Saturday , December 16 2017
Home / ادبی ڈائری / اردو … قومی یکجہتی اور رنگارنگ تہذیب کی مظہر

اردو … قومی یکجہتی اور رنگارنگ تہذیب کی مظہر

خضر حیات
ہندوستان رنگارنگ تہذیب کا گہوارہ ، مختلف قوموں کی آماجگاہ ، مختلف لسانی ، تہذیبی ، نسلی ، مذہبی اور معاشرتی اکائیوں کا ایک نظر نہ آنے والے دھاگے میں پرویا ہوا ہار ہے جس کے موتی دنیا کی نظروں کو خیرہ کرتے رہتے ہیں ۔ ہمارے اس عجیب و غریب ملک میں سات سو سے زائد بولیاں بولی جاتی ہیں ۔ سینتالیس سے زیادہ زبانوں میں اعلی ادب کی تخلیق ہوتی ہے اور قومی سطح پر پندرہ زبانیں تسلیم شدہ ہیں ۔ ہندوستانی کہلانے والی ہر چیز چاہے وہ لفظ ہو ، خیال ہو ، فنون لطیفہ کی کوئی شکل ہو ، سیاسی ادارہ ہو یا سماجی تہذیبی روایت یا معاشرتی چلن، ہر وہ چیز جسے ہم ہندوستانی سے تعبیر کرتے ہیں مختلف النوع عناصر سے مرکب ملے گی ۔ عید کا تہوار ہو ، دیوالی اور ہولی کی خوشیاں ہوں  ، کربلا کا ماتم ہو ، پونگل اور دسہرا ہو ۔ ہر ایک خوشی ، غم ، رسم ، تہوار ، ہندوستانیت کے رنگ میں رنگا نظر آتا ہے ۔
ہندوستان میں اختلافات کی کثرت ہے ۔ اس کے باوجود تاریخ کے مختلف ادوار میں ہمیں ہندوستانی کلچر کی تعمیر و تزئین میں ایک نمایاں جذبہ اتحاد نہاں ملتا ہے ۔ یہی اندرونی جذبہ اتحاد  ہندوستانی کلچر کا خاص وصف ہے ۔ ہندوستان جیسا وسیع و عریض ملک ، اتنی کثیر آبادی جو انگنت اکائیوں میں بٹی ہوئی ہے اور بوقلمونی لسانی و جغرافیائی  اختلافات کے باوجود ایک ملک اسی لئے کہلاتا ہے کہ اس ملک میں ہندوستانیت کا ایک غیر مرئی احساس پایا جاتا ہے ، جو انیکتا میں ایکتا پیدا کرتا ہے  ۔رنگارنگی میں یک رنگی کی شان لاتا ہے اور اسے اس طرح جاذب نظر بناتا ہے کہ اختلاف کے شعلے بجھ جاتے ہیں اور اتفاق و اتحاد کی فضا قائم ہوجاتی ہے ۔

اردو اسی ہندوستان جنت نشان کی زبان ہے جو مختلف قوموں اور لسانی گروہوں کے ارتباط باہمی اور اختلاط و اشتراک کے براہ راست نتیجہ کے طور پر وجود میں آئی ہے اور اسی لئے اس زبان میں وہی لچک ، وہی جی داری ، وہی جذبہ و کشش وہی جامعیت اور جادو سخنی موجود ہے جو از منۂ قدیم سے ہندوستانی تمدن کا طرہ امتیاز رہی ہیں ۔ یہاں اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ تمدن (کلچر) اور تہذیب (سویلائزیشن) میں فرق ہے ۔ ڈاکٹر ہمایوں کبیر کے الفاظ میں تہذیب زندگی کی وہ تنظیم ہے جو مہذب معاشرہ کو ممکن بناتی ہے اور کلچر یا تمدن اسی قسم کی تنظیم کا نتیجہ ہے اور یہ نتیجہ (تمدن) زبان  ،فن ، فلسفہ ، مذہب  ، سماجی عادات ،معاشرتی رسوم و رواج ، سیاسی اداروں اور اقتصادی و تعلیمی تنظیم کے ذریعہ ظاہر ہوتا ہے ۔ علحدہ علحدہ ان میں سے کوئی بھی کلچر (تمدن) نہیں ہے لیکن وہ سب مل کر کلچر (تمدن) کی تعمیر کرتے ہیں ۔ تمدن تہذیب کا ثمر ہے ۔ اسی لئے تہذیب کے بغیر تمدن کا تصور ناممکن ہے لیکن ایسی تہذیبوں کا وجود ممکن ہے جن کا کلچر ابھی تک ترقی نہ کرپایا ہو ۔
جب ہم ہندوستانی تمدن کی بات کرتے ہیں تو اس سے ہماری مراد یہ ہوتی ہے کہ وہ تسلسل کے ساتھ ترقی یافتہ تہذیب کا نتیجہ ہے اور اس تمدن میں جو رنگارنگی و یگانگت ، رواداری اور برداشت و تحمل کی روایات ہیں وہ صدیوں کے تہذیبی اختلاط کا نتیجہ ہیں اور اسی ہندوستانی تمدن کی واحد مظہر اردو زبان ہے ۔ اس میں نہ تو مبالغہ آرائی ہے اور نہ ہی طرف داری غالب والی جانب دارانہ بات بلکہ یہ ایک تہذیبی تاریخی حقیقت کا اظہار ہے ۔ زبان چونکہ ترسیل و ابلاغ کا واحد ذریعہ ہے اس لئے ایسے ملک میں جہاں قدم قدم پر الگ الگ زبانوں ، تہذیبوں ، نسلوں ، ذاتوں اور مذہبوں سے واسطہ پڑتا ہو ، ایک ایسی زبان کی ضرورت ہر دور میں رہی ہے جسے تھوڑی سی کوشش سے ہر کوئی سیکھ اور سمجھ سکے اور جس کے ذریعے سے اپنی بات دوسروں کو سمجھاسکے ۔ اس ضرورت کی تکمیل کا ذریعہ اردو زبان بنی ہے ۔ بقول شاعر
جہاں بات کرنے میں ہوں دقتیں
وہاں کام آتی ہے اردو زباں
ہندوستان کے غیر متجانس ، کثیر الثقافتی معاشرہ میں وحدت کے گیت عام کرنے والی ، اتحاد کا درس دینے والی اور دلوں کو پریم کی نرمی اور گھلاوٹ سے جوڑنے والی اردو زبان ہندوستانی تمدن کے نمائندہ رجحانات کی علمبردار ہے ۔
جہاں تک قومی یکجہتی کا تعلق ہے تو اس حقیقت کا بخوبی سمجھ لینا چاہئے کہ قومی یکجہتی سے مراد یہ نہیں ہے کہ ایک غالب اکثریت کی تہذیب میں دوسری اقلیتوں کی تہذیبوں کو مدغم کردیا جائے اور اس طرح ان کی انفرادیت کو ختم کرکے ہم آہنگی اور یکجہتی کو قائم کرنے کا دعوی کیا جائے ۔ ظاہر ہے کہ یہ دعوی باطل ہے ۔ اندردھنش (قوس و قزح) میں ساتوں رنگ الگ الگ اپنی بہار دکھاتے ہوئے بھلے لگتے ہیں ۔ اگر ساتوں رنگوں کو زبردستی ملادیا جائے تو سیاہی کے علاوہ کیا حاصل ہوگا؟

قومی یکجہتی سے مراد تو یہ ہے کہ مقصد کا ربط و اتحاد پیدا کرتے ہوئے بھائی چارہ کی فضا اس طرح پیدا کی جائے کہ مختلف تہذیبی و ثقافتی اکائیوں کی انفرادیت اور جداگانہ طرز زندگی نہ صرف باقی رہیں بلکہ نکھر اٹھیں ۔ اردو زبان میں یہ خوبی بدرجہ اتم موجود ہے کہ وہ اس ملک میں بسنے والی مختلف تہذیبی ، نسلی ، لسانی ، مذہبی اور علاقائی اکائیوں کے درمیان جوڑنے والی کڑی کا کام دے سکتی ہے اور اسی لئے وہ قومی یکجہتی کی حقیقی مظہر ہے ۔ بقول جوگیندر پال
The fact is that it (Urdu) is openly secular and naturally disposed to any cuttur seeking an experience through it.
یعنی اردو واضح طور پر سیکولر ہے اور کسی بھی کلچر کے لئے ذریعہ اظہار و ترسیل بننے کے لئے فطری طور پر موزوں ہے ۔
ڈاکٹر رادھا کرشنن نے ایک جگہ لکھا ہے ’’ہندوستان کی کئی ہزار سال کی تہذیبی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ وہ ارباب قوت کے جبر و تشدد سے نہیں بلکہ عارفوں کے وجدان سے ، فلسفیوں کی فکر سے ، زاہدوں کی ریاضت سے اور فنکاروں کے تخیل سے پیدا ہوا ہے‘‘ ۔
(عدم برداشت و عدم تحمل کے حامیوں کے لئے لمحہ فکریہ)
ہم آپ اور وہ سبھی جو اردو کی تاریخ ، اس کی ابتدا اور اس کے عہد بعہد ارتقاء پر نظر رکھتے ہیں اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ اردو کا خمیر جن ہاتھوں نے گوندھا ہے وہ عارفوں ، فلسفیوں  ، زاہدوں ، سنیاسیوں ، صوفیوں اور فقیروں کے ہاتھ تھے، ارباب قوت و سیاست ، بادشاہوں اور حکمرانوں کے ہاتھ نہیں تھے ۔ بقول کسے اردو کا جلوہ صدر رنگ تو مرہون منت ہے ہندوستان کی گنگاجمنی تہذیب کا جس پر عمل پیرا ہو کر شیخ و برہمن ایک دوسرے کے امتیازی اوصاف کا احترام کرتے ہوئے زندگی گذارنے کا سلیقہ رکھتے تھے ۔
اردو ہندوستان کی واحد زبان ہے جو جغرافیائی ، مذہبی ، نسلی اور ذات پات کی حد بندیوں میں گھری ہوئی نہیں ہے ۔ ہندوستان کی تمام زبانیں کسی نہ کسی علاقے سے یا فرقے سے وابستہ ہیں لیکن اردو کا کوئی ایک علاقہ نہیں ،  سارا ہندوستان بلکہ پورا برصغیر اس کا علاقہ ہے ۔ ڈاکٹر گیان چند جین نے لکھا ہے ’’میں اپنے ملک میں کہیں سفر کروں مجھے اردو کی بدولت ہر قسم کی سہولتیں ، میزبانیاں اور تواضعات میسر آتی ہیں ۔ اگر مجھے موقع ملے تو میں اردو ہی کے سہارے مغربی سرحد کے پار اسی خلوص اور گرم جوشی کے ماحول میں گھوم سکتا ہوں‘‘ ۔ یہ بات جہاں اردو میں پوشیدہ یکجہتی کی روح کی وضاحت کرتی ہے وہیں اس سے اردو کورنگارنگ کلچر کی ایک علامت کے طور پر سمجھنے میں بھی آسانی ہوتی ہے ۔ اردو کے ادیب و شاعر کسی ایک علاقے ، کسی خاص مذہب یا کسی مخصوص نسل و ذات سے تعلق ہر نسل ، ہر ذات اور ہر علاقے کے اردو جاننے والے ادیب ، شاعر ، افسانہ نگار ، ناول نگار اور نقاد تخلیق ادب کرتے نظر آتے ہیں ۔

ادیب اور تخلیق کار اپنے ماحول کے اثرات سے بے گانہ نہیں رہ سکتا۔ وہ اپنی تہذیب ، ذاتی و نسلی خصوصیات کو اپنی تحریروں میں درآنے سے نہیں روک سکتا ۔اردو کے ادیب ہندو بھی ہیں ، مسلم بھی ، سکھ ، عیسائی ، پارسی ، بودھ ، جین ، آریہ سماج اردو میں لکھتے رہے ہیں ۔اردو میں لکھنے والے بنگال سے آسام ، مہاراشٹرا ، کشمیر ، تاملناڈو ، کرناٹک اور کنیا کماری تک ملک بھر میں پھیلے ہوئے ہیں اور ان کی تحریروں میں علاقائی خصوصیات بھی نظر آتی ہیں ۔ قرآن کے تراجم و تفاسیر ، گیتا اور اپنیشد ، انجیل ، گروگرنتھ صاحب اور سیتارتھ پرکاش غرض کہ ہر مذہب اور عقیدے کی مقدس کتابیں اردو میں موجود ہیں ۔ جوگندر پال لکھتے ہیں :’’میں نے اپنی رامائن اور مہابھارت اردو میں ہی پڑھی ہے اور میرا یقین ہے کہ میں نے اس میں سنسکرت کی پختگی کا مزہ اٹھایا ہے ۔ اردو میں جپ جی کرنا اتنا ہی اچھا لگتا ہے جتنا پنجابی میں‘‘ ۔
اردو میں حروف تہجی کی تعداد پینتیس ہے ، لیکن مرکب آوازوں (بھ پھ) کو ملا کر یہ تعداد چھیالیس تک پہنچ جاتی ہے جب کہ حروف تہجی کی کثرت دنیا کے تمام صوتیات عناصر کے اظہار کے لئے مناسب و موزوں ہے ۔
