Monday , November 20 2017
Home / مضامین / اردو ہے کس کا نام سب ہی جانتے ہیں آج

اردو ہے کس کا نام سب ہی جانتے ہیں آج

کے این واصف
’’اردو ہے جس کا نام سبھی جانتے ہیں داغ‘‘ ۔ حضرت داغ نے جب یہ بات کہی تھی تب واقعی ہندوستان میں اردو کی دھوم تھی ، لیکن اب وہ زمانے لد گئے ۔ آج تو یوں کہنا مناسب لگ رہا ہے کہ
چرچا بہت سنا تھا کسی دور میں مگر
اردو ہے کس کا نام سب ہی جانتے ہیں آج
کیونکہ آج اردو بولی تو بہت جاتی ہے لیکن لکھی اور پڑھی کم جاتی ہے ، اردو ہے اس کا نام جسے خود اردو والوں نے برتنا چھوڑ دیا ، اردو ہے اس کا نام جسے خود اردو والوں نے اپنی زندگی سے نکال دیا ، اردو ہے اس کا نام جس کے بولنے والوں کو اس کی بقاء و فنا سے کوئی سروکار نہیں رہا وغیرہ ۔ دور حاضر میں اردو بولنے والوں کی تعداد میں اضافہ ضرور ہوا ہے ۔ اگر بولنے والوں کی تعداد کو مان کر چلیں تو ظاہر ہے اس کی دھوم میں بھی ضرور اضافہ ہوا ہے ، مگر اردو بولنے والوں کی اس بڑی تعداد میں 75 فیصد لوگ وہ ہیں ، جو اردو پڑھنے ، لکھنے سے نابلد ہیں اور جو زبان بولی جاتی ہے اس میں تلفظ کی غلطیاں ، نیز اس کا ہر تیسرا لفظ انگریزی کا ہوتا ہے ۔ اردو کی حالت زار پر لکھا بھی جاتا ہے ، جلسوں اور سمینارز میں اس پر مقالے پڑھے جاتے ہیں ، دردمندان اور محبان اردو کی نجی بیٹھکوں اور محافل میں زبان کی اس حالت زار پر تشویش کا اظہار بھی کیا جاتا ہے ۔ مگر نتیجہ صفر ۔ ہفتہ کے روز ریاض کی ایک بڑی تقریب میں بھی اردو کی اس حالت زار پر بہت سنجیدہ گفتگو ہوئی ۔ حالانکہ اس محفل کے انعقاد کا مقصد اردو کی حالت زار بقا یا ترقی و ترویج نہیں تھا۔ یہ شاندار محفل بزم اردو ٹوسٹ ماسٹرز کلب نے اپنے گولڈن جوبلی اجلاس کے طور پر منعقد کی تھی ۔ اردو ٹوسٹ ماسٹرز کلب ہندوستانی بزم اردو ریاض کی ذیلی انجمن ہے ۔ جس کے تحت ہر ماہ دو مرتبہ اجلاس  منعقد کئے جاتے ہیں ، جس میں شخصیت سازی کی جاتی ہے ۔ یعنی کلب کے اراکین میں اردو میں تقریری صلاحیت پیدا کی جاتی ہے ۔اس ہفتہ کلب نے اپنے 50 اجلاس مکمل کئے اور ہفتے کے روز اس کے گولڈن جوبلی اجلاس کی تقریب کا انعقاد عمل میں آیا ۔

اس اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر سعید نواز نے کہا کہ یہ ہمارا عام مشاہدہ ہے کہ اردو کی محفلوں میں کہا جاتا ہے کہ اردو زندہ جاوید زبان ، گنگا جمنی تہذیب کی نمائندہ ہے ۔ یہ زبان کبھی مٹ نہیں سکتی وغیرہ وغیرہ ۔انھوں نے کہا کہ ہندوستان کے تناظر میں یہ دعوی بے بنیاد نظر آتا ہے۔ اس قسم کے دعوے عام طور پر اردو کے اجتماعات میں سیاسی لیڈرز یا اعلی عہدیدار کرتے ہیں ۔ جن کا زبان کے تعلق سے کوئی معلومات یا مطالعہ نہیں ہوتا ۔ یا وہ صرف اردو کے مسائل سے دامن بچانے کیلئے اس طرح کے خوش کن جملے کہہ دیتے ہیں ۔ مگر یہ مسئلہ واقعی بڑا سنگین ہے ۔ اور اس مسئلہ کے حل کیلئے قائدین ، اکابرین ، اہل اقتدار سے لیکر عام اردو والے تک کوئی اپنا حق ادا نہیں کرتا ۔ ڈاکٹر سعید نواز نے کہا کہ زبان ہمارا ورثہ ہے ،جو ایک نسل سے دوسری نسل میں منتقل ہوتا ہے یا ہونا چاہئے اور جب یہ نسل در نسل منتقلی کا سلسلہ کمزور پڑجاتا ہے یا ٹوٹ جاتا ہے تو یہ عمل رک جاتا ہے ۔ جس سے اگلی نسلیں ذہنی طور پر قلاش اور تہذیبی طور پر کنگال ہو کر رہ جاتی ہیں ۔ اور یہی ہماری زبان کے ساتھ اب ہورہا ہے ۔ اردو کی نامور ہستیاں اور بڑے بڑے دانشور اپنی عمر طویل کو پہنچ رہے ہیں ۔ ان کے کوچ کرجانے سے ہماری زبان دانشوری سے محروم ہوجائے گی ۔ کیونکہ بڑی شخصیات کے گزر جانے سے جو خلاء پیدا ہورہا ہے ، وہ پُر نہیں ہورہا ہے ۔ نئے چراغ روشن نہیں ہورہے ہیں اور ایک ایک کرکے پرانے چراغ گل ہورہے ہیں ۔ ڈاکٹر سعید نے کہا کہ مجھے یہ دیکھ کر دکھ ہوتا ہے کہ ہمارے نوجوان Whatsapp اور ای میل پر رومن انگلش میں اپنے پیامات بھیجتے ہیں ۔ یعنی ہماری اس نسل نے اردو سے ناطہ توڑ لیا ، مگر وہ انگریزی کی بھی نہ ہوسکی ۔ یہ ایک ایسی نسل ہے جس کی اپنی کوئی زبان نہیں جس پر وہ قدرت رکھتے ہیں ۔ یعنی یہ نسل ایک گونگی نسل کی طرح ہے ۔ کیونکہ زبان جاننے کے معنی اس زبان میں لکھنے پڑھنے کی اہلیت ہے ۔ وہ اس کے ادب سے واقف ہوں وغیرہ ۔ زبان صرف اظہار خیال یا عام بول چال کا ذریعہ نہیں ، بلکہ زبان ایک تہذیب بھی ہوتی ہے اور اگر زبان سے واقفیت ہوگی تو اس کی تہذیب سے بھی واقفیت ہوگی ۔

پیشے سے میڈیکل ڈاکٹر (ماہر تغذیہ) ایک اچھے شاعر و وسیع المطالعہ شخصیت سعید نواز نے اپنے خطاب میں اردو کی موجودہ حقیقی تصویر پیش کی اور اس کی بقا و ترقی کی کچھ تجاویز بھی پیش کیں ۔ اور مسائل کے حل بھی بتائے جبکہ اردو سے متعلق تفصیلی گفتگو سفارت کار ، محب اردو اور ادب پر گہری نظر رکھنے والے ڈاکٹر حفظ الرحمن نے کی ، لیکن ان کا نقطۂ نظر مختلف تھا ۔
ڈاکٹر حفظ الرحمن نے کہا کہ کسی زبان کا ادب ہی اصل زبان ہوتا ہے ۔ یعنی اگر آپ صرف زبان بولتے ہیں لیکن اس کے ادب سے ناواقف ہیں تو یوں سمجھئے کہ زبان سے واقف نہیں ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ وہ سعید نواز کی بات سے اتفاق رکھتے بھی ہیں اور کچھ حد تک اختلاف بھی ۔ انھوں نے کہا کہ اردو کی محافل میں اگر مقررین کچھ مبالغہ آرائی سے کام لیتے وہ محفل کی مانگ ہوتی ہے ۔ مگر یہ بھی سچ ہے کہ اردو ماضی میں ایک مقبول ترین زبان رہی ہے ۔ یہ اس کی تاریخ میں درج ہے ۔ ڈاکٹر رحمن نے کہا کہ اردو والوں میں دو گروپس ہیں ۔ ایک گروپ وہ ہے جس کی تعداد کافی بڑی ہے وہ ہمیشہ یہ کہتی رہتی ہے کہ اردو کو اس کا حق نہیں مل رہا ہے ۔ اس کے ہاں ایک مایوسی اور عدم اطمینان کی کیفیت ملتی ہے ۔ انھوں نے کہا کہ اردو کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے تو پھر وہ یہ کیوں نہیں دیکھتے کہ حکومتوں نے اردواکیڈیمیاں قائم کرکے اس کی ترقی و ترویج کا اہتمام بھی کیا ۔ ان کے لئے کروڑہا روپے کی گرانٹ جاری کی ۔ ان اکیڈیمیوں کو چلانے کی پوری ذمہ داری اردو والوں کے ہاتھ میں رکھی ۔ اب یہ ان کا کام تھا جنہیں اکیڈیموں کا ذمہ دار بنایا گیا کہ وہ حکومت کے فنڈز کا جائز استعمال کرتے ۔ اس کا ایک ایک پیسہ زبان کی ترقی و ترویج میں لگاتے ۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں اس مزاج کو بدلنا چاہئے کہ ساری ذمہ داری دوسروں پر ڈال کر خود بری الذمہ ہوجائیں اور شکایتیں اور اعتراضات کا دفتر کھول کر بیٹھ جائیں ۔ ہمیں اس Blame game سے احتراز کرنا چاہئے ۔ اس سے کسی کو کچھ حاصل نہیں ہوتا ۔ ہمیں اپنی کوتاہیاں دور کرنی چاہئے ۔
ہندوستانی بزم اردو ریاض کی ستائش کرتے ہوئے ڈاکٹر حفظ الرحمن نے کہا کہ ہندوستانی بزم اردو جس طرح اردو کی ترقی و ترویج کے سلسلے میں کام کررہی ہے اس طرح کا کام ہر طرف ہونا چاہئے ۔ انھوں نے کہا کہ اردو نہ تو میری دفتری زبان ہے نہ میں نے اس کی باضابطہ تعلیم حاصل کی ہے ۔ یہ صرف میری مادری زبان ہے ۔ میں اس کے پڑھنے میں تسلی و سکون محسوس کرتا ہوں ۔ انھوں نے کہا کہ میں نے اپنے بچوں کو بھی اردو پڑھائی ہے ۔ ڈاکٹر حفظ الرحمن نے کہا کہ اردو کا بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے اس کا برتنا ترک کردیا ۔ ہمیں چاہئے کہ ہم روزمرہ زندگی میں اسے برتیں ، ممکنہ حد تک اس کو استعمال میں رکھیں ۔ شکوہ و شکایتیں بند کرکے ہر شخص اپنے حصہ کا چراغ جلائے تو اردو دنیا پھر سے روشن ہوگی اور اس کی آب و تاب واپس آنا مشکل نہیں ۔

