاں زبان اردو کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ اب سرکاری سرپرستی کو مضبوطی سے برقرار رکھا جائے تو توقع ہیکہ اردو کو روزگار سے مربوط کرتے ہوئے اردو داں افراد کو روزگار فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔ البتہ ایک شکایت ضرور ہیکہ حکمرانی کی سطح پر جو بھی کام ہوتا ہے اس کی مخالفت کرنے والے سب سے آگے آتے ہیں اور حکومت اپنے فیصلہ کے تابع اقدامات کرنے سے کتراتی ہے۔ یہاں اردو کے معاملہ میں ایسا نہیں ہونا چاہئے۔ چیف منسٹر جب تہیہ کرچکے ہیں کہ تمام سرکاری دفاترمیں اردو داں افراد کو مقرر کیا جائے گا اور اردو کو عام کردیا جائے گا تو اس پر عمل آوری کو یقینی بنایا جانا چاہئے۔ ماضی میں محدود ذہن، نااہل اور خودغرض حکمرانوں کی حکومتوں نے مسلمانوں اور اردو کے ساتھ ناانصافی کی تھی۔ اس کا مداوا بھی محال سمجھا جاتا تھا لیکن تلنگانہ کے قیام کے بعد چیف منسٹر نے اچھے خوابوں کو سجانے اور مسلمانوں کا دل جیتنے کی حکمت اختیار کی مگر جب ان کے دربار میں باریابی پانے والوں نے چیف منسٹر کے عزائم کو اور ان کے مقاصد کو اپنے مقاصد ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہوئے سارا معاملہ بگاڑ کر رکھ دیا، خوشامدیوں کی واہ واہ اور سب اچھا کے شور نے مسلمانوں کے دیگر کئی مسائل کو پس پشت ڈھکیل دیا گیا۔ یہ لوگ ریاستی نظام اور حکمرانی کا بیڑہ غرق کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔ حکمراں اگر اس گمراہی پر چلنے لگیں تو پھر عارضی خوشامدی سے جو تسکین مل رہی ہے تو انہیں راہ ناکامی کی جانب سے جائے پھر جب حکومت کا تختہ الٹ جائے گا تو درباریوں اور خوشامدیوں کا فیصلہ بھی تبدیل ہوجاتا ہے۔ یہ ان کے آخری شاخسانے ایسے ہوتے ہیں جس میں مرضی کی ضرورت پوری کرلی جاتی ہے۔ گذشتہ چند دنوں سے تلنگانہ اسمبلی میں جو کچھ نظارے سامنے آتے ہیں اس میں مسلمانوں کے خوابوں میں گھات لگا کر اندر داخل ہونے والے یہ سیاستداں اپنے ذخیرہ ووٹ کو بڑھا لیتے ہیں۔ ایسے لوگوں سے ہوشیار رہنے کی حکمراں کو توفیق اس لئے نہیں ہوسکی کیوں کہ وہ بھی اپنے ناکام فیصلوں سے خود کو بچانے کیلئے سہاروں کی تلاش کرتا ہے۔ تلنگانہ حکومت چند دنوں میں اپنی حکمرانی کے آخری پرواز میں پہنچ رہی ہے۔ اس لئے اسے محتاط طریقہ سے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ اردو کو سرکاری زبان بنانے کا بل منظور کرنے سے تلنگانہ کے مسلمانوں کے بنیادی مسائل ہرگز حل نہیں ہوسکیں گے بلکہ چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ کو اپنی پالیسی پر عمل کرکے شاندار سیاسی روایات قائم کرنا چاہئے۔ تلنگانہ کو انہوں نے ایک اچھی سیاسی فضاء مہیا کی ہے تو اس فضا سے تمام کو استفادہ کرانے کیلئے پالیسیوں پر دیانتدارانہ عمل ضروری ہے۔ ان کی حکومت میں اگر اردو کو فروغ حاصل ہونے کے سازگار حالات پیدا کردیئے گئے ہیں تو مسلمانوں کے معاشی، تعلیمی اور سماجی مستقبل کو بہتر بنانے کی پالیسیوں پر سیاسی مفاہمت کی پالیسی پر سبقت لے جانے نہیں دینا چاہئے۔ اگر ٹی آر ایس حکومت اپنی پالیسیوں کا سب سے زیادہ فائدہ اٹھانا چاہتی ہے تو شعوری طور پر اپنے وعدوں کو پورا کرنے کی کوشش کرے۔ بحیثیت قوم مسلمانوں کو بھی اس مرحلے پر زبردست سیاسی تدبر کا نظارہ کرنے کی ضرورت ہے۔ حکومت نے اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دیدیا ہے تو ہم کو بھی اردو کو عام کرنے اور اس کو حقیقی طور پر سرکاری زبان کے طور پر فروغ دینے کی کوشش کرنی چاہئے۔ سرکاری دفاتر میں جہاں اردو کو نظرانداز کیا جاتا ہے تو اس کی نشاندہی کرکے حکومت کی توجہ دلائی جانی چاہئے اور اپنے دیگر مسائل کی یکسوئی کیلئے حکومت سے رجوع ہونے میں تاخیر نہ کی جائے تو ان کو گمراہ کرنے والے قائدین دوبارہ چال چلنے میں ناکام ہوں گے۔
زمبابوے میں فوجی بغاوت
افریقی یونین کے سربراہ نے زمبابوے میں فوجی بغاوت کو قبول کرنے سے انکار کرکے صدر رابرٹ موگابے کے حوصلے بلند کئے ہیں تو آنے والے چند دنوں میں زمبابوے کی صورتحال میں بڑی تبدیلی آسکتی ہے۔ فوجی بغاوت کے بعد زمبابوے کے دارالحکومت پر فوج کا کنٹرول ہے اس سے زمبابوے حکومت کا مستقبل غیریقینی صورتحال سے دوچار ہوا تھا لیکن اب اس فوجی بغاوت میں نرمی دکھائی دینے لگی ہے۔ صدر موگابے نے استعفیٰ دینے سے انکار کرکے فوجی سربراہوں کے دباؤ میں نہ آنے کا واضح اشارہ دیا ہے۔ 93 سالہ موگابے نے 1970ء میں برطانوی تسلط سے آزادی کیلئے جدوجہد شروع کی تھی اور 1980ء میں زمبابوے کو آزادی ملنے کے بعد انہوں نے اقتدار سنبھالا تھا لیکن ملک کو شدید بحرانوں میں ڈھکیل دیا ہے۔ اس بحران کو دور کرنے کیلئے سیاسی حوصلے کی ضرورت ہوتی ہے لیکن فوج نے اپنا باغیانہ کردار ادا کرکے زمبابوے میں نئی حکومت سازی پر بھی کئی سوال کھڑے کردیئے ہیں۔ زمبابوے کے عوام میں موگابے کی حکومت کے خلاف ناراضگی کا بڑھنا ہی فوجی بغاوت کا سبب بنا ہے لیکن شہری بالادستی کے سامنے فوجی بغاوت اٹھ کھڑی ہوگئی ہے جس سے مسلح افواج کے سامنے شہریوں کی بے بسی آنے والے نئے لیڈر کیلئے بھی ایک چیلنج سے کم نہیں ہوگا۔ طاقت کے بل پر کسی بھی حکومت کو گرانا ایک درست قدم نہیں کہلاتا۔ حکمراں پارٹی کے خلاف عوام کا غم و غصہ جائز ہے تو اس مسئلہ کو دستوری طریقہ سے حل کرنے کی کوشش ہونی چاہئے تھی۔ زمبابوے میں اپوزیشن پارٹیاں بھی اتنی مضبوط نہیں ہیں خاص کر اصل اپوزیشن پارٹی کے لیڈر مورگن ٹونیگری برطانیہ میں کینسر کے عارضہ کا علاج کروارہے ہیں۔ اب وہ وطن واپس ہوچکے ہیں تو زمبابوے کے سیاسی بحران میں ان کا رول کتنا اہم ہوگا یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔

TOPPOPULARRECENT