اردو میں قومی یکجہتی اور تہذیبی بوقلمونی کے جو نمونے ہمیں دیکھنے کو ملتے ہیں اس کی مثال ہندوستان کی کوئی دوسری زبان پیش کرنے سے قاصر ہے ۔ اردو کے ہی ایک شاعر نظیر اکبر آبادی نے کیا خوب کہا ہے ۔
جھگڑا نہ کرے ملت و مذہب کا کوئی یاں
جس راہ میں جو آن پڑے خوش رہے ہر آن
زنار گلے میں یا کہ بغل بیچ ہو قرآن
عاشق تو قلندر ہے نہ ہندو نہ مسلمان
کافر نہ کوئی ، صاحبِ اسلام رہے گا
آخر وہی اللہ کا ایک نام رہے گا
نظیر اکبرآبادی ہوں یا اور کوئی اردو شاعر ، نظم ہو یا غزل یا کوئی اور صنف سخن ، اللہ کے سداباقی رہنے والے نام کے گن ہر ایک نے گائے ہیں ۔ منشی چھنولال دلگیر سے لے کر جگن ناتھ آزاد اور چندر پرکاش بجنوری تک نہ جانے کتنے غیر مسلم شعراء نے حمد ، نعت اور منقبت لکھی ۔ مرثیے اور سلام لکھے اور ان سبھی میں عقیدت اور جذباتی وابستگی کی وہی فراوانی نظر آتی ہے جو کہ حفیظ جالندھری ، حسرت موہانی تک نے رام کی عظمت کے گیت گائے ، کرشن کنھیا کے پریم کی بانسری بجائے ، ارجن کے بان کے تذکرے کئے ۔ کاشی اور ورنداون کے پاکیزہ ماحول کی عکاسی کی ۔ غرض کہ اردو کے شاعروں نے ہمہ گیر انسانیت کے گیت گائے اور دل کی کدورتوں کو دور کرنے پر زور دیا ۔ ہندو مسلمان میں اتفاق و اتحاد پیدا کرنے والی شاعری نے ملک بھر میں ایک عجیب دلکش روحانی فضا پیدا کردی تھی ۔ اردو کے شاعر کو بت خانے سے کعبہ کی راہ ملتی ہے اور بتوں کا حسن دیکھ کر اسے خدا یاد آتا ہے ۔ رادھے شیام کا بھجن حسرت موہانی کو بھی مستانہ کردیتاہے اور کہہ اٹھتے ہیں    ؎
متھرا سے اہل دل کو وہ آتی ہے بوئے انس
دنیائے جاں میں شور ہے اس کے دوام کا
مخلوق ہے اک نگاہ کرم کی امیدوار
مستانہ کررہا ہے بھجن رادھے شیام کا
شورناقوس برہمن سن کر ناطق گلاؤٹھی کو بھولی ہوئی تکبیریں یاد آجاتی ہیں اور ایمان تازہ ہوجاتا ہے ۔
ہوا ایمان تازہ ، شورِ ناقوسِ برہمن سے
مری بھولی ہوئی یاد آرہی ہے مجھ کو تکبیریں
اور یہاں ناطق کا یہ شعر بھی سن لیجئے جو کچھ میں عرض کررہا ہوں اس کی تائید مزید ہوجائے گی ۔

ہے طول و عرض ملک پہ چھائی ہوئی یہی
ناطق کہیں کی خاص اب اردو زباں نہیں
اردو غزل نے جس طرح ہندوستان کے طول و عرض میں اتحاد کی فضا پیدا کرنے میں یوگ دان کیا ہے اس کی وضاحت کی ضرورت نہیں ہے ۔ غزل کی شائستگی ، تہذیب ، شگفتگی اور اس کے جمہوری و سیکولر خیالات نے دیش واسیوں کے دلوں کو کچھ اس طرح موہ لیا ہے کہ ہندوستان کی دوسری زبانوں میں بھی تخلیق کار غزل کی ہیئت میں غزل کہنے اور غزل لکھنے کی کوشش کررہے ہیں اور کامیابی سے کررہے ہیں ۔
اردو کی خوبیاں اپنی بقا کے لئے بولنے لکھنے برتنے والوں سے خراج عمل مانگتی ہیں ۔ جگن ناتھ آزاد کے الفاظ میں   ؎
اسِے اہل وطن دیکھیں نہ ہرگز بدگمانی سے
کہ دھل کر آئی ہے یہ زمزم و گنگا کے پانی سے
ریاض ہند میں اردو وہ اک خوش رنگ پودا ہے
جسے خونِ جگر سے ہندو و مسلم نے سینچا ہے
مرے اہل وطن یہ آدمیت کا تقاضا ہے
کہ ہم پامال جورِ آسماں ہونے نہ دیں اس کو
خزاں کے دور میں وقفِ خزاں ہونے نہ دیں اس کو
عمل کا یہ خراج ہم اس طرح ادا کرسکتے ہیں کہ اپنے گھروں میں اردو رائج کریں ، کم از کم ایک رسالہ یا اخبار خرید کر پرھیں ۔ اپنے اپنے حلقے میں ہر اردوداں کم از کم دو غیر اردو دانوں کو اردو کی بنیادی تعلیم دے اور کوشش کرے کہ روزی روٹی کا ذریعہ نہیں لیکن ایسی کتنی زبانیں ہیں جو اس کے باوجود بھی زندہ ہیں ۔ ہم اردو کو زندہ رکھ سکتے ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT