Monday , November 20 2017
Home / شہر کی خبریں / اردو مسکن کو مذہبی ، ادبی اور ثقافتی سرگرمیوں کے لیے دوبارہ کھولنے کا فیصلہ

اردو مسکن کو مذہبی ، ادبی اور ثقافتی سرگرمیوں کے لیے دوبارہ کھولنے کا فیصلہ

روزنامہ سیاست کی خبر کا اثر ، مختلف تنظیموں کو بڑی راحت ، بکنگ کا آغاز
حیدرآباد۔/6ڈسمبر، ( سیاست نیوز) پرانے شہر میں حکومت کی جانب سے تعمیر کردہ اردو مسکن کو مذہبی، ادبی اور ثقافتی سرگرمیوں کیلئے دوبارہ کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ’سیاست‘ میں خبر کی اشاعت کے بعد محکمہ اقلیتی بہبود کے سکریٹری نے اپنی سابقہ ہدایات سے دستبرداری اختیار کرتے ہوئے اردو مسکن کی بکنگ کا آغاز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس طرح روز نامہ ’سیاست‘ کی خبر کے اثر سے محکمہ اقلیتی بہبود کو اپنے فیصلہ پر نظر ثانی کرنی پڑی ساتھ ہی ساتھ شہر کی ادبی، ثقافتی اور مذہبی تنظیموں کو بڑی راحت ملی ہے جو گزشتہ 10دن سے بکنگ بند کئے جانے کے فیصلہ سے پریشان تھے۔ واضح رہے کہ اردو اکیڈیمی کے تحت چلنے والے اردو مسکن میں برسر خدمت پارٹ ٹائم ملازم سے ناراض ہوکر سکریٹری نے بکنگ بند کرنے کی ہدایت دی تھی۔ اس ملازم کو نہ صرف خدمات سے معطل کردیا گیا بلکہ اس کی تنخواہ روک دی گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ اس فیصلہ سے شہر کی مختلف تنظیموں نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کی مختلف سطح پر نمائندگی کی تھی۔ عہدیدار یہ کہتے ہوئے اپنا دامن بچانے کی کوشش کررہے تھے کہ ایر کنڈیشنڈ اور جنریٹر کی تنصیب کے سلسلہ میں بکنگ کو روک دیا گیا ہے۔ حالانکہ اس کے بغیر بھی اب تک اردو مسکن کے دونوں ہالس میں مختلف پروگرامس منعقد ہوتے رہے ہیں۔ ایسے وقت جبکہ ماہ ربیع الاول کا آغاز ہوا ہے بکنگ بند کرنے کا فیصلہ تشویش کا باعث بن گیا اور مختلف مذہبی اور ادبی سرگرمیوں پر اچانک روک لگ گئی۔ میلادالنبی ؐ کے سلسلہ میں منعقد ہونے والے جلسے اور محافل کیلئے اردو مسکن ایک موزوں ہال تصور کیا جاتا ہے جو پرانے شہر کے خلوت علاقہ میں واقع ہے اور تمام عصری سہولتوں سے آراستہ ہے۔ مذہبی تنظیموں  نے سکریٹری اقلیتی بہبود کے بکنگ بند کرنے کے فیصلہ کو مسلم اور اردو دشمنی سے تعبیر کیا کیونکہ گذشتہ 10 دن میں اگر بکنگ جاری رکھی جاتی تو روزانہ دونوں ہالس بھی ان تقاریب سے آراستہ رہتے۔ روز نامہ ’سیاست‘ میں آج اس تعلق سے خبر کی اشاعت اور مسلمانوں میں پھیلی بے چینی کو پیش کئے جانے کے بعد عہدیداروں کو اپنا فیصلہ واپس لینے پر مجبور ہونا پڑا۔ اگرچہ یہ فیصلہ ابھی بھی عارضی بتایا جارہا ہے لیکن اب مزید بکنگ روکے جانے کا کوئی امکان نہیں اور اس طرح کے کسی فیصلہ کی صورت میں مسلمانوں کی ناراضگی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT