Monday , June 25 2018
Home / شہر کی خبریں / اردو کو علم و تحقیق کی زبان بنانے پر زور

اردو کو علم و تحقیق کی زبان بنانے پر زور

مولانا آزاد یونیورسٹی میں قومی اردو سماجی علوم کانگریس کا افتتاح ، مختلف دانشوروں کا خطاب
حیدرآباد، 14؍ دسمبر (پریس نوٹ) اردو کو علمی و تحقیقی زبان بنا کر ہی اس کی ترقی و ترویج کا کام انجام دیا جاسکتا ہے۔ مختلف علوم کے ماہرین کو چاہیے کہ وہ اردو اخبارات و رسائل میں متنوع موضوعات پر علمی مضامین تحریر کریں تاکہ ان کے مطالعے سے لوگوں میں ایک نیا مزاج پروان چڑھے۔ کسی بھی زبان میں علوم کی ترقی کا اہم ذریعہ کتابوں کا ترجمہ و تصنیف ہے۔ ان خیالات کا اظہار پروفیسر اشتیاق احمد ظلی‘ ڈائرکٹر ‘ دارالمصنّفین‘ شبلی اکیڈیمی‘ اعظم گڑھ‘ نے آج مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں پہلی کل ہند سماجی علوم کانگریس 2017 کے افتتاحی اجلاس میں کیا۔ سماجی علوم کی یہ کانگریس یونیورسٹی کے اردو مرکز برائے فروغ علوم اور اسکول برائے فنون و سماجی علوم کے باہمی اشتراک سے منعقد کی جارہی ہے۔ڈاکٹر محمد اسلم پرویز، وائس چانسلر نے صدارت کی۔ انہوںنے کہا کہ اردو زبان و تہذیب کو علم سے جوڑنے کی کوشش ہندوستان کے مختلف علاقوں میں ہوئی لیکن ان میں سب سے بڑا کارنامہ حیدرآباد فرخندہ بنیاد کی سرزمین پر قائم ہونے والی عثمانیہ یونیورسٹی ہے جہاں دارالترجمہ کے ذریعے علوم کی کتابوں کو اردو میں منتقل کرنے کا عظیم کام انجام دیا گیا۔مہمانِ اعزازی ڈاکٹر اسلم عبداللہ‘چیف ایڈیٹر، مسلم آبزرور، امریکہ نے اس موقع پر کہا کہ دنیا میں آج جتنی بھی ترقی یافتہ زبانیں موجود ہیں انہوںنے دیگر زبانوں کے علمی خزانوں کا اپنی زبانو ں میں ترجمہ کرکے ہی اظہار خیال کا سلیقہ سیکھا ہے اور اسی کے ذریعے انہوں نے پوری علمی دنیا پر اپنا سکہ جمایا۔ پروفیسر ایس اے آر بلگرامی، جامعہ ملیہ اسلامیہ، دہلی نے اپنی تقریر میں کہا کہ اردو زبان کے مسائل میں سب سے اہم مسئلہ یہ ہے کہ اس کی ترقی کا لائحۂ عمل لوگوں کے سامنے واضح نہیں ہے۔ اردو زبان کی ترقی کے لیے اسے علم سے اور روزگار سے جوڑنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ علوم کو اردو میں منتقل کرنے کی کوشش بہت کم ہوئی ہے۔ جو کچھ کوشش ہوئی ہے وہ محض نصابی کتابوں تک محدود ہے۔پروفیسر شکیل احمد، پرو وائس چانسلر نے کہا کہ یونیورسٹی میں ہورہے سمینار، کانفرنسوں میں تحقیقی مقالے تو پیش ہو رہے ہیں لیکن ان میں معیار کی کمی ہے۔پروفیسر ایس ایم رحمت اللہ، کنوینر کانگریس نے کانگریس کے اغراض و مقاصد بیان کیے۔ ڈاکٹر آمنہ تحسین نے کارروائی چلائی۔ ڈاکٹر عابد معز، شریک کنوینر کانگریس نے شکریہ ادا کیا۔ جناب عاطف عمران، گیسٹ فیکلٹی ، شعبۂ اسلامک اسٹڈیز کی قرأت کلام پاک سے جلسہ کا آغاز ہوا۔ مہمانوں کی خدمت میں یادگاریے پیش کیے گئے ۔اس موقع پرڈاکٹر عبدالقیوم اسوسی ایٹ پروفیسر کی نئی کتاب ’’سیاسی سماجیات ‘‘ اور شعبہ تعلیم نسواں کی تین اسکالروں کی تصنیف کردہ کتابوں کی رسم اجرا ء بھی انجام دی گئی۔

TOPPOPULARRECENT