Monday , June 25 2018
Home / اضلاع کی خبریں / اردو میڈیم کی ہونہار طالبہ کا آئی آئی آئی ٹی میں داخلہ

اردو میڈیم کی ہونہار طالبہ کا آئی آئی آئی ٹی میں داخلہ

حیدرآباد ۔ 14 جولائی (محمد ریاض احمد) ہمارے معاشرہ میں چھوٹے بچے بچیوں سے اگر پوچھا جائے کہ بیٹے آپ بڑے ہوکر کیا بننا چاہتے ہیں تو 99 فیصد بچوں کا یہی جواب ہوتا ہیکہ ہم بڑے ہوکر ڈاکٹر یا انجینئر بننا چاہتے ہیں۔ ان میں سے کوئی نہیں کہتا کہ میں پڑھ لکھ کر آئی اے ایس، آئی پی ایس، آئی ایف ایس بننا چاہتا ہوں لیکن قارئین آج ہم ایک ایسی ہونہار ل

حیدرآباد ۔ 14 جولائی (محمد ریاض احمد) ہمارے معاشرہ میں چھوٹے بچے بچیوں سے اگر پوچھا جائے کہ بیٹے آپ بڑے ہوکر کیا بننا چاہتے ہیں تو 99 فیصد بچوں کا یہی جواب ہوتا ہیکہ ہم بڑے ہوکر ڈاکٹر یا انجینئر بننا چاہتے ہیں۔ ان میں سے کوئی نہیں کہتا کہ میں پڑھ لکھ کر آئی اے ایس، آئی پی ایس، آئی ایف ایس بننا چاہتا ہوں لیکن قارئین آج ہم ایک ایسی ہونہار لڑکی سے آپ کی ملاقات کراتے ہیں جس نے دسویں جماعت میں 9.5 فیصد نشانات حاصل کرتے ہوئے سارے جگتیال ڈیویژن میں پہلا مقام حاصل کیا۔ اردو میڈیم کی اس طالبہ اسماء پروین بنت شیخ باشاہ نے نہ صرف ایس ایس سی میں امتیازی کامیابی حاصل کی بلکہ میرٹ کی بنیاد پر آئی آئی آئی ٹی باسر کے 6 سالہ بی ٹیک انٹی گریٹیڈ کورسس کیلئے ان کا انتخاب عمل میں آیا۔ اسماء پروین کی اس مثالی کامیابی پر ضلع کریم نگر کے علمی حلقوں میں مسرت کا اظہار کیا جارہا ہے۔ اسماء پروین نے اپنی محنت و جستجو کے ذریعہ یہ ثابت کردیا ہیکہ اگر آپ میں حصول علم کا جنوں کی حد تک شوق ہو تو پھر غربت، ذات پات، رنگ و نسل، تعصب و جانبداری کوئی بھی شئے آپ کی ترقی، کامیابی و کامرانی کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ مٹ پلی کریم نگرکی رہنے والی لڑکی سیکل ریپیرنگ اور پنکچر بنانے والے جناب شیخ باشاہ کے چار بچوں میں سب سے بڑی ہیں۔ والد کی خراب معاشی حالت کے باوجود انہوں نے یہ تہیہ کرلیا کہ وہ ہر حال میں تعلیم حاصل کرکے رہیں گی۔ ان کے اس عزم و حوصلہ کو دیکھ کر گورنمنٹ ضلع پریشد ہائی اسکول اردو میڈیم کے اساتذہ بالخصوص ہیڈ ماسٹر جناب محمد عبدالحفیظ قریشی نے اس ہونہار طالبہ کی بھرپور حوصلہ افزائی کی نتیجہ میں اسماء نے اپنے شاندار تعلیمی مظاہرہ کے ذریعہ ایس ایس سی امتحانات میں GPA 9.5 یعنی 95 فیصد نشانات حاصل کرتے ہوئے اردو میڈیم اسکولس اور طلبہ کا سر فخر سے اونچا کردیا۔ صوم و صلوٰۃ کی پابند اس لڑکی نے بتایا کہ انہوں نے اردو میں 90، تلگو میں 100، ریاضی (حساب) میں 100، سائنس میں 100، سمالی علوم میں 90 اور انگریزی میں 90 فیصد نمبرات حاصل کئے۔ آئی آئی آئی ٹی باسر میں اپنے انتخاب کے بارے میں سوال پر اپنے شاندار تعلیمی مظاہرہ کے ذریعہ اپنے والدین خاندان اسکول اساتذہ اور ضلع کریم نگر کا نام روشن کرنے والی 15 سالہ اس طالبہ نے بتایا کہ انہیں اچھی طرح معلوم ہیکہ ان کے والدین غریب ہیں، ان کے پاس دولت نہیں ہے ایسے میں انہوں نے یہی سوچا کہ اگر والدین کے پاس مادی دولت نہ ہو تو کیا ہوا وہ بھی اپنی محنت کے ذریعہ مادی دولت سے کہیں زیادہ قیمتی دولت یعنی علم حاصل کریں گی کیونکہ علم ایسی دولت ہے جس میں کمی نہیں بلکہ ہمیشہ اضافہ ہوتا ہے۔ ان کے ذہن میں یہ بات گھر گئی کہ غریب تو وہ ہیں جو علم کی دولت سے محروم ہیں اور جن کے پاس علم ہو اور علم حاصل کرنے کا جذبہ ہو تو وہ یقیناً دولتمند ہیں۔ چنانچہ اسماء پروین نے اپنی ساری توجہ مرکوز کردی۔ ان کا مقصد ایس ایس سی میں صدفیصد نمبرات حاصل کرنا تھا اور اللہ کے فضل و کرم اور حضوراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تصدق سے تین مضامین میں انہیں صدفیصد نشانات حاصل ہوئے جس کی بنیاد پر ہی وہ آئی آئی آئی ٹی باسر جیسے ممتاز ٹیکنالوجی ادارے میں داخلہ کی مستحق قرار پائیں۔ اسماء پروین کی اس شاندار کامیابی میں ان کے والد شیخ باشاہ اور والدہ واحد بی کا اہم رول رہا۔ والد نے 9 ویں جماعت تک تعلیم حاصل کی اور ماں نے کچھ نہیں پڑھا اس کے باوجود دونوں نے اپنی بیٹی کو پڑھانے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی اور اس کے ہر ضرورت کا خیال رکھا۔ اپنے مستقبل کے عزائم اور منصوبوں کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر اس ہونہار طالبہ نے بتایا کہ ایس ایس سی میں امتیازی کامیابی حاصل کرنے کے مقصد میں اللہ عزوجل نے انہیں کامیاب عطا کردی۔ دوسرا مقصدآئی ٹی آئی ٹی کے چھ سالہ انٹیگریٹیڈ کورس میں یادگار کامیابی حاصل کرنا ہے اور تیسرا اہم مقصد آئی اے ایس یا آئی پی ایس بننا ہے۔ اللہ سے امید ہیکہ پہلے مقصد میں کامیابی کی طرح میں دوسرے اور تیسرے مقصد میں بھی کامیاب رہوں گی۔ اس سوال پر کہ آئی اے ایس اور آئی پی ایس بن کر وہ کیا کرنا چاہتی ہیں؟ اسماء نے بڑے بااعتماد لہجہ میں کہا کہ وہ اعلیٰ عہدہ پر فائز ہوکر غریبوں کی مدد کرنا چاہتی ہیں۔ مسلمانوں میں ناخواندگی کے خاتمہ کی خواہاں ہے۔ قوم و ملت کی بے لوث خدمت ان کا نصب العین ہے۔ اپنے اسکول ہیڈ ماسٹر جناب محمد عبدالحفیظ قریشی اور اساتذہ شیخ فیاض احمد (ریاضی)، محمد رحیم الدین (انگریزی)، محمد عبدالرزاق (حیاتیات)، فائزہ امروز (طبیعیات)، محترمہ نورجہاں (اردو)، محترمہ بھاگیہ لکشمی (تلگو)، محمد عبدالعزیز (سماجی علوم) اور محمد ابراہیم (تلگو) سے اظہارتشکر کرتے ہوئے اسماء پروین نے بتایا کہ ہیڈ ماسٹر اور ان اساتذہ کی کوششوں کے نتیجہ میں انہیں کامیابی ملی ہے۔ اس لڑکی کا یہ بھی کہنا تھا کہ گذشتہ 5 برسوں سے اسکول کا نتیجہ 90 فیصد سے زائد رہا اور کامیاب ہونے والوں میں لڑکیوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ ان کے اسکول میں طلبہ کو ’’نو لڑائی اونلی پڑھائی‘‘ کا نعرہ دیا گیا ہے۔ ان کی چھوٹی بہن سلمیٰ بیگم بھی اس اسکول میں دسویں جماعت کی طالبہ ہے اور دو چھوٹے بھائی ایوب شیخ پاشاہ اور خالد شیخ پاشاہ بالترتیب چوتھی اور چھٹویں جماعت میں زیرتعلیم ہیں۔ اسماء پروین نے آج دفتر سیاست پہنچ کر ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں سے ملاقات کی۔ اس موقع پر نامہ نگار سیاست کورٹلہ سلیم فاروقی اور نمائندہ سیاست مٹ پلی محمد شاہد کے علاوہ اس طالبہ کے نانا شیخ محبوب اور دادا شیخ محمد کے علاوہ انجمن اشاعت اردو کے صدر محمد عبدالعزیز بھی موجود تھے۔ جناب زاہد علی خاں نے اسماء پروین کی غیرمعمولی کامیابی پر کافی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اپنی جانب سے ان کی ممکنہ مالی مدد کا اعلان کیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آج ملت کو اسماء پروین جیسے لڑکیوں کی ضرورت ہے۔ ملک و قوم کا نام روشن کرنے والے لڑکوں کی ضرورت ہے۔ خوشی اس بات کی ہیکہ ریاست کے کونے کونے میں سیاست کے تیار کردہ پرچہ سوالات اور گائیڈس پہنچائی جارہی ہیں جس کا اردو میڈیم طلبہ کو کافی فائدہ ہورہا ہے۔ اسماء پروین کی کامیابی پر جناب ظہیرالدین علی خان نے بھی ستائش کی اور کہا کہ سیاست ملت کے ہونہار طلبہ کی مدد میں ہمیشہ آگے رہے گا۔ [email protected]۔

TOPPOPULARRECENT