Wednesday , December 13 2017
Home / اضلاع کی خبریں / اردو ویمنس ڈگری کالج ظہیرآباد میں لکچررس کا فقدان

اردو ویمنس ڈگری کالج ظہیرآباد میں لکچررس کا فقدان

عاجلانہ تقررات ناگزیر ، طالبات کی تعلیم متاثر ہونے کا خدشہ
نیالکل ۔ 11 ۔ اگسٹ ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) تشکیل تلنگانہ حکومت کے اقتدار میں آکر تقریباً 2 سال سے زیادہ کا عرصہ ہوچکا ہے ۔ لیکن اردو میڈیم اسکولس جونیر کالج ڈگری کالجوں کے مسائل جوں کا توں برقرار ہیں ۔ ضلع میدک ظہیرآباد میں اردو میڈیم ڈگری کالج ویمنس گریجویشن بی ایس سی ، بی زیڈ سی قائم ہو کر 2 سال تکمیل ہوگیا ہے لیکن اب تک تعلیم باضابطہ طور پر آغاز نہیں کیا گیا اور نہ ہی آج تک لکچررس کا تقرر عمل میں نہیں لایا گیا جس کے باعث طلباء کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ مسلم تنظیموں سینئر سٹیزن اسوسی ایشن کے عہدیداران جناب محمد عبدالجبار ، محمد قاسم علی شاہ رحمت اللہ غوری جرنلسٹ ، سید شبیر علی سیول کنٹراکٹر ، باقر حقانی امیر مقامی الحدیث ، عتیق حقانی نے سیاست نیوز کو بتایا کہ مذکورہ کالج کی منظوری ملنے کے تین سال کا عرصہ ہوچکا ہے لیکن تاحال مستقل یا جزوقتی اساتذہ کا تقرر عمل میں نہیں لایا گیا ۔ ویمنس ڈگری کالج کو عارضی طور پر سابقہ ڈگری کالج کی عمارت میں چلایا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دیگر میڈیم کے بہ نسبت اردو میڈیم کے ساتھ سوتیلا سلوک کیا جارہا ہے۔ جس کی وجہ سے گورنمنٹ ڈگری کالج کی زیرتعلیم سینکڑوں برقعہ پوش طالبات لکچررس کے تقررات کا مطالبہ کرتے ہوئے سڑکوں پر آکر احتجاج کرنا پڑرہا ہے ۔ کئی عارضی لکچرارس تنخواہ نہ موصول ہونے کی صورت میں اپنی خدمات سے دستبردار ہوگئے ۔ تعلیمی سال آغام ہو کر 3 ماہ کا عرصہ ہوچکا ہے لیکن ابھی تک لکچرارس اور تعلیمی سہولتیں مہیا نہیں کی گئی ہے اس دوران خدمت خلق کے جذبہ کے تحت مقامی اردو میڈیم جونیر کالجوں کے اساتذہ محمد باسط ریاضی ، محمد ضمیرالدین فزیکل سائنس ، توفیق پولیٹیکل سائنس نے حسب استطاعت اپنا اپنا وقت مفت دیتے ہوئے طالبات کی تعلیم کو متاثر ہونے سے بچایا ۔ جس کے سبب کئی طلباء اعلی نشانات سے کامیابی حاصل کی ۔لیکن یہ اساتذہاپنی ذاتی مصروفیات کی بناء وقت دینے سے قاصر ہیں ۔ اردو میڈیم طالبات خاص کر لڑکیوں میں آئے دن حصول تعلیم حاصل کرنے کا جذبہ نظر آرہا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT