Thursday , January 18 2018
Home / شہر کی خبریں / اردو میڈیم سرکاری و اقامتی مدارس کو امداد

اردو میڈیم سرکاری و اقامتی مدارس کو امداد

حیدرآباد۔/20فبروری، ( سیاست نیوز) ریاست کے اردو میڈیم سرکاری اور اقامتی مدارس میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی کیلئے اردو اکیڈیمی کی جانب سے شروع کردہ منفرد اسکیم کے تحت 1028 اسکولوں میں 2کروڑ 16لاکھ 15ہزار روپئے تقسیم کئے گئے۔ اس سلسلہ میں آج حج ہاوز میں ایک تقریب منعقد کی گئی۔ انفراسٹرکچر سہولتوں کی فراہمی کے سلسلہ میں پرائمری اسکولس کو

حیدرآباد۔/20فبروری، ( سیاست نیوز) ریاست کے اردو میڈیم سرکاری اور اقامتی مدارس میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی کیلئے اردو اکیڈیمی کی جانب سے شروع کردہ منفرد اسکیم کے تحت 1028 اسکولوں میں 2کروڑ 16لاکھ 15ہزار روپئے تقسیم کئے گئے۔ اس سلسلہ میں آج حج ہاوز میں ایک تقریب منعقد کی گئی۔ انفراسٹرکچر سہولتوں کی فراہمی کے سلسلہ میں پرائمری اسکولس کو ایک کروڑ 37لاکھ 20ہزار روپئے، اپر پرائمری اسکولس کو 26لاکھ 20ہزار روپئے اور ہائی اسکولس کو 52لاکھ 75ہزار روپئے تقسیم کئے گئے۔ اسپیشل سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل اور کمشنر اقلیتی بہبود شیخ محمد اقبال کے ہاتھوں پرنسپلس کو چیکس جاری کئے گئے۔ ہائی اسکولس کیلئے فی کس 25ہزار اور اپر پرائمری اسکولس کیلئے 20 ہزار روپئے انفرااسٹرکچر سہولتوں کی فراہمی کیلئے جاری کئے گئے ہیں۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسپیشل سکریٹری سید عمر جلیل نے اردو اکیڈیمی کی جانب سے تمام اسکیمات پر موثر عمل آوری کی ستائش کی اور کہا کہ اسکولوں میں انفرااسٹرکچر کی فراہمی ضروری ہے تاکہ طلبہ کیلئے بہتر تعلیمی سہولتیں فراہم کی جاسکیں۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست میں جملہ 3000 اردو میڈیم اسکولس ہیں لیکن فی الوقت صرف 1028 اسکولس کو ہی فنڈز جاری کئے گئے۔ آئندہ سال تمام 3ہزار مدارس کو فنڈز کی اجرائی کی مساعی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی اسکول کیلئے یہ رقم ناکافی ہے لہذا وہ اس رقم کو دوگنا کرنے کیلئے حکومت کو تجویز پیش کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ جاریہ سال اقلیتی بہبود کیلئے مختص کردہ 1027کروڑ روپئے میں سے 750کروڑ جاری کئے گئے اور محکمہ نے 475کروڑ روپئے خرچ کئے ہیں۔ سید عمر جلیل نے کہا کہ خود روزگار اسکیم کے تحت اقلیتی فینانس کارپوریشن کیلئے 100کروڑ اور کرسچین فینانس کارپوریشن کیلئے 18کروڑ روپئے مختص کئے گئے۔ اس اسکیم کے تحت نشانہ سے زیادہ درخواستیں وصول ہوئی ہیں۔

انہوں نے توقع ظاہر کی کہ 31مارچ سے قبل دونوں ادارے امیدواروں میں سبسیڈی کی رقم جاری کردیں گے۔ سید عمر جلیل نے اردو میڈیم ایس ایس سی نتائج کو بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ ساتویں اور دسویں جماعت کی نصابی کتب اردو اکیڈیمی سے شائع کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اردو میڈیم ایس ایس سی نتائج فی الوقت 61فیصد ہیں انہیں 90فیصد تک پہنچانا ہوگا۔ کمشنر اقلیتی بہبود شیخ محمد اقبال نے امید ظاہر کی کہ آمدنی میں اضافہ کے بعد آئندہ سال سے وقف بورڈ بھی اردو مدارس کی امداد کے قابل ہوجائے گا۔ پروفیسر ایس اے شکور ڈائرکٹر اردو اکیڈیمی نے خیرمقدمی تقریر میں کہا کہ اکیڈیمی نے تمام اسکیمات پر عمل آوری مکمل کرلی ہے اور صرف ایوارڈ کی اسکیم باقی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اردو میڈیم مدارس میں انفرااسٹرکچر کی کمی کی شکایت پر پہلی مرتبہ یہ اسکیم شروع کی گئی۔ اسکیم پر عمل آوری میں مکمل شفافیت سے کام لیا گیا اور ڈی ای او کے ذریعہ درخواستیں وصول کی گئیں اور اس رقم کے خرچ کو یقینی بنانا ڈی ای اوز کی ذمہ داری ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ انٹر سال دوم کی نصابی کتب اردو اکیڈیمی شائع کررہی ہے۔ اضلاع کے اردو میڈیم مدارس کے چیک بذریعہ پوسٹ روانہ کئے جارہے ہیں۔ جن اردو میڈیم مدارس کو امداد جاری کی گئی ان میں عادل آباد(44)، اننت پور (111)، گنٹور (40)، حیدرآباد (106)، کریم نگر(63)، کرشنا (46)، کڑپہ (7)، کرنول (118)، محبوب نگر (73)، میدک (108)، نلگنڈہ (30)، نظام آباد(162)، پرکاشم (29)، رنگاریڈی (34)اور ورنگل (57) مدارس شامل ہیں۔

TOPPOPULARRECENT