Friday , February 23 2018
Home / شہر کی خبریں / اردو کے شہر میں اردو سے دشمنی

اردو کے شہر میں اردو سے دشمنی

قلعہ کی تاریخ تلگو ، انگریزی اور ہندی میں موجود مگر اردو ندارد

قلعہ کی تاریخ تلگو ، انگریزی اور ہندی میں موجود مگر اردو ندارد
حیدرآباد ۔ 8 ۔ اگست : ( ابوایمل ) : اردو ایک ایسی میٹھی زبان ہے جو ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کی نمائندگی کرتی ہے ۔ اس زبان نے جہاں جدوجہد آزادی میں انقلاب زندہ باد جیسے نعروں کے ذریعہ قوم میں جذبہ آزادی کی مشعل روشنی کی جسے سن کر انگریزوں کے دلوں پر خوف طاری ہوجاتا تھا مگر آزادی کے بعد فرقہ پرست اور تعصب پسند طاقتیں اس زبان کے دشمن بن گئے اور اس زبان سے تعصب پسندی کا جو سلسلہ شروع ہوا وہ آج تک بدستور جاری ہے ۔ اس حقیقت کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ قلعہ گولکنڈہ جہاں تلنگانہ کے پہلے چیف منسٹر کے سی آر کی جانب سے یوم آزادی تقریب وہاں منانے کے اعلان کے بعد سرخیوں میں ہے ۔ گولکنڈہ کی تاریخی تختیاں صرف تلگو ، ہندی اور انگریزی زبانوں میں نصب کی گئی ہیں جو محکمہ آثار قدیمہ کے عہدیداروں کا لسانی تعصب اور اردو دشمنی کی عکاسی کرتا ہے ۔ حالانکہ حیدرآباد ملک بھر میں اردو کا دارالحکومت سمجھا جاتا ہے ۔ حکومت نے اس زبان کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دیاہے ۔ حیدرآباد میں سب سے زیادہ اردو زبان بولی اور سمجھی جاتی ہے ۔ سب سے زیادہ اردو اخبارات و رسائل حیدرآباد سے شائع ہوتے ہیں لیکن اسے تعصب اور اردو دشمنی نہیں تو اور کیا کہا جائے کہ متعلقہ عہدیداروں نے قلعہ گولکنڈہ کی تاریخی حیثیت اور اس کی داستان کو صرف تلگو انگریزی اور ہندی میں تحریر کیا ہے جب کہ اردو کو یکسر نظر انداز کردیا گیا ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ لسانی کمیشن اور حکومت اس تعصب پسندی کا سخت نوٹ لے اور محکمہ آثار قدیمہ کو فوری طور پر اس بات کا پابند بنائیں کہ وہ قلعہ گولکنڈہ کی تاریخی تختی کو اردو زبان میں بھی نصب کرے ۔۔

TOPPOPULARRECENT