Saturday , June 23 2018
Home / شہر کی خبریں / اردو کے نام پر قائم تاریخی سٹی کالج میں اردو سے دشمنی

اردو کے نام پر قائم تاریخی سٹی کالج میں اردو سے دشمنی

حیدرآباد ۔ 13 ۔ اگست : گورنمنٹ سٹی کالج حیدرآباد کا شمار نہ صرف حیدرآباد بلکہ ملک کے قدیم ترین تعلیمی اداروں میں ہوتاہے ۔ اس کالج سے کئی چیف منسٹرس ، اہم سیاستداں وائس چانسلرس ، ڈاکٹرس ، انجینئرس ، مشہور و معروف قانون داں ، مایہ ناز ادیب و شعراء ، اولمپین اور کھلاڑیوں نے تعلیم حاصل کی ۔ فن تعمیر کے لحاظ سے بھی ہمارے ملک کے کئی تعلیمی ادارے گورنمنٹ سٹی کالج کی خوبصورت عمارت کا مقابلہ نہیں کرسکتے ۔ آصف سابع نواب میر عثمان علی خاں بہادر کے دور میں 8,36,913 روپئے کے مصارف سے اس تین منزلہ کالج کی تعمیر عمل میں آئی تھی اور ایک اسکول سے ترقی کرتے ہوئے یہ اب ایسے کالج میں تبدیل ہوچکا ہے جہاں انٹر میڈیٹ سے لے کر پوسٹ گریجویشن کی سطح تک تعلیم کا انتظام ہے ۔ جیسا کہ ہم نے کہا کہ اس کالج سے اپنے وقت کی کئی مشہور ہستیوں نے استفادہ کیا اور اس اردو میڈیم کالج میں تعلیم حاصل کرنے کو لوگ باعث فخر سمجھا کرتے تھے ۔ لیکن افسوس کے ایک اردو میڈیم اسکول کی حیثیت سے شروع ہوئے اس کالج میں اب اردو سے ہی دشمنی کی جانے لگی ہے اسی طرح عربی کے ساتھ بھی تعصب برتا جارہا ہے ۔

انٹر میڈیٹ میں داخلہ لینے والے طلبہ کو زبان دوم کی حیثیت سے اردو اور عربی کی بجائے ہندی لینے پر مجبور کیا جارہا ہے ۔ اس ضمن میں طلبہ اور اولیائے طلبہ کی ایک کثیر تعداد نے دفتر سیاست پر پہنچ کر بتایا کہ کالج میں اردو میڈیم کافی عرصہ قبل برخواست ہوچکا ہے وہاں انگریزی اور تلگو میڈیم میں تعلیم دی جاتی ہے ۔ سٹی جونیر کالج میں 90 فیصد مسلم طلبہ ہیں جو غریب اور متوسط خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں ۔ وٹے پلی ، شاہین نگر ، فلک نما ، عیدی بازار ، بابا نگر ، چندرائن گٹہ ، حسن نگر ، کاروان ، آصف نگر ، جھرہ ، ٹپہ چبوترہ وغیرہ سے طلبہ اس کالج کو آتے ہیں ۔ طلبہ اور اولیائے طلبہ کا کہنا ہے کہ انٹر میڈیٹ داخلہ کے آن لائن ڈاٹا کی کل 14 اگست کو آخری تاریخ ہے جب کہ ایس ایس سی سپلیمنٹری امتحان میں کامیاب طلبہ کو آج کی تاریح تک میموز اور ٹرانسفر سرٹیفیکٹس موصول نہیں ہوئے ۔ جس کے باعث وہ داخلہ سے محروم رہیں گے ۔ ان حالات میں سکریٹری بورڈ آف انٹر میڈیٹ کو چاہئے کہ اس طرح کے طلبہ کو کچھ مہلت دی جائے ۔ جہاں تک سٹی کالج کے انٹر میڈیٹ سال اول کے طلبہ کا سوال ہے ۔ ان لوگوں کی شکایت ہے کہ وہ زبان دوم کی حیثیت سے اردو اور عربی لینے کے خواہاں ہیں ۔ لیکن ہندی کے ایک لکچرر طلبہ پر عربی اور اردو کی بجائے ہندی لینے پر دباؤ ڈال رہے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ ایس ایس سی میں چونکہ زبان دوم ہندی تھی ۔ انٹر میڈیٹ میں طلبہ کے لیے کوئی پابندی نہیں ہے وہ اپنی پسند سے زبان دوم کا انتخاب کرسکتے ہیں ۔

اس سلسلہ میں راقم الحروف نے ریجنل انسپکشن آفیسر ٹی روی کمار سے فون پر ربط کیا پہلے تو وہ ٹال مٹول کرتے رہے اور دوبارہ فون کرنے پر ایسا لگا کہ میڈیا کا نام سن کر انپر خوف طاری ہوگیا اور ہیبت کے مارے وہ فون ریسور نہیں کیے ۔ طلبہ کے مطابق وہ دور دراز سے آتے ہیں ایسے میں اگر 5 منٹ کی بھی تاخیر ہوتی ہے تو کالج میں داخل ہونے نہیں دیا جاتا ۔ اس طرح جان بوجھ کر ان کا سارا دن خراب کیا جاتاہے ۔ انٹر میڈیٹ سال دوم کے طلبہ کی شکایت ہے کہ ان سے سال دوم کی کالجس فیس لینے میں ٹامل مٹول سے کام لیا جارہا ہے کیوں کہ اگر یہ فیس نہ لی جائے تو سال دوم میں داخلہ ہی باقی نہیں رہتا ۔ اس طرح یہ طلبہ سال دوم کے امتحانات نہیں لکھ سکتے ۔ اس بارے میں طلبہ کا کہنا ہے کہ انٹر میڈیٹ سال اول میں بعض مضامین میں ناکامی کا بہانہ بنایا جارہا ہے حالانکہ حقیقت میں مسلم طلبہ کو ہراساں کرنے اور انہیں تعلیم سے محروم رکھنے کا ایک طریقہ ہے ۔ ڈگری کالج میں بھی طلبہ کے ساتھ امتیازی رویہ برتے جانے کی شکایات عام ہیں ۔ رمضان المبارک کے دوران این سی سی کے مسلم طلباء کو کوئی رعایت نہیں دی گئی ۔ نتیجہ میں کم از کم 10 مسلم طلباء نے خود کو این سی سی سے دستبردار کرالیا ۔ ڈپٹی چیف منسٹر محمود علی چونکہ کے سی آر حکومت میں واحد مسلم نمائندہ ہیں انہیں اس بارے میں توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT