Wednesday , September 19 2018
Home / شہر کی خبریں / اردو میڈیم طلباء کا مستقبل تابناک۔ طلباء نصابی علم کے ساتھ ہمہ جہت قابلیت کے حصول پر توجہ کریں

اردو میڈیم طلباء کا مستقبل تابناک۔ طلباء نصابی علم کے ساتھ ہمہ جہت قابلیت کے حصول پر توجہ کریں

اردو آرٹس ایوننگ کالج کی’ کالج ڈے ‘تقریب سے پروفیسر ایم ایم تقی خان، پروفیسر فاطمہپروین کا خطاب

اردو آرٹس ایوننگ کالج کی’ کالج ڈے ‘تقریب سے پروفیسر ایم ایم تقی خان، پروفیسر فاطمہپروین کا خطاب

حیدرآباد۔یکم مارچ، ( راست ) اردو میڈیم طلباء کا مستقبل تابناک ہے اور انہیں روزگار کے ضمن میں کسی بھی شک و شبہ سے بالاتر ہوکر اپنے تعلیمی میدانوں میں ایکسلنس پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ اردو آرٹس ایوننگ کالج حمایت نگر کی کالج ڈے اور تقسیم اسناد تقریب سے حیدرآباد کے ممتاز دانشور اور تعلیم کے مختلف شعبوں کی بین الاقوامی شہرت یافتہ شخصیات نے اپنے خطاب میں اردو میڈیم طلباء کو یقین دہانی دی۔ ممتاز سائنسداں پروفیسر ایم ایم تقی خان، جناب غلام یزدانی، پروفیسر فاطمہ پروین، جناب سجاد شاہد اور پروفیسر مسعود علی خان نے طلباء کو مخاطب کیا اور کامیاب طلباء میں تقسیم انعام و اسناد کی۔ پروفیسر ایم ایم تقی خان نے جامعہ عثمانیہ کے سنہری دور اور تمام تعلیمی شعبوں کے اردو ذریعہ تعلیم کی سنہری یادوں کو طلباء کے سامنے پیش کیا اور کہا کہ کوئی بھی ذریعہ تعلیم طالب علم کو اس سے روزگار کے مواقع نہ تو چھینتا ہے نہ پیدا کرتا ہے بلکہ مختلف علوم کا ذریعہ تعلیم صرف طالب علم کی صلاحیتوں کو اُجاگر کرنے میں ممدومعاون ہوتا ہے۔ اس سلسلہ میں کسی بھی طرح کے اعلیٰ و ارفع روزگار کے حصول میں علم اور طالب علم کی ذاتی صلاحیتیں ہی کارگر ہوتی ہیں۔ جناب سجاد شاہد سکریٹری کرسپانڈنٹ اردو آرٹس ایوننگ کالج نے بہ حیثیت پرنسپل نظام کالج جناب تقی خان کے انتظامی ویژن کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے طلباء پر زور دیا کہ وہ نصابی تعلیم کے علاوہ غیر نصابی صلاحیتوں جیسے پرسنالٹی ڈیولپمنٹ، کمیونیکیشن اِسکلس وغیرہ پر بھی بہت زیادہ توجہ دیں۔ انہوں نے اس موقع پر کہا کہ طلباء کی ہمہ جہت ترقی کیلئے اردو آرٹس ایوننگ کالج میں تمام تر سہولیات فراہم رکھی گئی ہیں۔ پروفیسر فاطمہ بیگم پروین سابق صدر شعبہ اردو جامعہ عثمانیہ نے طلباء کو ڈسپلن اور اپنی دھن کے پکے ہونے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ پروفیسر حبیب الرحمن نے جس خلوص نیت سے اپنا قیمتی اثاثہ اردو ذریعہ تعلیم کے لئے وقف کردیا تھا۔ آج کالج کی ترقی اور اس کالج کیمپس میں اردو میڈیم طلباء کی اُبھرتی صلاحیتوں کے مظاہرے نے منشاء وقف کی بہترین مثال قائم کی ہے۔ انہوں نے طلبہ کو مشورہ دیا کہ وہ علم کی کسی بھی منزل کو آخری منزل نہ سمجھیں اور جہاں تک ممکن ہو حصول علم میں مصروف رہیں اور جس میدان میں بھی ہوں اس میں ایکسلنس پیدا کریں کیونکہ آج کے روزگار مارکٹ میں صرف ڈگری نہیں بلکہ طالب علم کی روزگار مارکٹ کے تقاضوں سے مربوط صلاحیتوں کو اہمیت دی جاتی ہے۔ اپنے صدارتی خطاب میں سینئر ایڈوکیٹ ہائی کورٹ و چیرمین گورننگ باڈی اردو آرٹس ایوننگ کالج جناب غلام یزدانی نے طلباء کو مبارکباد دی اور کیمپس میں فراہم تمام تر بہترین انفراسٹرکچر لائبریری، اساتذہ وغیرہ سے بہتر استفادہ کی ترغیب دی۔ انہوں نے کہا کہ علم کے کسی بھی شعبہ میں کمال اپنی مادری زبان میں حصول علم سے مزید نمایاں ہوجاتا ہے۔ ابتداء میں قرأت کلام پاک سے تقریب کا آغاز ہوا۔ حمد باری تعالیٰ اور نعت شریف کی پیش کشی کے بعد پرنسپل ڈاکٹر عتیق اقبال نے کالج کی سالانہ رپورٹ پیش کی۔ اردو میڈیم طالب علم کی جانب سے سالانہ امتحانات میں امتیازی کامیابی پر کالج کے سابق طالب علم سے وابستہ ٹرسٹ کی جانب سے تین ہزار روپئے نقد انعام کا بھی اعلان کیا۔ تقریب میں سکریٹری انجمن ترقی اردو آندھرا پردیش جناب محمد عبدالرحیم خان کے علاوہ سابق طلباء، اولیائے طلباء کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ کنوینرس احمد وسیم نعمانی اور رئیسہ بیگم متعلم بی کام نے بحیثیت کنوینر تقریب کی کارروائی چلائی۔ طالب علم عدنان حضرمی کے شکریہ پر تقریب کا اختتام عمل میں آیا۔

TOPPOPULARRECENT