Tuesday , January 23 2018
Home / شہر کی خبریں / اردو یونیورسٹی میں مقامی افراد نظر انداز، شمالی ہند کا غلبہ

اردو یونیورسٹی میں مقامی افراد نظر انداز، شمالی ہند کا غلبہ

سیلف ڈیکلریشن کی بنیاد پر مقامی تسلیم کرنے کی شکایت،اگزیکیٹیو کونسل اجلاس پر لاکھوں روپئے کا بھاری خرچ

سیلف ڈیکلریشن کی بنیاد پر مقامی تسلیم کرنے کی شکایت،اگزیکیٹیو کونسل اجلاس پر لاکھوں روپئے کا بھاری خرچ
حیدرآباد ۔20 ۔ اپریل (سیاست نیوز) مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی نے ٹیچنگ اور نان ٹیچنگ اسٹاف کے تقررات میں مقامی افراد کو یکسر نظرانداز کردیا جبکہ دیگر ریاستوں سے تعلق رکھنے والے افراد خود کو مقامی ظاہر کرتے ہوئے یونیورسٹی پر حکمرانی کر رہے ہیں۔ یونیورسٹی کے موجودہ ٹیچنگ اور نان ٹیچنگ اسٹاف کے بارے میں سیاست کو جو تفصیلات حاصل ہوئی ہیں، اس کے مطابق ہر وائس چانسلر نے اپنی ریاست سے تعلق رکھنے والوں اور خاص طور پر اپنے قریبی افراد کو تقررات میں دوسروں پر ترجیح دی۔ اگرچہ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی یقیناً قومی یونیورسٹی ہے اور اس میں کسی بھی ریاست سے تعلق رکھنے والے افراد کا تقرر کیا جاسکتا ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ کیا ہر شعبہ میں اہل اور قابل افراد صرف انہی ریاست سے تعلق کیوں رکھتے ہیں جہاں سے وائس چانسلر کا تعلق ہے۔ کیا تلنگانہ اور آندھراپردیش میں اہل اور قابل افراد کی کمی ہے کہ دیگر ریاستوں کو ترجیح دی گئی۔ اردو یونیورسٹی کی جانب سے حاصل کی گئی تفصیلات کے مطابق ٹیچنگ اور نان ٹیچنگ افراد میں بظاہر تلنگانہ اور آندھراپردیش سے تعلق رکھنے والوں کی تعداد کو زائد دکھایا گیا ہے لیکن ان اعداد و شمار پر اعتبار کرنا مشکل ہے۔ تحقیقات پر پتہ چلا کہ یونیورسٹی کی جانب سے بے قاعدگیوں اور قواعد کی خلاف ورزی سے متعلق احتجاج اور میڈیا میں انکشاف کے بعد اعلیٰ حکام نے یہ فہرست تیار کی جس میں غیر مقامی افراد کو بھی مقامی ثابت کرنے کی کوشش کی گئی تاکہ حیدرآباد اور تلنگانہ کے عوام میں یہ تاثر پیدا ہو کہ تقررات میں اکثریت مقامی افراد کی ہے۔ ٹیچنگ اسٹاف کی جملہ تعداد 364 بتائی گئی جس میں تلنگانہ اور آندھراپردیش کی تعداد 142 بتائی جارہی ہے جبکہ اترپردیش 70 افراد کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے اور بہار 59 کے ساتھ تیسرے اور کرناٹک 20 افراد کے ساتھ چوتھے نمبر ہے۔ دہلی سے تعلق رکھنے والے 24 افراد ٹیچنگ اسٹاف میں شامل ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اب تک جو بھی وائس چانسلر گزرے ہیں ، ان کا تعلق انہی ریاستوں سے رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یونیورسٹی پر شمالی ہند سے تعلق رکھنے والے افراد کا غلبہ ہے اور تمام اہم عہدوں پر یہی لوگ فائز ہیں۔ کیا تلنگانہ میں قابل اور اہل افراد کی کمی ہے جو ان عہدوں پر مامور کئے جاسکیں۔ نان ٹیچنگ اسٹاف میں جملہ تعداد 361 کے منجملہ تلنگانہ کے 132 اور آندھراپردیش کے 32 ظاہر کئے گئے جبکہ بہار سے تعلق رکھنے والوں کی تعداد 58 ، کرناٹک 28 اور اترپردیش 29 شامل ہیں جبکہ دہلی سے تعلق رکھنے والوں کی تعداد 15 ہیں۔ تحقیقات پر پتہ چلا کہ ٹیچنگ اور نان ٹیچنگ میں سیلف ڈیکلریشن کی بنیاد پر یونیورسٹی نے غیر مقامی افراد کو بھی مقامی ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ سرکاری اداروں اور خاص طور پر یونیورسٹیز میں مقامی اور غیر مقامی کے تعین کیلئے شرائط موجود ہیں لیکن حیرت ہے کہ قومی یونیورسٹی نے سیلف ڈیکلریشن کی بنیاد پر مقامی اور غیر مقامی کا تعین کردیا تاکہ حیدرآباد اور تلنگانہ والوں کی ناراضگی سے بچا جاسکے۔ بہار ، اترپردیش اور دہلی سے تعلق رکھنے والوں نے بھی خود کو مقامی ثابت کرتے ہوئے سیلف ڈیکلریشن داخل کردیا جسے یونیورسٹی نے قبول کرلیا۔ ظاہر ہے کہ جب یونیورسٹی پر شمالی ہند کا قبضہ ہو تو پھر شمالی ہند والوں کا تحفظ کسی بھی صورت کیا جائے گا ۔ کسی بھی شخص کے مقامی ہونے کیلئے عام طور پر سرکاری اداروں میں جن شرائط کو بنیاد بنایا جاتا ہے، ان میں چوتھی تا دسویں جماعت تک تعلیم یا پھر آخری پانچ سال کی تعلیم سے متعلق تفصیلات شامل ہوتی ہیں۔ اگر کسی نے پی ایچ ڈی کی تکمیل کی تو اس کے آخری پانچ سال کی تعلیم کی بنیاد پر مقامی یا غیر مقامی ہونے کا تعین کیا جاتا ہے لیکن یونیورسٹی نے صرف حیدرآباد میں قیام کو بنیاد بناکر بیرون ریاست سے تعلق رکھنے والوں کو مقامی افراد کی فہرست میں شامل کردیا۔ اسی دوران یونیورسٹی کی جانب سے شاہ خرچی اور بجٹ کے بیجا استعمال کی ایک اور مثال سامنے آئی ہے۔ بتایا جاتاہے کہ 28 فروری کو ممبئی میں یونیورسٹی کی اگزیکیٹیو کونسل کا اجلاس منعقد کیا گیا تھا، یہ اجلاس فائیو اسٹار ہوٹل میں رکھا گیا جس کے اخراجات لاکھوں روپئے ہوئے ہیں۔ یونیورسٹی کے اگزیکیٹیو کونسل ارکان کی تعداد 15 ہوتی ہے جن میں 4 یونیورسٹی کے وزیٹر یعنی صدر جمہوریہ کے نامزد کردہ ہوتے ہیں۔ اگزیکیٹیو کونسل کا اجلاس سال میں دو مرتبہ منعقد ہونا لازمی ہے یا پھر ضرورت اور مسئلہ کی اہمیت کے اعتبار سے درمیان میں بھی اجلاس طلب کیا جاسکتا ہے ۔ ممبئی میں اجلاس کے انعقاد کے بارے میں جب یونیورسٹی کے میڈیا اڈوائیزر ایوب علی خاں سے دریافت کیا گیا کہ تو انہوں نے وضاحت کی کہ ممبئی سے تعلق رکھنے والے بعض ارکان جیسے جاوید اختر ، ندا فاضلی اور دوسروں کی خرابی صحت اور حیدرآباد میں اجلاس کے انعقاد کی صورت میں عدم شرکت کے اندیشے کو دیکھتے ہوئے فروری کو اجلاس ممبئی میں رکھا گیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ کونسل کا آئندہ اجلاس حیدرآباد میں ہی ہوگا اور اس وقت ارکان کی عدم شرکت کے بجائے کورم کی تکمیل کو اہمیت دی جائے گی۔ اگر کورم مکمل ہوجائے تو حیدرآباد میں ہی اجلاس منعقد ہوگا۔ تاہم انہوں نے ممبئی کے اجلاس کے اخراجات کے بارے میں کچھ بھی کہنے سے گریز کیا۔ اردو کی ترقی اور ترویج کے مقصد سے قائم کردہ یونیورسٹی کی جانب سے صرف اجلاسوں پر لاکھوں روپئے کا خرچ باعث حیرت ہے جبکہ اگزیکیٹیو کونسل میں صرف انتظامی امور سے متعلق ہی فیصلے کئے جاتے ہیں جس کا تعلق اردو کی ترقی اور ترویج سے کم ہی ہوتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT