Thursday , December 13 2018

اردو کی اولین صاحب دیوان شاعرہ لطف النساء امتیازؔ

ڈاکٹر احمد علی شکیل

ڈاکٹر احمد علی شکیل
اُردو کی دوخاتون شعراء گذری ہیں جن کو صاحبِ دیوان ہونے کا شرف حاصل ہے ، ماہ لقا بائی چنداؔ اور لطف انساء امتیازؔ۔ماہ لقابائی چنداپر کئی ایک تحقیقی مضامین لکھے گئے اور تاریخ کی کتابوں میں بھی اس کا ذکر موجود ہے نیز اس کادیوان بھی کئی مرتبہ ؔشائع ہو چکا۔لیکن امتیازؔ کے حالات زندگی اور کلام پر تحقیقی کام اورپہلی مرتبہ اس کے کلیات کی اشاعت کا خواب سن ۲۰۰۴ء شرمندہ تعبیر ہو سکا۔
امتیازؔ اورنگ آباد کے اُستاد سخن شاعر اسد علی خان تمناؔ کی زوجہ تھیں۔بیسویں صدی کے ربع اول کے بعد کے تذکرے نگاروں جیسے سید شمس اللہ قادری،ڈاکٹر سید محی الدین قادری زور اور عبدالقادرسروری نے بھی امتیازؔ کے بارے میں کوئی خاطر خواہ معلومات فراہم نہیں کیں۔جس کی وجہ سے ایک عرصہ تک ماہ لقابائی چنداؔ کو اُردو کی پہلی صاحب دیوان شاعرہ سمجھاجاتا رہا،جس طرح ڈاکٹرزور کی تحقیق نے ولیؔ کے بجائے محمد قلی قطب شاہ کو پہلا صاحبِ دیوان شاعرقرار دیا اُسی طرح دیوانِ امتیازؔ کے دستیاب ہو جانے کے بعد پہلی صاحبِ دیوان شاعرہ ہونے کا سہرا امتیازؔ کے سر جاتا ہے۔چنداؔ نے اپنا دیوان ۱۲۱۳ھ مطابق ۱۷۹۸ء میں مرتب کیا،اس ایک سال کی اوّلیت سے امتیازؔ اُردو کی پہلی صاحب دیوان شاعرہ قرار پاتی ہے۔
امتیازؔ کا پورا نام لطف انساء بیگم اور تخلص امتیازؔ ہے۔اُس کے دیوان کا واحد قلمی نسخہ کُتب خانہ سالار جنگ،حیدرآباد میں موجود ہے ۔
امتیازؔ کے بارے میں سب سے پہلے نصیر الدین ہاشمی نے اپنی کتاب اُردو قلمی کتابوں کی وضاحتی فہرست مرتبہ ۱۹۵۷ء میں یوں سرسری تعارف کروایا ہے:
’’امتیازؔ دکن کا شاعر تھا،ہم کو یہ نہیں معلوم کہ وہ کس کا شاگرد تھا،اس کا حال کسی قدیم اور جدید تذکرے میں نہیں ہے…اختتامی شعر میں لفظ ’’کنیز‘‘آیا ہے اس سے خیال ہوتا ہے ممکن ہے کہ امتیازؔ کوئی شاعرہ ہو‘‘۔ آگے چل کر نصیرا لدین ہاشمی اپنی کتاب دکن میں اُردو میں لکھتے ہیں’’لطف النساء بیگم نام اور تخلص امتیازؔ تھا،حیدرآباد وطن ،ماں کا بچپن میں انتقال ہو گیا،اس لیے شاہی خاندان میں پرورش ہوئی۔اسد علی خاںتمناؔ سے بیاہی گئی مگر جوانی میں بیوہ ہو گئی۔
مجلّہ عثمانیہ دکنی ادب نمبر،شعبہ اُردو ،جامعہ عثمانیہ۶۴۔۱۹۶۳ء میں امتیازؔ اور اس کی شاعری پر ڈاکٹر اشرف رفیع نے ایک تفصیلی مضمون تحریر کیا ہے،اس مضمون میں وہ امتیازؔ کے بارے میں یوں رقم طراز ہیں: ’’کل کی تحقیق نے ماہ لقابائی چنداؔ کو پہلی صاحبِ دیوان شاعرہ کا رتبہ عطا کیا تھا مگر آج اسی تحقیق نے لطف النساء امتیازؔ کے سر پر اوّلیت کا تاج رکھا ہے۔‘‘
