Friday , January 19 2018
Home / شہر کی خبریں / اردو یونیورسٹی میں وائس چانسلر کا’’ اوور ٹائم‘‘ انتقامی کارروائیاں

اردو یونیورسٹی میں وائس چانسلر کا’’ اوور ٹائم‘‘ انتقامی کارروائیاں

ہر لمحہ مفادات کی تکمیل پر توجہ، اقتدار کا آج آخری دن،پی آر او کا اچانک تبادلہ

ہر لمحہ مفادات کی تکمیل پر توجہ، اقتدار کا آج آخری دن،پی آر او کا اچانک تبادلہ
حیدرآباد۔/12مئی،( سیاست نیوز) مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے وائس چانسلر اپنی میعاد کی تکمیل سے ایک دن قبل تک بھی اپنے مفادات کی تکمیل سے متعلق اُمور کی انجام دہی میں دن رات مصروف ہیں۔ وائس چانسلر اپنے پانچ سالہ دور کی بے قاعدگیوں اور بدعنوانیوں کی پردہ پوشی کیلئے کوشاں ہے تو دوسری طرف بے قاعدگیوں کے خلاف آواز اٹھانے والے افراد کے خلاف کارروائی کو منظوری دے دی۔ گزشتہ دو دن سے وائس چانسلر عملاً اوور ٹائم پر ہیں اور اتوار کے دن بھی انہوں نے یونیورسٹی کے انتظامی اُمور سے متعلق کئی اہم فیصلے کئے۔ 13مئی کو وائس چانسلر کی میعاد ختم ہوگی اور مرکز کی جانب سے میعاد میں توسیع کا کوئی امکان نظر نہیں آتا لہذا انہوں نے مابقی میعاد کا ہر لمحہ استعمال کرنے کی ٹھان لی ہے۔ وائس چانسلر نے 25اپریل کو یونیورسٹی کی ایکزیکیٹو کونسل اجلاس میں کئی اہم فیصلوں کی منظوری حاصل کی تھی۔ ’سیاست‘ نے ایکزیکیٹو کونسل کی منظوریوں کے سلسلہ میں جو انکشافات کئے تھے وہ صدفیصد درست ثابت ہوئے۔ بے قاعدگیوں کی نشاندہی کرنے والے دو افراد کے خلاف کارروائی کو ایکزیکیٹو کونسل سے منظوری حاصل کی گئی تھی اور انچارج رجسٹرار کے ذریعہ باقاعدہ احکامات جاری کردیئے گئے۔ بتایا جاتا ہے کہ وائس چانسلر نے اتوار کے باوجود 10مئی کو دو عہدیداروں کے خلاف کارروائی کو منظوری دی جن کی قبل ازیں ایکزیکیٹو کونسل سے منظوری حاصل کی گئی تھی۔انچارج رجسٹرار نے 11مئی کو کارروائی سے متعلق احکامات جاری کردیئے جو بذریعہ پوسٹ متعلقہ افراد کو موصول ہوئے۔ وائس چانسلر نے انتقامی جذبہ کے تحت ایک عہدیدار کو بیجا الزامات کے تحت ملازمت سے برطرف کردیا جبکہ ایک اسوسی ایٹ پروفیسر کے خلاف الزامات کی تحقیقات کیلئے کمیٹی قائم کی گئی۔ ان دونوں افراد کے معاملات ہائی کورٹ میں زیر دوران ہیں اور ہائی کورٹ نے ان کی درخواستوں کو سماعت کیلئے قبول کرتے ہوئے یونیورسٹی کو نوٹس جاری کی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ یونیورسٹی نے عدالت کی جانب سے حکم التواء جاری نہ کئے جانے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انتقامی کارروائی کی ہے۔ جن دونوں افراد پر سنگین الزامات عائد کئے گئے ان کا کوئی ٹھوس ثبوت یونیورسٹی کے پاس موجود نہیں لیکن دیگر افراد کی زبان بندی اور اپنی بے قاعدگیوں کو چھپانے کیلئے انہیں نشانہ بنایا گیا۔ ایک ریٹائرڈ سیشن جج کو تحقیقاتی افسر مقرر کرتے ہوئے اپنی مرضی مطابق رپورٹ حاصل کی گئی اور ایک عہدیدار کی برطرفی کا فیصلہ کیا گیا جبکہ دوسرے اسوسی ایٹ پروفیسر پر الزامات کی جانچ کیلئے مذکورہ ریٹائرڈ سیشن جج کو ہی تحقیقاتی افسر مقرر کیا گیا ہے۔ اس سے وائس چانسلر کے عزائم کا اندازہ ہوتا ہے۔ یونیورسٹی وائس چانسلر کی موقع پرستی اور مقاصد کی تکمیل کیلئے افراد کے استعمال کی اس سے بڑی مثال اور کیا ہوسکتی ہے کہ جس شخص کو ذریعہ بناکر کارروائی کی راہ ہموار کی گئی اسے کام کی تکمیل کے ساتھ ہی عہدہ سے معزول کردیا گیا۔ یونیورسٹی میں پبلک ریلیشن آفیسر ( پی آر او ) کی حیثیت سے خدمات انجام دینے والے شخص کا اچانک مرکز برائے اردو زبان و وثقافت میں تبادلہ کردیا گیا جبکہ پی آر او کا کام اور اس کی ذمہ داریوں کا اس مرکز سے کوئی واسطہ نہیں لیکن یہاں تو وائس چانسلر کو اپنے ’’ وزیر باتدبیر‘‘ میڈیا کوآرڈینیٹر کو مکمل اختیارات حوالے کرنا تھا اسی مقصد کی تکمیل کیلئے پی آر او کو راستہ سے ہٹادیا گیا اور اب میڈیا کوآرڈینیٹر یونیورسٹی پر مکمل کنٹرول حاصل کرچکے ہیں۔ ان کی یہ حکمرانی دیکھنا ہے کہ کیا 13مئی کے بعد بھی برقرار رہ پائے گی؟۔ واضح رہے کہ جس پی آر او کا بلااظہار وجوہ تبادلہ کردیا گیا اس سے تحریری شکایت حاصل کرتے ہوئے دو افراد کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا گیا۔ اپنی ملازمت بچانے کیلئے اس پی آر او نے تمام اخلاقی حدود پار کرتے ہوئے فرضی اور جھوٹے الزامات عائد کئے تھے جو آج تک ثابت نہیں کئے جاسکے۔ تاہم یونیورسٹی نے انہی الزامات کی بنیاد پر کارروائی کا آغاز کردیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ وائس چانسلر اور ان کے حواری مزید ایسے افراد کی تلاش میں ہیں جنہیں میعاد کی تکمیل سے قبل نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یونیورسٹی کے اسٹاف اور ہر سطح پر خوف و دہشت کا ماحول ہے۔ ایک اعلیٰ عہدیدار نے کہا کہ ہم 13مئی کے انتظار میں ہیں اور اس کے بعد ہی چین کی سانس لے پائیں گے۔

TOPPOPULARRECENT