Saturday , January 20 2018
Home / شہر کی خبریں / اردو کے شہر میں اردو کا جنازہ

اردو کے شہر میں اردو کا جنازہ

موبائیل ٹائیلٹ پر اردو کا غلط ترجمہ ، جی ایچ ایم سی کی بے حسی آشکار

موبائیل ٹائیلٹ پر اردو کا غلط ترجمہ ، جی ایچ ایم سی کی بے حسی آشکار
حیدرآباد ۔ 17 ۔ نومبر : ( سیاست نیوز ) : حکومت تلنگانہ کی جانب سے ریاست میں اردو کو مستحقہ مقام کی فراہمی اور یقینی بنانے کے اعلانات کئے جارہے ہیں لیکن ریاست کے دارالحکومت کی صاف صفائی و نگہداشت کا نگران ادارہ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد اردو کو مضحکہ خیز انداز میں پیش کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھا ہوا ہے ۔ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد میں نہ صرف اعلی عہدے پر اردو داں شخص موجود ہے بلکہ بلدی کونسل میں موجود منتخبہ و نامزد نمائندوں میں 50 سے زائد اردو داں افراد ہیں اس کے باوجود مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد میں اردو کا جنازہ نکالا جارہا ہے ۔ مجلس بلدیہ عظیم حیدرآباد نے شہر میں سڑکوں کے کنارے رفع حاجت کے سلسلہ کو بند کرنے کے لیے موبائیل ٹائیلٹ / یورینل کی تنصیب عمل میں لانے کا آغاز کیا ہے ۔ فی الحال شہر کی بعض سڑکوں پر یہ موبائیل یورینلس نصب کئے گئے ہیں ان موبائیل یورینلس پر جو تحریر ہے وہ نہ صرف انگریزی اور تلگو میں ہے بلکہ اردو زبان میں بھی تحریر موجود ہے مگر جو کچھ اردو زبان میں لکھا گیا ہے وہ اس کا مترجم ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ آخر کہنا کیا چاہتا ہے ۔ ان موبائیل یورینلس پر انگریزی تحریر Men’s Urinals – Free Usage ہے جب کہ تلگو میں ’ پروشولہ موترشالہ ۔ اُچت اپیوگم ‘ تحریر کیا ہوا ہے اور جب اردو کی تحریر پڑھی جائے تو جو کچھ لکھا ہوا ہے اسے اردو زبان کے ہمراہ بدترین مذاق قرار دیا جاسکتا ہے ۔ مذکورہ تحریروں کا جو اردو ترجمہ کیا گیا ہے وہ حسب ذیل ہے ’’ مردوں کے تبدیل کرنے چٹائی ۔ مفت استعمال ‘‘ اردو کے شہر میں اردو کے ساتھ اس طرح کا مذاق ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دانستہ طور پر کیا گیا ہے ۔ مئیر مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد مسٹر ماجد حسین کے علاوہ دیگر منتخبہ بلدی نمائندوں کو چاہئے کہ وہ اس طرح کا ترجمہ کرنے والے مترجم یا کمپنی کے خلاف کارروائی کو یقینی بنائیں ۔۔

TOPPOPULARRECENT