Sunday , April 22 2018
Home / شہر کی خبریں / اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ

اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ

صرف ایک ضلع کا اضافہ کرکے ٹی آر ایس کا جشن مضحکہ خیز
اردو والوں پر احسان کی طرح پیش کرنے کی مذمت : قائد اپوزیشن کونسل محمد علی شبیر
حیدرآباد۔/18نومبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ قانون ساز کونسل میں قائد اپوزیشن محمد علی شبیر نے ریاست میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کے بل کی منظوری پر برسر اقتدار پارٹی کے جشن کو مضحکہ خیز قراردیا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ تین برسوں میں اردو زبان کی ترقی و ترویج کو نظرانداز کرنے والی ٹی آر ایس حکومت نے صرف ایک ضلع کا اضافہ کرتے ہوئے اسے اردو والوں پر احسان کی طرح پیش کیا ہے، یہ حکومت کا کوئی کارنامہ نہیں اور نہ ہی اردو اور اردو والوں پر کوئی احسان ہے۔ بل کی منظوری سے اگر اردو کی ترقی ممکن ہوتی تو پھر آج 12 فیصد تحفظات پر بھی تلنگانہ میں عمل ہوتا۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ سرکاری خرچ پر جشن منانا اور اسے حکومت کا کارنامہ قرار دینا افسوسناک ہے کیونکہ متحدہ آندھرا پردیش میں کھمم وہ واحد ضلع تھا جہاں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا موقف نہیں تھا باقی 9 اضلاع میں اردو دوسری زبان کا درجہ رکھتی تھی۔ ٹی آر ایس حکومت نے صرف ایک ضلع کا اضافہ کرتے ہوئے اسے اردو اور اردو والوں پر احسان کی طرح پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ اگر چیف منسٹر کو حقیقی معنوں میں اردو سے محبت ہوتی تو وہ اسمبلی اور کونسل میں خود یہ بل پیش کرتے۔ اپنی اردو تقاریر کے ذریعہ مسلمانوں کے کانوں کو خوش کرنے والے چیف منسٹر نے غیر اردو داں وزیر ٹی ناگیشورراؤ کو یہ بل پیش کرنے کی ذمہ داری دی۔ وہ کم سے کم اپنے ڈپٹی چیف منسٹر کو بل پیش کرنے کیلئے مقرر کرسکتے تھے۔ اس طرح انہوں نے کابینہ میں موجود واحد مسلم اور اردو داں ڈپٹی چیف منسٹر کی اہمیت گھٹانے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست بھر میں دوسری سرکاری زبان کو کارنامہ قرار دینے والے چیف منسٹر اس بات کی وضاحت کریں کہ گزشتہ تین برسوں میں انہوں نے فروغ اردو کیلئے کیا کیا۔ اردو اکیڈیمی کو محض ایک رسمی ادارہ میں تبدیل کردیا گیا جس کے ذریعہ فروغ اردو کا کوئی بھی ٹھوس کام انجام نہیں دیا جاتا۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں اردو مدارس کی تعداد دن بہ دن گھٹ رہی ہے۔ اردو اساتذہ کی مخلوعہ جائیدادوں پر کوئی تقررات نہیں ہیں، اردو کمپیوٹر سنٹرس اور لائبریریز بند ہوچکی ہیں لیکن حکومت کو صرف اردو سے زبانی ہمدردی کے سوا کچھ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس دور حکومت میں آر ٹی سی بسوں کے سائن بورڈز پر اردو کو لازمی طور پر شامل کیا گیا تھا، اس کے علاوہ سرکاری دفاتر اور تجارتی اداروں کے سائن بورڈز پر اردو تحریر رہتی تھی لیکن آج سرکاری دفاتر کے سائن بورڈ پر بھی اردو ندارد ہے۔ قانون ساز کونسل کے بورڈ پر بھی اردو کو جگہ نہیں دی گئی جبکہ اسی ایوان میں اردو کا بل منظور کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بل کی منظوری سے اردو کی ترقی ممکن نہیں بلکہ حکومت کو ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ بل کی منظوری کے ساتھ ہی ٹی آر ایس قائدین کی جانب سے آتشبازی اور چیف منسٹر کی تصویر کو دودھ سے دھونا اردو سے محبت سے زیادہ چیف منسٹر کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش ہے۔

TOPPOPULARRECENT