Sunday , November 19 2017
Home / شہر کی خبریں / اردو میڈیم ٹیچرس کی مخلوعہ جائیدادوں پرعنقریب تقررات

اردو میڈیم ٹیچرس کی مخلوعہ جائیدادوں پرعنقریب تقررات

اقلیتوں کیلئے 120 اقامتی مدارس، چیف منسٹرکا اعلیٰ سطح کا اجلاس، اقلیتی اسکیمات کا جائزہ
حیدرآباد۔/29ڈسمبر، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے ریاست میں اقلیتی طلباء و طالبات کیلئے اقامتی مدارس کی اسکیم پر تیزی سے عمل آوری اور اردو میڈیم کی مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کی ہدایت دی ہے۔ چیف منسٹر نے شادی مبارک اسکیم کی تمام زیر التواء درخواستوں کی عاجلانہ یکسوئی کیلئے ضلع کلکٹرس کو ہدایت دی۔ اس کے علاوہ اقلیتی فینانس کارپوریشن کو آٹو اسکیم 5 جنوری تک مکمل کرنے کا مشورہ دیا۔ جائزہ اجلاس میں ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی، ڈائرکٹر جنرل اینٹی کرپشن بیورو اے کے خاں، سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل، ڈائرکٹر اقلیتی بہبود ایم جے اکبر، منیجنگ ڈائرکٹر اقلیتی فینانس کارپوریشن بی شفیع اللہ اور چیف منسٹر آفس کے اعلیٰ عہدیدار موجود تھے۔ چیف منسٹر نے آج اعلیٰ سطحی اجلاس میں اقلیتی بہبود سے متعلق اُمور کا جائزہ لیا۔ چیف منسٹر نے ڈپٹی چیف منسٹر و وزیر تعلیم کڈیم سری ہری کو ہدایت دی کہ وہ اردو میڈیم کی تمام مخلوعہ ٹیچرس کی جائیدادوں پر تقررات کو مجوزہ ڈی ایس سی میں شامل کریں تاکہ اردو میڈیم اسکولس میں اساتذہ کی کمی دور کی جاسکے۔ انہوں نے ضلع واری سطح پر مخلوعہ جائیدادوں کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے فیصلہ کرنے کی ہدایت دی۔ کڈیم سری ہری نے اس مسئلہ پر اقلیتی بہبود اور محکمہ تعلیم کے عہدیداروں کے ساتھ مشاورت کی اور ضلع واری سطح پر مخلوعہ جائیدادوں کی تفصیلات طلب کی ہے۔ اس طرح طویل عرصہ بعد اردو میڈیم اساتذہ کی مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کا عمل شروع ہورہا ہے۔ تلنگانہ ریاست میں ایک اندازہ کے مطابق اردو میڈیم کی 2000 سے زائد مخلوعہ جائیدادیں ہیں۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ چیف منسٹر نے اردو میڈیم ٹیچرس کی جائیدادوں میں ایس سی، ایس ٹی طبقات کو تحفظات کے سبب جائیدادیں مخلوعہ رہنے پر تشویش کا اظہار کیا اور اردو میڈیم میں تحفظات سے متعلق جائیدادوں کو اوپن زمرہ میں شامل کرنے سے اتفاق کیا۔ اس طرح تحفظات کے سبب اردو میڈیم اساتذہ کی جائیدادوں پر تقررات میں اہم رکاوٹ دور ہوجائے گی۔ توقع ہے کہ آئندہ دو دن میں ضلع واری سطح پر مخلوعہ جائیدادوں کی تفصیلات حاصل کرلی جائیں گی۔ چیف منسٹر نے اقلیتی طلباء و طالبات کیلئے 120 اقامتی مدارس کے قیام کا جائزہ لیا۔ 60اقامتی اسکولس طلباء اور 60 طالبات کیلئے ہوں گے۔ 2 جنوری کو کابینہ کے اجلاس میں اس فیصلہ کو باقاعدہ منظوری دی جائے گی۔ 6 ایکر پر ایک اقامتی اسکول تمام بنیادی سہولتوں کے ساتھ رہے گا اور ہر اسکول پر 20کروڑ روپئے کے خرچ کی گنجائش ہے۔ چیف منسٹر کو بتایا گیا کہ اقامتی اسکولس کیلئے ضلع کلکٹرس کی جانب سے اراضی کی نشاندہی کا کام شروع ہوچکا ہے۔ 5 برسوں میں 120 اقامتی اسکولس کے قیام کا ایکشن پلان تیار کیا جائے گا اور جاریہ سال کم سے کم 20 اسکولس کا آغاز ہوجائیگا۔ چیف منسٹر اقلیتوں کی تعلیمی ترقی سے متعلق اسکیمات پر تیزی سے عمل آوری کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے  شادی مبارک اسکیم کی 5500 زیر التواء درخواستوں کی عاجلانہ یکسوئی کیلئے ضلع کلکٹرس کو ہدایت دی۔ یہ درخواستیں منڈل ریونیو آفیسرس کے پاس زیر التواء ہیں۔ چیف منسٹر نے کہا کہ اس اسکیم کیلئے بجٹ کی اجرائی میں کوئی رکاوٹ نہیں رہے گی۔ انہوں نے حیدرآباد اور رنگاریڈی میں 1000 آٹو رکشاء کی فراہمی سے متعلق اسکیم کو 5جنوری تک مکمل کرنے کی ہدایت دی۔

TOPPOPULARRECENT