Saturday , October 20 2018
Home / شہر کی خبریں / اردو میڈیم اسکولوں کو انگلش میڈیم میں تبدیل کرنے کے خلاف احتجاج

اردو میڈیم اسکولوں کو انگلش میڈیم میں تبدیل کرنے کے خلاف احتجاج

حکومت کی اردو دوستی کے باوجود اقلیتی عہدیدار شفیع اللہ کی اردو دشمنی
حیدرآباد۔/20 فبروری، ( سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے اردو کو ریاست بھر میں دوسری سرکاری زبان کا موقف دیتے ہوئے نظم و نسق میں اردو کے استعمال کو یقینی بنانے کا وعدہ کیا لیکن افسوس کہ حکومت کے اقلیتی عہدیدار خود اردو کے ساتھ ناانصافی کررہے ہیں۔ اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دینے کے بعد حکومت کو ریاست بھر میں اردو میڈیم مدارس کی تعداد میں اضافہ کرنا ہوگا۔ اردو میڈیم ذریعہ تعلیم کی حوصلہ افزائی کیلئے حکومت نے مسابقتی امتحانات کے انٹرنس ٹسٹ اردو میں لکھنے کی سہولت فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایک طرف حکومت کا اردو کے بارے میں ہمدردانہ رویہ ہے تو دوسری طرف اقلیتی اقامتی اسکول سوسائٹی نے اردو میڈیم جونیر کالجس اور اقامتی اسکولوںکو انگلش میڈیم میں تبدیل کردیا۔ سوسائٹی کے سکریٹری بی شفیع اللہ کے اس فیصلہ کے خلاف آل انڈیا مسلم تھنک ٹینک اسوسی ایشن نے سخت احتجاج کیا ہے۔ واضح رہے کہ اقامتی اسکول سوسائٹی کے قیام کے بعد حکومت نے 30 مارچ 2017 کو 12 اقامتی اسکولس اور 2 جونیر کالجس کا انتظام سوسائٹی کے تحت کرتے ہوئے احکامات جاری کئے۔ 12اقامتی اسکولوں میں 6 اردو میڈیم اسکولس اور 2 جونیر کالجس شامل ہیں۔ انہیں سوسائٹی کے زیر انتظام کئے جانے کے بعد سوسائٹی کے سکریٹری بی شفیع اللہ نے اپنے طور پر فیصلہ کرتے ہوئے میڈیم کو اردو سے انگلش میں تبدیل کردیا۔ اقلیتی اقامتی اسکولس چونکہ انگلش میڈیم کی تعلیم فراہم کررہے ہیں لہذا اردو میڈیم اسکولوں اور جونیر کالجس کو بھی انگلش میڈیم میں تبدیل کردیا گیا جو اردو اور اقلیتوں کے ساتھ صریح ناانصافی ہے۔ جن اردو میڈیم اقامتی اسکولوں کی شناخت ختم کردی گئی ان میں بارکس، ناگارام نظام آباد، سنگاریڈی، ابراہیم پٹنم ، محبوب نگر شامل ہیں جبکہ جونیر کالجس میں قلی قطب شاہ اردو ریزیڈنشیل جونیر کالج بارکس اور ریزیڈنشیل جونیر کالج نظام آباد شامل ہیں۔ اسوسی ایشن کے صدر سید شمشاد قادری نے بتایا کہ 1986 میں تلگودیشم حکومت نے 6 اقامتی اسکول اردو میڈیم کے قائم کئے تھے اس کے علاوہ دو اردو میڈیم جونیر کالجس کو اَپ گریڈ کیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ اردو میڈیم کو انگلش میڈیم میں تبدیل کرنا دستور کی دفعات 29 اور 30 کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہاکہ سکریٹری اقامتی اسکول سوسائٹی کے اقدامات حکومت کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں۔ اس سلسلہ میں ایک یادداشت چیف سکریٹری اور پرنسپل سکریٹری اقلیتی بہبود کو روانہ کی گئی ہے۔ چیف منسٹرکے چندر شیکھر راؤ سے اس معاملہ میں مداخلت کی اپیل کی گئی۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT