Tuesday , June 19 2018
Home / شہر کی خبریں / اردو میں معیاری اور معلوماتی مواد پر کتب کی اشاعت پر حوصلہ افزائی ناگزیر

اردو میں معیاری اور معلوماتی مواد پر کتب کی اشاعت پر حوصلہ افزائی ناگزیر

صابر علی سیوانی کی کتاب سیاق و سباق کی رسم اجرائی پر جناب زاہد علی خاں ، علامہ اعجاز فرخ اور پدم شری مجتبیٰ حسین کا خطاب

صابر علی سیوانی کی کتاب سیاق و سباق کی رسم اجرائی پر جناب زاہد علی خاں ، علامہ اعجاز فرخ اور پدم شری مجتبیٰ حسین کا خطاب

حیدرآباد ۔9 ۔ مئی : ( سیاست نیوز ) : اردو میں تحقیق پر یہ پہلی کتاب ہے جو ادب میں ایک معیاری کتاب بھی ہے ۔ یوں تو اردو میں کئی کتابیں شائع ہورہی ہیں لیکن تحقیق اور معیاری کتب کی کمی ہے ۔ اردو کتابیں آج لائبریریوں سے ختم ہورہی ہیں ۔ تمام اردو کتب کو محفوظ کرنے کے لیے یکجا کرنے کی ضرورت ہے ۔ کتاب معلوماتی ہو اور مواد ایسا ہو جو کہ پڑھنے سے تعلق رکھے ۔ ان خیالات کا اظہار جناب زاہد علی خاں ایڈیٹر سیاست نے یہاں نامور صحافی و ادیب جناب صابر علی سیوانی کی کتاب ’سیاق و سباق ‘ کی رسم اجرائی کی تقریب میں مخاطب کرتے ہوئے کیا اور کہا کہ آج کا دور انٹرنیٹ کا ہے سیاست انٹرنٹ پر ہر ماہ 16 لاکھ 70 ہزار افراد مشاہدہ کرتے ہیں اردو کی بقاء کے لیے اردو والوں کو اپنی ذمہ داریاں نبھانا چاہئے ۔ کسی بھی زبان کی ترقی اور بقاء اس کی زبان کے بولنے پر ہوتی ہے ۔ بڑے گھر کی بیٹی ڈرامہ کے حوالہ سے کہا یہ اردو کا ڈرامہ ہے ۔ لیکن اردو جو ہندوستانی زبان ہے ۔ پاکستان کی قومی زبان بننے سے اس کی ترقی میں رکاوٹیں رہی ۔ پدم شری مجتبیٰ حسین نے صدارتی تقریر میں کہا کہ اردو میں مضمون لکھنا اور معیاری اور اردو زبان کے تمام الفاظ کا ذخیرہ رکھنا صابر علی سیوانی کا شیوہ ہے ۔ وہ فارسی سے واقف ہیں اور اردو ادب سے گہرا تعلق رکھتے ہوئے ان میں صحیح معنوں میں صحافتی تحریر کے ساتھ تحقیقی ، انشائیہ لکھنے کا فن ہے ۔ ان کی بے پناہ صلاحیتوں سے سیاست استفادہ کررہا ہے ۔ ان کے مضامین دیگر اخبارات میں بھی شائع ہوئے ۔ علامہ اعجاز فرخ نے مہمان خصوصی کی حیثیت سے اپنی تقریر میں صابر علی سیوانی کی ادبی خدمات کوخراج تحسین ادا کرتے ہوئے الفاظ کی زندگی اور الفاظ کے اموات اور الفاظ کے ذحائر پر سیر حاصل گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لفظوں کی تحقیق سے الفاظ حجاب کرتے ہیں اور مضامین کو دلچسپ بنانے کا فن رکھتے ہیں ۔ ان سے سیاست میں ملاقات کے حوالہ سے کہا کہ وہ ترجمہ نگاری کا فن رکھتے ہیں جو کہ دشوار کن ہے ۔ پروفیسر بیگ احساس سابق صدر شعبہ اردو حیدرآباد یونیورسٹی نے کہا کہ صابر سیوانی اب صاحب کتاب ہوگئے جنہیں مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ان کا مطالعہ بہت رہا ہے ۔ ان کی بے پناہ صلاحیتوں نے انہیں اعلی مقام دلایا وہ پی ایچ ڈی میں 786 صفحات پر مقالہ تحریر کیا ہے ، اردو ادب کے لیے فارسی اور عربی سے واقف ہونا ضروری ہے ۔ یہ دونوں زبان سے واقف ہیں انہیں مجھ سے شاگردی کا اعزاز رہا ہے ۔ ڈاکٹر مصطفی کمال مدیر شگوفہ نے اپنی تقریر میں کہا کہ طنز و مزاح سے سیوانی کا گہرا تعلق رہا ہے ۔ اچھا شاعر اور ادیب کہیں کا ہو اس کی قدر اور حوصلہ افزائی کرنا چاہئے ۔ علاقہ پرستی سے گریز کرنا چاہئے ۔ محمد حمید الظفر نے تعارفی کلمات میں صابر علی سیوانی کی شخصیت اور ان کی کتاب سیاق و سباق پر اپنے تاثرات پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان کی دوسری کتاب ہے پہلی کتاب انوار سخن تھی ۔ سیاست اخبار سے ان کی وابستگی ان کے شخصیت کو جو مقام دیا وہ ان کی صلاحیتوں کا بھر پور استعمال کرنے کا موثر ذریعہ ہے ۔ وہ کسی بھی موضوع پر بروقت مضمون تحریر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔ محبوب حسین جگر ہال احاطہ سیاست میں منعقدہ اس رسم اجرائی تقریب کا اہتمام کاروان ادب اور اردو رائٹرس اینڈ جرنلسٹ اسوسی ایشن حیدرآباد نے کیا ۔ کنوینر جناب عابد صدیقی نے ابتداء میں خیر مقدم کیا اور بہت عمدگی کے ساتھ نظامت کے فرائص انجام دئیے ۔ قرات سے پروگرام کا آغاز ہوا ۔ اس ادبی محفل میں پروفیسرس ، صحیفہ نگار جن میں ڈاکٹر مجید بیدار ، فاضل حسین پرویز ، محمد ریاض احمد ، ڈاکٹر سید غوث الدین ، محسن جلگانوی ، مختار فردین ، عبدالقدیر ، مجاہد محی الدین ، ایم اے حمید موجود تھے ۔ آخر میں صاحب کتاب جناب صابر علی سیوانی نے اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ روزنامہ سیاست سے اپنی وابستگی کے لیے وہ ممنون ہیں ۔ سیاست کی وجہ ان کی شخصیت اور مقبولیت میں اضافہ ہوا ۔ جناب احمد صدیقی مکیش اور ایم این بیگ نے معاونت کی ۔۔

TOPPOPULARRECENT