ان دونوں محبان اردو نے الگ الگ زاویہ سے اپنی بات رکھی اور اہل اردو کو جگانے بلکہ جھنجھوڑنے کی کوشش کی ۔ ان کی باتوں کا اصل نکتہ انفرادی مسائل اور اپنے حصہ کا چراغ روشن کرنا تھا ۔ ہماری انفرادی ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے بچوں کو اردو سکھائیں ۔ اپنے گھروں میں اردو کا ماحول بنائے رکھنے کی کوشش کریں ۔ ہر شخص اپنے علاقہ میں شائع ہونے والے ایک اخبار کے خریدنے کا اہتمام کرے ۔ متمول حضرات رسائل اور اردو کی کتابیں خرید کر پڑھیں ۔ یہ سچ ہے کہ بڑی حد تک روزگار سے اردو کا ناطہ ٹوٹ گیا ہے ، مگر پھر بھی ایک بڑی تعداد آج بھی اردو کی روٹی کھاتی ہے ۔ اگر آپ اپنی زبان کا ٹیکس سمجھ کر ہر روز ایک اردو اخبار خریدیں تو اردو کی کایا پلٹ ہوسکتی ہے ۔ اخبار و رسائل کی تعداد اشاعت میں اضافہ اور زبان کی اہمیت میں اضافہ ہوسکتا ہے ۔ اخبار کی آواز عوام کی آواز ہوتی ہے ۔ بڑی تعداد کی آواز بھی بلند ہوگی اور طاقتور آواز اقتدار کے ایوانوں کو ہلاسکتی ہے ۔ ملیالم زبان کی بقا و کامیابی کا یہی راز ہے ۔

گولڈن جوبلی اجلاس کی ابتداء حافظ و قاری علیم الدین کے تلاوت کلام پاک سے ہوئی ۔ ناظم اجلاس محمد شہباز فاروقی کے ابتدائی کلمات کے بعد کلب کے صدر انجینئر عبدالحمید اور کلب کے بانی ایم اے آر سلیم نے مخاطب کیا ۔ دونوں نے کلب کے اغراض و مقاصد پر تفصیلی روشنی ڈالی اور اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ بزم کی لاکھ کوشش کے باوجود اہل اردو خصوصاً نوجوان اپنے آپ کو نہ اس بزم سے جوڑرہے ہیں  ، نہ اردو کی ترقی و ترویج کی کوششوں کا حصہ بن رہے ہیں ، نہ اردو سیکھنے کی طرف مائل ہیں ۔ اس کے علاوہ کلب کے سرگرم رکن تقی الدین میر نے اپنی بذلہ سنجی اور پرمزاح تقریر سے محفل کو زعفران زار کیا ۔ آخر میں اس موقع پر مہمان خصوصی ڈاکٹر حفظ الرحمن اور بزم کے دیگر اراکین کو ان کی خدمات کے اعتراف میں یادگاری مومنٹوز دئے گئے  ۔ ان مومنٹوز حاصل کرنے والوں میں محمد مبین  ،تقی الدین میر ، ایم اے رسول ، نواز الدین ، ضیاء الحق ، حامد ، ڈاکٹر سعید محی الدین ، عبدالقدوس جاوید ، سلطان مظہر الدین شامل تھے ۔ اس محفل میں ریاض کی سماجی تنظیموں کے اراکین اور انڈین کمیونٹی کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی ۔ محمد شہباز فاروقی کے ہدیہ تشکر پر اس پروقار محفل کا اختتام عمل میں آیا ۔

TOPPOPULARRECENT