راقم الحروف نے ایک مضمون ’’لطف النساء امتیازؔ پہلی صاحب دیوان خاتون ‘‘کے عنوان سے سپرد قلم کیا تھا۔یہ مضمون اکٹوبر ۱۹۹۳ء میں بمبئی سے شائع ہونے والا تحقیقی جریدہ ’’نوائے ادب ‘‘میں شائع ہوا۔جس میں امتیازؔ کی شاعری کا تفصیل سے احاطہ کیا گیا تھا۔
امتیازؔ کے حالاتِ زندگی کے بارے میں جو بھی معلومات دست یاب ہوئی ہیں اُس کا واحد ذریعہ امتیازؔ کے دیوان میں موجود مثنوی ہی ہے۔اس مثنوی میں ہمیں امتیازؔ کی پیدائش سے لے کر حیدرآباد منتقل ہونے تک کے حالات کی تفصیل مل جاتی ہے۔
امتیازؔ نے کس گھرانے میں آنکھ کھولی اور وہ کس خاندان کی چشم وچراغ تھی اس کا کوئی داخلی یا خارجی ثبوت فراہم نہیں ہوتا،لیکن دیوان میں موجود مثنوی کے ایک شعر سے اتنا ضرور پتہ چلتا ہے کہ اُس کا تعلق ایک بڑے قبیلہ سے تھا:
وو غم باپ و ماں کا مجھے بے شمار
قبیلہ ہی میرا تھا کچہ کم ہزار
لیکن خاندان کے کسی فرد نے اس کی پرورش نہیں کی۔پیدائش کے سوا سال بعد ہی ماں کا سایہ سر سے اُٹھ گیا اور باپ نے بھی اس سے منہ موڑ لیا،چنانچہ وہ کہتی ہے:
کہ اوّل جدائی کیا باپ وماں
سوا برس کی بے شبہ تھی یہ جاں
تو پائی اسی عمر میں ماں نے فوت
دی خلعت بسیرے کی جب آکے موت
موی تو ہوا ایک عالم پہ غم
مرے پر جدائی کا غم تھا ستم
دو چُھٹ پن میں کیا کیا کیا چُھوٹھ جاں
رہا ہوگا کِس طور گریہ کناں
اور اس سانحہ کے بعد امتیازؔ کو کسی لا ولد رئیس نے گود لے لیا،جس کا وہ یوں اظہار کرتی ہے:
ہوا پرورش ہائے غیروں کے سات
ہوئے اُن پودِن عید شب شب برات
کیے پرورش وہ تو چاوں کے سات
رکھے دائیاں نیک اور پاک ذات
ولیکن نہ میں دودکس کا پیؤں
فراق جنی ماں سے ہر دم جھروں
کیے پرورش جو پالی تھی ماں
زو و مال کیا تھا تصّدق تھی جاں
ماں کے انتقال کے بعد امتیازؔ شفقتِ پدری سے بھی محروم ہو گئی تھی لیکن نو برس بعد اُس کی ملاقات اپنے والد سے ہوتی ہے۔چنانچہ اُس کی ملاقات جب اپنے باپ سے ہوتی ہے تو امتیازؔ نے انھیں پہچانا نہیں۔
کچھ یک اقرباء آکے ملنے لگے
دونوں نو سال کے بعد باپ آ ملے
رہی ناشناسائی اُن کی مجھے
وو قُربان ہوتے تھے ہر آن آن
غرض کیا کہوں اتنی مدت کا غم
کہ اس سے ہوا مجھ پہ کیا کیا ستم
امتیازؔ کو ابتداء سے ہی شعر وشاعری کا شوق تھا حُسن اتفاق سے اُسے شاعرانہ ماحول اور استادِ سخن شاعر اسد علی خان تمناؔ جیسا شوہر بھی ملا،جس سے امتیاز کی شاعری کی آبیاری ہوتی رہی،وہ لکھتی ہے:
مُقدر کا تھا جِتّا لکھا پڑھا
تکاور جوانی پہ جب جا چڑھا
لڑکپن سے یہہ شوق دل نے کیا
یہ کچہ شعر و اشعار کا مشغلہ
لیاقت تو کیا شعر کہنے کی تھی
ہوس یوں ہی چُپ کہنے سُننے کی تھی
فراست کدھر شعر فہمی کی ہائے
یہہ ہو حوصلہ جس کا وہ کیا نبائے
امتیازؔ اپنے شوہر اسد علی خان تمناؔ کا سراپا بیان کرتے ہوئے لکھتی ہے:
نہایت شکیل و جمیل یک نوجواں
کہ تھا چشم آہو وو ابرو کماں
بنا کر دو آنکھوں کے دوروں کے پھاند
لگا لاوے لیا کر محبت کا باند
ہر یک صید کا دو ہی صیاّد تھا
جو بے دادیوں کا دو ہی داد تھا
عجب خوش ادا تھا نزاکت مآب
وو سب ماہ روؤں کا تھا آفتاب
اُسی کا تو خانِ تمناؔ تھا نام
اسد تھا علی کا تھے روباہ رام
اِن اشعار سے اندازہ ہوتا ہے کہ امتیازؔ کو اپنے شوہر سے کس قدر محبت تھی اور وہ ایک لمحہ کے لیے بھی تمناؔ کی جدائی برداشت نہیں کر سکتی تھی لیکن دستِ قضا نے تمناؔ کو اُس سے چھین لیا۔بیوگی کا غم امتیازؔ کے لیے ایک نا قابل برداشت صدمہ تھا۔اُس پر آفتوں کا ایک پہاڑ ٹوٹ پڑا۔اپنے شوہر کی غیر متوقع موت سے امتیازؔ بیمار پڑگئی۔وہ اپنے غم اور دُکھ بھرے جذبات کا یوں اظہار کرتی ہے:
کہ آعلی و ادنا سبھی مِل مجھے
بُرا مری گردش کو سب نے کہے
جو گردش سے اس چرخ کی وہ جوان
ہوا ہائے زیرِ زمیں مہہ نہاں
ہے تاریک آنکھوں میں سارا جہاں
تڑپنا شب و روز ہے گا یہہ جہاں
کیا ہے گا فرقاں میں رب عالمیں
کہ تحقیق ان اللہ مع الصابرین
تو صابر صبر کرکے ہو امتیازؔ
کہ بندہ ہے جس کا وو بندہ نواز
تمناؔ کے انتقال کے بعد امتیازؔ تنہا ہو گئی تھی۔غمِ جاناں کے ساتھ ساتھ اُسے اب غمِ دوراں بھی لاحق ہو گیا تھا۔چناں چہ اُس نے ترکِ وطن کیا اور حیدرآباد منتقل ہو گئی،اُن دنوں نظام علی خاں آصف جاہ ثانی مسند آرائے سریر سلطنت دکن تھے۔آصف جاہ دوم کی مدح میں دیوانِ امتیازؔ میں کئی قصائد ملتے ہیں جن کے مطالعہ سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ امتیازؔ کی رسائی دربار تک رہی ہوگی۔وہ لکھتی ہیں:
نظامِ دکن شاہ والا تبار
ہے زیب آورِ تخت وہ تاجدار
سکندر مثال و سلیماں عصر
ہے دارائے ثانی شہ نامدار
ہے آصف اسی دور کا بے شبہ
رعایا پہ ہے لُطفِ پروردگار
شجاعت کے میدان میں جولاں ہو گر
تو اُٹھ جائے رُستم دلوں سے قرار
ہو کوئی شاہِ شہاں یا محسن و جواد ہو
زیرِ فرماں ہو کے تیرا ہے مطیع منقاد ہو
دو جہاں کا ہو مقاصد برہی تو شاہنشہا
خاطر دل خواہ تیرے سب طرف سے شاد ہو
پوچھنا کیا ہے گا اُس کی جاہ وحشمت کا اے دل
فضلِ حق سے یہہ ریاست جس کی مادرزاد ہو
جس طرح سے ہے بزرگی عرش کی رفعت کے سات
سلطنت کو تیری ایسے طرز کی بنیاد ہو
ہے سکندرتُو ہمارے عصر کا لاشک وریب
عمر کا رشتہ ترے جیون رشتۂ فولاد ہو
تُو سلیماں وقت آصف کارفرماائے جہاں
عدل واحسان سے ترے سارا جہاں آباد ہو
اپنے دیوان کو مرتب کرکے امتیازؔ نے خواتین کو حاملانِ شعر وادب کے زمرہ میں لا کھڑا کردیا اِس لیے کہ اُس نے یہ کارنامہ ایک ایسے دور اور ایک ایسے ماحول میں انجام دیا اور اُس وقت شاعری کا آغاز کیا جب کہ کسی خاتون کا لکھنا پڑھنا تو دُور کی بات اس کے بارے میں سوچنا تک گُناہ تصور کیا جاتا تھا۔
کسی طرح کی ستائش یا صلہ کی خاطر لکھا جانے والا کلام دل کی گہرائیوں سے نہیں لکھا جاتا اور نہ ہی اُس میں دل کے جذبات،کسک یا تڑپ کا احساس موجود رہتا ہے۔کیوں کہ جب تک کوئی عشق کی آگ میں جل کر،تپ کر کندن نہیں ہوتا،اور ایسے کلام میں ندرت،رعنائی،جذبات کی بہترین عکاسی یا ترجمانی نہیں ملتی بلکہ صرف واہ واہ ہوتی ہے۔ اس کے برخلاف ایک سچّے عاشق کے دِل کی اتھا گہرائیوں سے اُٹھنے والی آہوں کا کلام صحیح معنوں میں دلی کیفیت کا آئینہ دار ہوتا ہے اور یہی بات امتیازؔ کے کلام میں پائی جاتی ہے۔
اس مثنوی میں امتیازؔ کی پیدائش سے لے کر بچپن، بسم اللہ ، جوانی ، تعلیم و تربیت ، والدین ، سرپرست ، شعرگوئی کا رجحان ، شادی، اِزدواجی زندگی ، لاولدی کا غم ، بیوگی کاکرب ، دیوان کی تربیت ، اشعار کی تعداد ، دیوان کے مرتب ہونے کا سن وغیرہ کی ساری تفصیلات موجود ہیں۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ امتیازؔ نے یہ مثنوی لکھ کر اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرلیا ہے۔اُس کے دل کی ہر بات بے ساختہ اُس کی زبان پر آگئی ہے اور اُس کے احساسات فن میں ڈھل کر مثنوی کا روپ اختیار کر لیے ہیں۔
یہ ایک کامیاب مثنوی ہے جس کی زبان سادہ سلیس ہے کلام میں بڑی روانی ہے،اُس کے خیال میں ندرت اور بانکپن ہے۔امتیازؔ کو زبان پر قدرت حاصل تھی۔امتیازؔ کی زبان اٹھارویں صدی ہجری کی ایک ترقی یافتہ دکنی زبان ہے،دکنی کے علاوہ اُس نے فارسی زبان میں بھی اپنے فن کے جوہر دکھائے ہیں۔
مثنوی کے علاوہ قصیدہ جات ، مخمسات ، مسدسات ، قطعات ، رُباعیات ، فرد ، مشمن ، منقبت ، عرضی ، نثری مقفع و مسجع عبارت، فارسی غزل و قطعہ بھی شاملِ دیوان ہے جس کے مطالعہ سے اُس کی علمی استعداد کا پتہ چلتا ہے۔امتیازؔ نے ہولی جیسے مقامی تہوار پر بھی غزل کہی ہے جو ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کی ایک علامت ہے۔اس سے امتیازؔ کے ایک سیکولر اور صاف ذہنیت کی نشان دہی ہوتی ہے۔
اُردو ادب کے لیے امتیازؔ کا یہ دیوان ایک انمول،قیمتی عطیہ ہے،اوّلین شاعرہ ہونے کے ساتھ ساتھ وہ ایک قادرالکلام اور پُر گو شاعرہ ہے جس نے اپنے آپ کو صرف غزل گوئی کی حد تک محدود نہیں رکھا بلکہ پہلے صاحبِ دیوان شاعر محمد قلی قطب شاہ کی طرح اُس نے اُردو شاعری کی ہر صنف میں طبع آزمائی کرتے ہوئے اپنا ایک مکمل کُلیات یاد گار چھوڑا۔
امتیازؔ کا کلام اپنے عہد کی شاعری کا ایک عمدہ نمونہ ہے اور یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ امتیازؔ کو کم وبیش سارے اصناف شعری پر عبور حاصل تھا۔چھوٹی بحروں میں امتیازؔ کے اشعار سہل ممتنع کے اچھے نمونے ہیں،روانی،سلاست،بے ساختگی نادر تشبیہات واستعارات اور محاوروں نے اس کے دیوان کو زندہ جاوید بنادیا ہے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT