اردو شاعری میں پھول کا تصور

سعد اللہ خان سبیل شہنشاہ غزل میر تقی میرؔ نے اپنے معشوق کی بے اعتنائی کا گلہ کرتے ہوئے کہا تھا ۔ پتاّ پتّا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے

سعد اللہ خان سبیل
شہنشاہ غزل میر تقی میرؔ نے اپنے معشوق کی بے اعتنائی کا گلہ کرتے ہوئے کہا تھا ۔
پتاّ پتّا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے
جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے
میرؔ نے اس ایک شعر میں اپنی ساری قلبی کیفیت کو بیان کرڈالا اور دو مصرعوں میں انہوں نے ایسا درد بیان کیا جو کئی صفحات پر بھی شاید بیاں نہ کیا جاسکے ۔ میرؔ نے دنیا کو باغ اور یہاں بسنے والوں کو پتا اور بوٹا کہا ہے جب کہ اپنے محبوب کو گل سے تعبیر کیا ہے اور شکایت کی ہے کہ سب میرے احوال سے واقف ہیں بجز میرے محبوب کے ۔ اردو کے ممتاز شاعر اسداللہ خان غالبؔ نے اپنے محبوب کے دیدار کو گلوں کی رعنائی سے تعبیر کیا ہے ۔ کہتے ہیں۔

بخشے ہے جلوۂ گل ذوق تماشہ غالبؔ
چشم کو چاہئے ہر رنگ میں وا ہوجانا
غالبؔ کہتے ہیں کہ محبوب کے حسن میں وہ دلکشی ہے کہ نظر میں کچھ اور سماتا ہی نہیں دل چاہتا ہے کہ بس دیکھتے جائیں اور اپنی آنکھوں کو راحت کا سامان پہنچائیں ۔ اس شعر میں غالبؔ نے یہ بھی کہا ہے کہ آنکھیں وہی دیکھتی ہیں جو انسان اسے دکھانا چاہتا ہے ۔جوشؔ ملیح آبادی کی رباعی اردو دنیا میں کافی مقبول ہے کہتے ہیں ۔
غنچہ ، تری زندگی پہ دل ہلتا ہے
بس اک تبسم کے لئے کھلتا ہے
غنچہ نے کہا کہ اس چمن میں بابا
یہ ایک تبسم بھی کسے ملتا ہے
اس رباعی میں جوشؔ نے زندگی کے ہر پل کو بھرپور جینے کی تلقین کی ہے کیونکہ حیات خواہ کتنی ہی مختصر کیوں نہ ہو کلی سے مختصر نہیں ہوسکتی اور زندگی خدائے برتر کی ایک عظیم نعمت ہے اور یہ زندگی انسان کے روپ میں ہمیں ملی ہے تو ہمیں چاہئے کہ اس کو غنیمت جان کر اوروں کے کام آئیں اور اپنی زندگی مثالی بنائیں ۔
استاد شاعر ابراہیم ذوقؔ کا ایک بہت مشہور شعر ہے۔
پھول تو دو دن بہار جاں فزا دکھلا گئے
حسرت ان غنچوں پہ ہے جو بن کھلے مرجھاگئے
یہ شعر ضرب المثل کی حیثیت بھی رکھتا ہے جب کسی کا عالم شباب میں انتقال ہوجائے تو یہ شعر پڑھا جاتا ہے کہ عمر طبعی کے بعد مرنا تو ٹھیک ہے اور قابل برداشت بھی ، لیکن نوجوانی یا لڑکپن میں داعی اجل کو لبیک کہنا یہ بالکل بھی قابل برداشت نہیں۔داغ دہلوی نے اپنے ایک شعر میں پھول کا دو مرتبہ استعمال کیا ہے کہتے ہیں۔

کیا گل کھلائے ہیں تری تیغ نگاہ نے
زخم جگر بہار دکھاتے ہیں بن کے پھول
مندرجہ بالا شعر پڑھتے ہوئے داغ کی عظمت کا دل قائل ہوجاتا ہے ، وہ نہ صرف عام بول چال کے الفاظ کو اپنے اشعار میں پرونے کا فن جانتے تھے بلکہ محاورے ، استعارے اور تشبیہات کو بھی خوبصورتی سے اپنے مصرعوں میں شامل کرتے ، جیسے گل کھلانا ایک محاورہ ہے اور داغؔ نے کس عمدگی کے ساتھ اس کا استعمال کیا ہے ، کہتے ہیں کہ تیری نگاہوں کے خنجر نے ایسا گھائل کیا ہے کہ مزہ آگیا جو زخم تو نے دئے ہیں وہ پھول بن کے میری زندگی کو معطر کررہے ہیں ۔ کیونکہ محبوب کا غم بھی بہت عزیز ہوتا ہے ۔
فیض احمد فیض نے بھی گل اور گلشن کو ایک ہی شعر میں بڑے ہی منفرد اسلوب میں پیش کیا ہے ، کہتے ہیں۔
گلوں میں رنگ بھرے باد نو بہار چلے
چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے
فیضؔ نے یہ شعر کس تناظر میں اور کس کے لئے کہا تھا یہ الگ بات ہے ، لیکن اکثر یہ شعر کسی محفل کے آغاز پر پڑھا جاتا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے آجانے سے محفل کا رنگ دوبالا ہوجائے گا ، فضائیں مہک اٹھیں گی ہر طرف نور کی بارش ہوگی شرط یہ ہے کہ تم آجاؤ ۔
مجاہد آزادی اور اردو کے ممتاز شاعر حسرتؔ موہانی نے موسم بہار کو بھی خزاں سے تعبیر کرتے ہوئے کہا ہے۔

فصل گل دھوم سے آئی ہے پر اے رشک بہار
اک ترے پاس نہ ہونے سے خزاں ٹھہری ہے
حسرتؔ کہتے ہیں کہ بہار آئی ہے ہر طرف ہریالی ہے ، چڑیاں چہچہارہی ہیں ، ہر سمت پھول کھلے ہیں اور منظر آنکھوں کو خیرہ کررہا ہے لیکن ان سب کے باوجود اگر تو میرے ساتھ نہیں ہے تو یہ سب بے معنی ہے اس کا کوئی حاصل نہیں ۔جگر مرادآبادی نے اپنی نظم اعلان جمہوریت کے ایک شعر میں پھول اور کلی کا استعمال بڑے ہی عمدہ طریقہ سے کیا ہے ۔
کھلے جو پھول تو دے جسم ناز کی خوشبو
کلی اگر کوئی چٹکے صدائے یار آئے
جگرؔ کہتے ہیں کہ پھول جب کھلتے ہیں تو میرے محبوب کے جسم کی خوشبو کا مجھے احساس ہوتا ہے اور اگر گلی چٹکے تو یوں لگتا ہے کہ میرے یار نے مجھے آواز دی ۔ اسی قبیل کا ایک اور شعر کچھ یوں ہے ۔
بس گئی ہے مرے احساس میں یہ کیسی مہک
کوئی خوشبو میں لگاؤں تیری خوشبو آئے
اردو کے ایک اور ممتاز شاعر احمد فرازؔ نے اپنی شاعری میں پھول کا کچھ یوں استعمال کیا ہے ۔
تری قربت کے لمحے پھول جیسے
مگر پھولوں کی عمریں مختصر ہیں
شاعر اپنے محبوب سے مخاطب ہو کر کہتا ہے کہ تیرے ساتھ گزرا ہر لمحہ کسی پھول سے کم نہیں کیوں کہ پھول نہ صرف سانسوں کو مہکاتا ہے بلکہ نگاہوں کو بھی آسودگی فراہم کرتاہے اور جو لمحات تیرے ساتھ گزرے ہیں گویا وہ پھولوں کا ساتھ ہے تاہم وہ ناقابل فراموش نہیں ، کیونکہ پھول میں لاکھ خوبیاں سہی مگر اس کی عمر بہت کم ہوتی ہے ۔
پاکستان کی معروف شاعرہ پروین شاکر کہتی ہیں ۔

وہ تو خوشبو ہے ہواؤں میں بکھر جائے گا
مسئلہ پھول کا ہے پھول کدھر جائے گا
اس شعر میں پروین شاکر نے اپنے محبوب کو خوشبو قرار دیا ہے جسے قید نہیں کیا جاسکتا ، وہ ہواؤں میں تحلیل ہو کر ماحول کو معطر کردیتاہے ، اور خود کو پھول کہا ہے جس سے اس کی خوشبو چھین لی گئی ہے اور وہ اب صرف زیب نگاہ ہے ۔ہمارے شہر کے معروف شاعر شاذ تمکنت نے گل گلشن اور کانٹوں کو ایک ہی شعر میں بہت ہی دل پذیر انداز میں پرویا ہے ۔ کہتے ہیں ۔
گلشن پرست ہوں مجھے گل ہی نہیں عزیز
کانٹوں سے بھی نباہ کئے جارہا ہوں میں
شاذؔ کہتے ہیں کہ مالی کو اپنے باغ کی آبیاری سے دلچسپی ہوتی ہے ان میں خواہ گل کے ساتھ کانٹے بھی کیوں نہ ہوں ۔ مخدوم محی الدین کے اس شعر پر اپنی گفتگو تمام کرنا چاہوں گا ۔
پھول کھلتے رہیں گے دنیا میں
روز نکلے گی بات پھولوں کی

Top Stories

TOPPOPULARRECENT