Wednesday , December 19 2018

اردو کے شہر حیدرآباد کے کتب خانوں میں اردو کتابیں ندارد

پرانے شہر کی لائبریریوں میں تلگو کتابوں کا انبار ، تلگو اور انگریزی کی بہ نسبت اردو کتابوں کی خریدی پر معمولی خرچ

پرانے شہر کی لائبریریوں میں تلگو کتابوں کا انبار ، تلگو اور انگریزی کی بہ نسبت اردو کتابوں کی خریدی پر معمولی خرچ

حیدرآباد ۔ 6 ۔ مارچ : شہرحیدرآباد فرخندہ بنیاد کو چھوٹا ہندوستان ، ہندوستان کا دل ، اردو کا مرکز ، کتب خانوں کا شہر ، قدیم و عصری تعلیمی اداروں کے باعث ماہرین تعلیم کا پسندیدہ مقام کہا جاتا ہے ۔ اس تاریخی شہر کو ساری دنیا میں اس حیثیت سے بھی شہرت حاصل ہے کہ یہاں کے حکمرانوں اور شہریوں نے زندگی کے مختلف شعبوں کے ماہرین کی بھر پور حوصلہ افزائی کی جس کے نتیجہ میں اس شہر نے علمی و فنی میدان میں کافی ترقی کی حیدرآباد کو جہاں باغوں کا شہر کہا جاتا تھا وہیں اسے ہندوستان کے ان چنندہ شہروں میں شامل ہونے کا اعزاز ہے جہاں کثیر تعداد میں کتب خانے ہیں ۔ جہاں تک کتب خانوں ( لائبریریوں ) کا سوال ہے ۔ دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد میں 90 سے زائد کتب خانے ہیں لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ اردو کے شہر میں واقع ان لائبریریوں میں اردو کتابیں تقریبا ندارد ہیں ۔ دلچسپی اور حیرت کی بات یہ ہے کہ شہر حیدرآباد کی 50 فیصد سے زائد آبادی اردو د اں ہے ۔ اس کے باوجود اردو کے ساتھ حکومت کا متعصبانہ رویہ کہئے یا اعلیٰ حکام اور خود اردو والوں کی مجرمانہ غفلت اکثر لائبریریوں میں اردو کتابیں موجود نہیں ہیں جب کہ پرانے شہر کے کتب خانوں میں جہاں تلگو پڑھنے والوں کی تعداد نہیں کے برابر ہے۔ تلگو کتب بھری ہوئی ہیں ۔ دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد کے مختلف کتب خانوں کا جائزہ لینے پر پتہ چلا کہ ایسے کتب خانے بھی ہیں جہاں اردو کتابوں کی تعداد 5 سے کم ہے ۔ اس طرح کی لائبریریوں میں باغ لنگم پلی ، بی ایس مقطعہ مدار ، گاندھی نگر ، نلہ کنٹہ ، نیو نلہ کنٹہ ، پی سنجیوا ریڈی نگر ، والمکی نگر شامل ہے ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ بیگم پیٹ لائبریری میں ایک بھی اردو کتاب نہیں رکھی گئی ہے ۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہندوستانیوں کو جنگ آزادی میں ’ انقلاب زندہ باد ‘ جیسا انقلابی نعرہ دینے والی اس زبان کی کتابیں رکھنے میں حیدرآباد سٹی گرندھالیہ سمیستھا (HCGS) کے عہدیداروں کو شرم آرہی ہے اور شرم کے مارے وہ اردو کتابوں کا اسٹاک نہ رکھتے ہوئے بے شرمی کا مظاہرہ کررہے ہیں ۔

اس معاملہ میں اردو والوں کو بھی خود کا محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے ۔ اردو کتب رکھوانے کے لیے خصوصی مہم چلانے کی شدید ضرورت ہے ۔ اس بات کا بھی پتہ چلا ہے کہ HCGS کو کتابوں کی فروخت کے لیے جو فنڈ جاری کیا جاتا ہے اس میں 50 فیصد تلگو ، 25 فیصد انگریزی اور 25 فیصد مختلف زبانوں بشمول اردو کتابوں کی خریدی کے لیے خرچ کیا جاتا ہے ۔ اس طرح صرف ایک ووٹ کی کمی سے ہندوستان کی سرکاری زبان بننے سے قاصر رہی اردو زبان کے ساتھ انتہائی تعصب برتا جارہا ہے ۔ سال 2013 میں یہاں ہدایات جاری کی گئی تھیں کہ اردو کی کتب کے لیے بجٹ کا صرف 2 فیصد حصہ خرچ کیا جائے ۔ شہر کے ممتاز آر ٹی آئی جہدکار ایس کیو مسعود نے آر ٹی آئی ایکٹ 2005 کے تحت سکریٹری حیدرآباد سٹی گراندھالیہ سمستھا اشوک نگر حیدرآباد سے کتب خانوں میں اردو کتابوں کی تعداد اور ان کی خریدی پر خرچ کی جانے والی رقم کے بارے میں معلومات حاصل کیں جس پر پتہ چلا کہ مالی سال 2010-2011 میں تلگو ، انگریزی ، ہندی اور اردو کی کوئی کتاب نہیں خریدی گئی جب کہ مالی سال 2011-2012 میں 25,92,412 روپئے تلگو کتابوں کی خرید پر خرچ کئے گئے اس سال انگریزی کی کتابوں کی خرید پر 19,86,425 روپئے صرف کئے گئے ۔ 1,03,397 روپئے ہندی کتابوں کی خریدی پر خرچ کئے گئے اور ریاست کی دوسری سرکاری زبان اردو کی کتابوں کی خریدی کے لیے 2,48,296 روپئے بڑی مشکل سے خرچ کئے گئے ۔ سال 2011-12 کے دوران کتب خانوں کے لیے کتابوں کی خریدی پر خرچ کی گئی مذکورہ رقم سے اندازہ ہوتا ہے کہ اردو کو جان بوجھ کر نظر انداز کیا جارہا ہے ۔

اب چلتے ہیں مالی سال 2012-13 کی طرف اُس سال تلگو کتابوں کی خریدی کے لیے 3879445 ، انگریزی کتابوں کے لیے 34,14,612 ، ہندی کتابوں کے لیے 86489 اور اردو کتابوں کے لیے صرف 77667 روپئے خرچ کئے گئے ۔ ان اعداد و شمار سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہر سال اردو کتابوں کی خریدی پر خرچ کی جانے والی رقم میں ارادتاً کمی کی جارہی ہے ۔ آرٹی آئی ایکٹ کے تحت داخل کردہ سوالات کے جو جوابات دئیے گئے ہیں ۔ اس بات سے پتہ چلا کہ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے کتب کی خریدی کے وسائل ( رقم ) فراہم کی جاتی ہے ۔ اس بات کا بھی انکشاف ہوا کہ ایسی برانچ لائبریریز جو ذاتی عمارتوں میں کام کررہی ہیں ۔ ان کی تعداد 69 اور کرائے کی عمارتوں و دیگر عمارتوں میں کام کررہی لائبریریوں کی تعداد بالترتیب 12 اور 5 ہے ۔ تمام لائبریریوں میں سے صرف 13 کتب خانوں میں برقی کی سہولت نہیں ہے ۔ بہرحال اردو کے ساتھ اس نا انصافی کو دور کرنے کے لیے کم از کم علحدہ ریاست تلنگانہ میں اردو والوں کو حرکت میں آنا چاہئے کیوں کہ زبان کے ساتھ قوموں کی شناخت مٹ جانے کے کئی عبرتناک واقعات ہمارے سامنے ہیں ۔۔
مختلف کتابوں میں اردو اور تلگو کتابوں کی تعداد
علاقہ تلگو اردو
اعظم پورہ 7551 1341
شاہ گنج 5253 951
عیدی بازار 7782 806
گولکنڈہ 14030 3997
کاروان 12688 2714
پیٹلہ برج 7751 589
رحمت نگر 7083 742
شیخ پیٹ 7390 523

TOPPOPULARRECENT