اردو کمپیوٹر سنٹرس کو عصری بنانے کا کام تعطل کا شکار

ملازمین چار ماہ کی تنخواہ سے محروم، محمد علی شبیر کی بی شفیع اللہ سے بات چیت
حیدرآباد۔ 18جنوری (سیاست نیوز) اقلیتی فینانس کارپوریشن کے تحت کمپیوٹر سنٹرس کو عصری بنانے کے سلسلہ میں حکومت کی جانب سے بجٹ کی عدم اجرائی رکاوٹ بن چکی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ کمپیوٹر سنٹرس کو عصری بناتے ہوئے اقلیتی طلبہ کو مختلف کورسس میں ٹریننگ فراہم کرنے کے مقصد سے حکومت نے 36 مراکز کا انتخاب کیا تھا۔ موجودہ کمپیوٹر سنٹرس میں کمپیوٹرس، فرنیچر اور دیگر انفراسٹرکچر کی فراہمی کے سلسلہ میں ٹنڈرس طلب کیے گئے لیکن بعض گوشوں سے اعتراضات کے نتیجہ میں کارپوریشن حکام نے ٹنڈر الاٹمنٹ کا کام ملتوی کردیا ہے جس کے نتیجہ میں کمپیوٹر سنٹرس کو عصری بنانے کا کام تعطل کا شکار ہوگیا۔ اسی دوران کمپیوٹر سنٹرس کے ملازمین چار ماہ سے تنخواہوں سے محروم ہیں اور کمپیوٹر سنٹرس کی عمارتوں کے کرائے تقریباً دیڑھ سال سے ادا نہیں کیے گئے۔ کمپیوٹر سنٹرس اور لائبریریز کو حکومت نے اردو اکیڈیمی سے منتقل کرتے ہوئے اقلیتی فینانس کارپوریشن کے تحت کردیا ہے۔ کارپوریشن میں مناسب نگرانی اور فنڈس کی موجودگی کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا تھا۔ تاہم تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور انفراسٹرکچر کی فراہمی میں تاخیر سے ملازمین میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ اسی دوران قانون ساز کونسل میں قائد اپوزیشن محمد علی شبیر نے منیجنگ ڈائرکٹر اقلیتی فینانس کارپوریشن بی شفیع اللہ سے اس مسئلہ پر بات چیت کی۔ انہوں نے شفیع اللہ سے خواہش کی کہ ملازمین کی تنخواہیں فوری جاری کی جائیں اس کے علاوہ عمارتوں کے کرائے بھی بقایا جات کے ساتھ جاری کریں تاکہ مالکین مکان سنٹرس کی برقراری کو یقینی بنائے۔ انہوں نے کہا کہ ملازمین تنخواہوں سے محرومی کے باعث مختلف مسائل کا شکار ہیں۔ معاشی پریشانیوں کے علاوہ وہ اپنی ملازمت کی برقراری کے سلسلہ میں اندیشوں کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کمپیوٹر سنٹرس کو عصری بنانے کے لیے حکومت کی جانب سے گزشتہ تین برسوں میں کوئی اقدامات نہیں کیے گئے۔ ملازمین کی خدمات دیگر اسکیمات اور اداروں میں استعمال کی جارہی ہیں۔ عارضی ملازمین کی خدمات کو باقاعدہ بنانے کے لیے حکومت کی جانب سے تیقن دیا گیا تھا لیکن اس سلسلہ میں کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ آندھراپردیش میں کمپیوٹر سنٹرس کو عصری بنانے کا کام نہ صرف مکمل ہوگیا بلکہ اقلیتی نوجوانوں کے لیے مختلف کورسس میں ٹریننگ کا اہتمام کیا جارہا ہے۔ انہو ںنے اقلیتی بہبود کے عہدیداروں کو کمپیوٹر سنٹرس کی کارکردگی بحال کرنے پر توجہ مرکوز کرنے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہر سال ہزاروں کی تعداد میں اقلیتی طلبہ کمپیوٹر کورسس کی ٹریننگ حاصل کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے باعث ملازمین مقروض ہوچکے ہیں۔ لہٰذا حکومت کو فوری فنڈس جاری کرتے ہوئے تنخواہوں کا انتظام کرنا چاہئے۔

TOPPOPULARRECENT