Tuesday , November 21 2017
Home / شہر کی خبریں / اردو قلم کاروں کی تخلیقات کی اشاعت کے لیے مالی اعانت

اردو قلم کاروں کی تخلیقات کی اشاعت کے لیے مالی اعانت

ادخال درخواست کی تاریخ میں 5 اگست تک توسیع ، پروفیسر ایس اے شکور
حیدرآباد ۔ 25 ۔ جولائی : ( پریس نوٹ ) : تلنگانہ اسٹیٹ اردو اکیڈیمی کی جانب سے ریاست تلنگانہ کے اردو قلم کاروں کی سال 2016 کی اردو تخلیقات کی اشاعت کے سلسلہ میں جزوی مالی اعانت کے لیے درخواستوں کے ادخال کی آخری تاریخ 25 جولائی رکھی گئی تھی ، لیکن ریاست کی اردو تنظیموں ، انجمنوں ، ادیبوں ، اسکالرس ، شعرائے کرام اور صحافیوں کی مسلسل نمائندگیوں پر آخری تاریخ میں 5 اگست تک توسیع کردی گئی ہے ۔ پروفیسر ایس اے شکور ڈائرکٹر / سکریٹری تلنگانہ اسٹیٹ اردو اکیڈیمی نے اس سلسلہ میں ایک صحافتی بیان جاری کیا ہے جس میں ریاست تلنگانہ کے اردو کے قلم کاروں سے خواہش کی گئی ہے کہ وہ اپنی تخلیقات کے مسودات توسیع شدہ تاریخ 5 اگست 2016 تک صدر دفتر اردو اکیڈیمی حج ہاوز چوتھی منزل نامپلی میں داخل کردیں ۔ پروفیسر ایس اے شکور نے اپنے صحافتی بیان میں اس اسکیم کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ مسودہ بعد طباعت 1/8 ڈیمی سائز کے 96 صفحات پر اور 1/16 کراؤن سائز کے 112 صفحات پر مشتمل ہونا چاہئے ۔ اگر کوئی کتاب مرتب کی گئی ہو تو اس کا مقدمہ کم از کم 20 صفحات پر مشتمل ہو ۔ مخطوطات پر تدوین کی صورت میں 30 صفحات پر مشتمل سیر حاصل تبصرہ بھی اس میں شامل ہونا چاہئے ۔ انہوں نے بتایا کہ مالی اعانت کے لیے درخواست گذار اپنی درخواست کے ساتھ آئی ڈی پروف اور ایک عدد پاسپورٹ سائز فوٹو بھی داخل کریں ۔ ادیب / شاعر / مرتب کے بائیو ڈاٹا اور مسودہ کی نقل (Xerox) خوش خط یا ڈی ٹی پی کی کاپی داخل کریں ۔ پروفیسر ایس اے شکور نے بتایا کہ داخل کردہ مسودہ واپس نہیں کیا جائے گا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ درخواست میں کتاب کا جو عنوان اور موضوع درج کیا گیا ہے وہی تفصیلات کتاب پر بھی درج ہونی چاہئیں ۔ موضوع اور عنوان میں تبدیلی قابل قبول نہیں ہوگی ۔۔

TOPPOPULARRECENT