Thursday , June 21 2018
Home / شہر کی خبریں / اردو میں سائنسی ادب کے فروغ کے لیے کام کرنے کی ضرورت

اردو میں سائنسی ادب کے فروغ کے لیے کام کرنے کی ضرورت

مانو میں قومی اردو سائنس کانگریس کا افتتاح ، اسلم پرویز و دیگر کے خطابات
حیدرآباد ۔ 8 ۔ فروری : ( پریس نوٹ ) : ’ زبانوں کا مذہب نہیں ہوتا ، مذہب اور زبانیں توڑتی نہیں جوڑتی ہیں ۔ قومی صحت کے لیے مذہبی اور لسانی تعصب سے دور رہنے کی ضرورت ہے ۔ سائنس ، ذہنی کشادگی ، روا داری اور شخصیت پرستی سے انکار کا درس دیتی ہے ۔ سائنسی تعلیم کے لیے انگریزی کے بغیر کام نہیں چلے گا ۔ اس لیے طلبہ کو انگریزی سکھانے کا انتظام یونیورسٹی میں کیا گیا ہے تاکہ اگر وہ اعلیٰ تعلیم انگریزی سے حاصل کرنا چاہیں یا کہیں ملازمت کی تلاش میں جائیں تو انہیں دقت نہ ہو ‘ ۔ ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر محمد اسلم پرویز وائس چانسلر مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی نے آج دو روزہ قومی اردو سائنس کانگریس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ سائنس کانگریس کا اہتمام اردو مرکز برائے فروغ علوم اور اسکول برائے سائنسی علوم کے اشتراک سے کیا جارہا ہے ۔ وائس چانسلر نے کہا کہ ’ اردو کے فروغ میں اردو سائنس کانگریس کی حیثیت ایک سنگ میل کی ہے ۔ گذشتہ سال مانو میں منعقدہ پہلی اردو سائنس کانگریس کا ثمر اب حاصل ہورہا ہے ۔ توضیحی فرہنگ حیوانیات و حشریات جسے جناب شمس الاسلام فاروقی نے مرتب و مدون کیا ہے آج ہمارے ہاتھوں میں ہے اور اس نوعیت کی مزید کئی کتابیں زیر طبع ہیں ‘ ۔ سائنس کانگریس کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ پہلی سائنس کانگریس دہلی ، دوسری علی گڑھ اور تیسری کانگریس مانو میں منعقد کی گئی تھی ۔ اسے اردو یونیورسٹی میں منتقل کرتے ہوئے اہل حیدرآباد کی اردو سے محبت کے باعث یقین ہے کہ سائنس کانگریس کی روایت ان کے ( اسلم پرویز ) جانے کے بعد بھی برقرار رہے گی ۔ ڈاکٹر ایم اے سکندر ، رجسٹرار مانو نے سائنس کانگریس کے مندوبین کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اردو یونیورسٹی کے مقاصد میں اردو کا فروغ بھی شامل ہے ۔ اس موقع پر آٹھ سائنسی کتابوں کی رسم اجراء عمل میں آئی ۔ پہلی کتاب ’ توضیحی فرہنگ : فرہنگ حیوانیات و حشریات از ڈاکٹر شمس الاسلام فاروقی کا سب سے پہلے اجراء عمل میں آیا ۔ مرتب کا پیام انیس احسن اعظمی نے پڑھ کر سنایا ۔ اس کے بعد ’ پانی جنگل اور زمین ’ از پروفیسر جمال نصرت ، ناول ’ وقت کی پکار ‘ از ڈاکٹر حاجی ابوالکلام ، ’ فاسٹ فوڈ اور سافٹ ڈرنکس ‘ کا دوسرا ایڈیشن از ڈاکٹر عابد معز ، ’ آو سائنسی خط لکھیں ‘ از عبدالودود انصاری ، ’ سائنسی ردا ‘ از ڈاکٹر رفیع الدین ناصر ، ’ تجربات حیاتیات ‘ از محترمہ رفعت النساء قادری ، ’ کمپیوٹر کی دنیا ‘ از ڈاکٹر خورشید اقبال کی رسم اجراء انجام دی گئی ۔ مہمان خصوصی شاہ شمس الدین عثمانی تبریز ، پرنسپل ایمبریٹس ، انگلش اسپیکنگ اسکول ، دبئی جو خصوصی طور پر کانگریس میں شرکت کے لیے حیدرآباد آئے تھے نے کہا کہ نام نہیں ، کام کی اہمیت ہے ۔ سنجیدہ لوگوں میں سے کچھ دیوانوں نے اردو کو سائنس سے جوڑنے کی کوشش کی ۔ اردو کو ترقی سے ہمکنار کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کے چاہنے والے دیوانہ وار کام کریں ۔ اس دیوانگی کو عام کرنے کی ضرورت ہے ۔ مجھے نئی نسل پر پورا بھروسہ ہے کہ وہ یہ کام ضرور سر انجام دے گی ۔ ڈاکٹر آنند راج ورما ، سابق پرنسپل انوارالعلوم کالج نے کہا کہ وائس چانسلر نے گذشتہ ڈھائی سال میں جو کارنامے انجام دئیے ہیں وہ دوسری جامعات کے لیے قابل تقلید ہیں ۔ ڈاکٹر ظفر احسن نے بھی جلسہ میں خطاب کیا ۔ ڈاکٹر عابد معز نے سائنس کانگریس کے اغراض و مقاصد بیان کیے اور بتایا کہ اس مرتبہ جملہ 77 مقالے موصول ہوئے جو دو دنوں تک جاری کانگریس کے 12 اجلاسوں میں پیش کئے جائیں گے ۔ پروفیسر سید نجم الحسن ، ڈین اسکول برائے سائنسی علوم نے شکریہ ادا کیا ۔ ڈاکٹر آمنہ تحسین ، انچارج مرکز برائے مطالعات نسواں نے کارروائی چلائی اور اسلامک اسٹیڈیز کے پی ایچ ڈی اسکالر سید عبدالرشید نے قرات کلام پاک و ترجمہ پیش کیا ۔۔

TOPPOPULARRECENT